ہارٹ اٹیک سے خواتین کی ہلاکت زیادہ
ہارٹ اٹیک سے دنیا بھر میں مرد و خواتین دونوں ہی بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں
اگرچہ ہارٹ اٹیک سے دنیا بھر میں مرد و خواتین دونوں ہی بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں۔لیکن امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بھر میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے مردوں کے مقابلے خواتین زیادہ ہلاک ہوتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کی زیادہ ہلاکتوں کی وجہ ’ہارٹ اٹیک‘ کا ہونا نہیں، بلکہ بر وقت طبی یا انسانی امداد کا نہ ملنا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے ماہرین کی نگرانی میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ میں ہارٹ اٹیک سے مرنے والی خواتین کی ہلاکت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ان کو عوامی مقامات پر دل کا دورہ پڑتا ہے تو لوگ خوف کی وجہ سے انہیں طبی ریلیف فراہم نہیں کرپاتے۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین نے امریکہ بھر کے 20 ہزار ’ہارٹ اٹیک‘ کیسز کا مطالعہ کیا، ان کیسز میں مرد و خواتین کے کیسز شامل تھے۔رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ بھر میں عوامی مقامات پر 45 فیصد مردوں کے مقابلے 39 فیصد خواتین کو دل کا دورا پڑتا ہے، لیکن عوام کی جانب سے مرد حضرات کو جلد ہی طبی یا انسانی ریلیف فراہم کیا جاتا ہے، جس سے 23 فیصد مرد زندگی کی بازی ہارنے سے بچ جاتے ہیں۔
اگرچہ ماہرین نے بروقت طبی یا انسانی امداد کے نہ ملنے کو زیادہ خواتین کی ہلاکت کا اکیلا سبب قرار نہیں دیا، لیکن انہوں نے اسے ایک اہم وجہ ضرور قرار دیا ہے۔ہارٹ اٹیک کیسز کا مطالعہ کرنے والی ماہرین کی ٹیم میں شامل ایک کارڈیولاجسٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عوامی مقامات پر دل کے دورے سے متاثرہ خواتین کو لوگ کئی اسباب کی وجہ سے ہاتھ لگانے یا ان کے سینے کو زور سے دبانے سے گریز کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکہ میں عوامی مقامات پر ہارٹ اٹیک سے متاثر ہونے والی خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے لوگ مدد کے لیے آگے کم آتے ہیں۔واضح رہے کہ ہارٹ اٹیک سے متاثرہ افراد کے سینے کو بروقت زور سے دبانے سے انہیں قدرے ریلیف ملتا ہے، اور اگر کسی عوامی مقام پر کوئی خاتون ہارٹ اٹیک سے متاثر ہو تو لوگ سماجی رکاوٹوں کے باعث اس کی مدد کے لیے کم ہی آگے بڑھتے ہیں۔



