سرورققومی خبریں

کانگریس ترجمان پون کھیڑا کو سپریم کورٹ سے راحت،گرفتاری پر 28 فروری تک روک، آسام اور یوپی حکومت کو نوٹس جاری

ضمانت کے بعد پون کھیڑا نے کہا،ہماری سچائی کی جدوجہد جاری رہے گی

نئی دہلی،23فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) آسام پولیس کی جانب سے گرفتار کئے جانے کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے بدھ کو کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا کو راحت دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستوں میں ان کے خلاف درج ایف آئی آرز کو یکجا کرنے کی درخواست پر آسام اور یوپی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس پی ایس نرسمہا پر مشتمل بنچ خصوصی طور پر 3 بجے اس معاملے کی سماعت کے لیے جمع ہوئی، جبکہ سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے دوپہر 2 بجے اس معاملہ کا تذکرہ کیا تھا۔پون کھیڑا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نازیبا تبصرہ کیا تھا، جبکہ پون کھیڑا کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت عظمیٰ میں کہا کہ پون کھیڑا نے جو بیان دیا تھا وہ زبان کا پھسلنا تھا اور انہوں نے فوری طور پر معذرت بھی کر لی تھی۔

خیال رہے کہ پون کھیڑا کو آج دہلی ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ہو کانگریس کنونشن میں شرکت کے لئے رائے پور روانہ ہونے والے تھے۔ ان کی گرفتاری پر کانگریس پارٹی نے سخت رد عمل ظاہر کیا اور پارٹی لیڈران نے ایئرپورٹ پر دھرنا بھی دیا۔ جبکہ سینئر لیڈران نے گرفتاری کو تاناشاہی قرار دیا۔ اس کے علاوہ کانگریس نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس پر آج ہی سماعت کی گئی۔عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ کھیڑا کو اگلے منگل (28 فروری) کی سماعت تک دہلی کے عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے پیشی پر عبوری ضمانت پر رہا کیا جائے۔ پون کھیڑا کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی کی طرف سے دیے گئے حلف نامے میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیان غیر مشروط معافی مانگنے کے لئے تیار ہیں۔

ضمانت کے بعد پون کھیڑا نے کہا،ہماری سچائی کی جدوجہد جاری رہے گی

نئی دہلی ،23فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کانگریس کے ترجمان پون کھیرا کو آسام پولیس نے جمعرات (23 فروری) کو دہلی سے رائے پور جاتے ہوئے جہاز سے اتارکر کے بعد گرفتار کر لیا۔ اس گرفتاری کے خلاف کانگریس سپریم کورٹ پہنچی۔ جہاں سے کھیڑا کوراحت ملی۔ عدالت نے نچلی عدالت کو عبوری ضمانت دینے کی ہدایت کی، اس کے بعد دہلی کی دوارکا کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی۔ضمانت ملنے کے بعد پون کھیڑا نے کہا کہ سچائی کے لیے کئی بار جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی کر رہا ہوں اور میرے لیڈر راہل گاندھی بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں ایف آئی آر اور نوٹس کی کاپی دیے بغیر ہوائی جہاز سے گرفتار کیا گیا۔

دراصل کھیڑا پر وزیر اعظم نریندر مودی کے والد کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنے کا الزام ہے۔ کھیڑا نے کہا کہ اسے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ مجھے انصاف پر یقین ہے جس کی وجہ سے آج میری آزادی محفوظ ہے۔ راہل گاندھی جس بے خوفی کے ساتھ آئینی اقدار کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں، میں اس میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب وہ کانگریس اجلاس کے لیے رائے پور جارہے ہیں۔سپریم کورٹ نے یوپی اور آسام حکومتوں کو نوٹس جاری کرکے کھیڑا کے خلاف درج کئی ایف آئی آر کو ایک جگہ منتقل کرنے کے بارے میں ان سے جواب طلب کیا ہے۔ مجسٹریٹ اسے عبوری ضمانت دے دیں۔

یہ حکم پیر (27 فروری) تک نافذ رہے گا۔ عدالت اس معاملہ کی اگلی سماعت 27 فروری کو کرے گی۔واضح ہو کہ پون کھیڑا حال ہی میں اڈانی گروپ کے معاملہ پر بات کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’’نریندر گوتم داس مودی‘‘ کہا۔ اس پر بی جے پی نے پی ایم مودی اور ان کے متوفی والد کا مذاق اڑانے کا الزام لگایا۔ خیال رہے کہ پی ایم نریندر مودی کا پورا نام نریندر دامودر داس مودی ہے،دامودرداس ان کے والد تھے۔ اس سلسلے میں آسام اور یوپی سمیت کئی مقامات پر کھیڑا کے خلاف ایف آئی درج کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button