جمہوری لبادے میں چھپا بادشاہ-ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان
انگریزوں کی غلامی سے قبل بھارت میں نظام حکومت بادشاہت پر مبنی تھا بادشاہت کا غلبہ کم و بیش آٹھ سو سالوں کا رہا
انگریزوں کی غلامی سے قبل بھارت میں نظام حکومت بادشاہت پر مبنی تھا بادشاہت کا غلبہ کم و بیش آٹھ سو سالوں کا رہا، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر جنہیں انگریزوں نے قید کر لیا نیز بھارت پر انگریزوں کا پرچم لہرایا گیا، بھارت غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا گیا تھا، دو صدیوں پر محیط انگیریزی غلامی بھارت کا مقدر رہی، انگریزوں کے دور اقتدار میں انگلستان میں سکونت اختیار کیے انگریز بادشاہ بھارت پر مسلط رہے، جہاں بھی انگریزوں کا اقتدار رہا وہ ملک انگلستان کی ملکہ کے زیر حکومت رہتا تھا، انگریزوں کے دور میں آر ایس ایس کا قیام ۱۹۲۵ میں ہوا، بہر کیف ۱۹۴۷ میں انگریز بھارت چھوڑ کر انگلستان چلے گئے، آزادی کے بعد ملک نے سیکولرازم کی جانب اپنا رخ کیا دستور کی تشکیل سیکولر بنیادوں کے تہی کی گئ، ملک کے حکمران عوامی انتخابات سے عوام کے ذریعے منتخب ہوکر حکومت سازی کے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں، ۱۹۸۰ کے دہائی تک ملک میں سیکولرازم مظبوط ستون بن کر اپنا قیام کر چکا تھا، آر ایس ایس نے اسی اثناء اپنی سیاسی جماعت کو واضح طور پر عوام کے روبرو پیش کیا جو آج ملک پر حاکم ہے۔
مذہبی جنونیوں کے ذریعے وقوع پذیر جماعت ملک میں سیکولرازم کے مخالف عمل پیرا رہی ہندوتوا کا نظریہ لیے سیاست میں اجاگر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا سیاسی کردار ہندوتوا کے فروغ کو پروان چڑھانے میں ادا کرتے رھے، بابری مسجد کو ھجومی تشدد کے ذریعے مسمار کردیا، بابری مسجد کو شہید کرنا حکمران جماعت کو قوت عطا کرگیا، کانگریس نام نہاد سیکولرازم کا بھرم رکھتے ہوئے خاموش تماشائی بنی رہی، نیز رفتہ رفتہ کانگریس جماعت اپنی ساکھ سیاست میں کھوتی چلی گئی ہر انتخابات میں حکمراں جماعت کانگریس سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں تواتر سے کامیاب ہوتی رہی، ملک کی اکثریت کو ہندوتوا کا ہامی بنانے میں کامیاب ہوگئے، بہر کیف ۲۰۱۴ کے انتخابی نتائج نے کانگریس ملک گیر سطح پر بری طرح شکست سے دوچار ہوئ، کانگریس کی منفی حکمت عملی نے کانگریس کو زوال پزیر کردیا۔
۲۰۱۴ کے انتخاب میں طاقت ور شخصیت نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا، سیکولرازم کا سفر ملک میں تاریکی کی جانب بڑھ گیا، وزیراعظم کے عہدے پر فائز موصوف نے اپنے اقتدار کے آٹھ سال مکمل کیے، گزشتہ آٹھ سالوں کا تجزیہ بتاتا ہے، بطور وزیراعظم حضرت ناکام ثابت ہوے، گو کہ عوام میں جناب کی مقبولیت کا معیار ہر گزرنے والے دن کے ساتھ عروج پر پہنچتا دیکھا گیا، ملک کی اکثریت وزیراعظم کی ہمنوا ہوتی چلی گئی، ۲۰۱۹ میں محترم اکثریت کے ساتھ دوبارہ ملک کے وزیراعظم بنے، وزیراعظم کا اولین دور نیز موجودہ دور مایوس کن کارکردگی میں گزرا اقتدار کے دوسرے سال نوٹ بندی کرکے ملک کی معیشت کو نست و نابود کر دیا، نتیجہ آج تک ملک میں معیشت استحکام کو نہیں بڑھی، غریبی نہ جانے والے مہمان کی طرح ہر گھر میں مقیم ہیں، ملک میں تخریب کار عناصر اقلیت پر ظلم و ستم کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے گؤں ہتھیا قانون کے پس پردہ بڑے شہروں سے چھوٹے قصبوں تک عوامی ھجومی تشدد تواتر سے جاری رہا۔
متعدد افراد کو کھلے عام بے رحمی سے زرد کوب کرکے جاں بحق کردیا، وفاقی حکومت محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی گویا اس ظلم وبربریت کو پست پناہی حکومت کی حاصل رہی، ملک کا ہر ادارہ وزیراعظم کا ہر حکم خواں حکم دستور کے مطابق نہ ہو انتہائی دینداری سے تعمیل کرتا ہے، سیاسی جماعتوں کے حریفین کو محترم نے یک کے بعد دیگرے اپنے غلام بنائے اداروں کے ذریعے مقدمہ درج کیے انہیں گرفتار کر کے سالوں جیل میں قید کر دیا عدالتیں خوف کے سائے میں ہر صبح اپنے دروازے عوام کو انصاف دینے کے لئے کھولتی ہے پس ان عدالتوں سے انصاف کا دریا تو نہیں ایک قطرہ شبنم بھی عوام کو دستیاب نہیں، گویا انصاف بے نشاں ہوکر رہ گیا۔
حکومت میں بیٹھے سیاسی حکمران قانون کو سیاسی اغراض و مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے چلے جارہے ہیں، عدالتوں کا کردار حکمران جماعت کے معتبر شخصیات کو مسرت و راحت فراہم کرنے میں سرف ہو رہا ہے، گویا ملک میں جمہوریت کی جگہ بادشاہت نے لے لی، جمہوری لبادے کو زیب تن کیے بادشاہ ملک کے ہر ادارے کو جاگیر سمجھ کر اپنی تحویل میں لے چکا، نیز اداروں کو غلام بنا لیا، ہر ادارہ موصوف کے اشارے پر رکوع نہیں بلکہ سجدہ ریز ہو جاتاہے، کرہ ارض پر سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا ملک خستہ حال و غریب بن گیا،
کروڑوں ملازمت ہر سال مہیا کرنے کا وعدہ بادشاہ پورا نہ کرسکا، عوام سے کیے گئے سارے خوبصورت وعدے کہی آسماں میں گم ہو گئے، ۲۰۲۲ تک ملک کے ہر شہری کو رہنے کے لئے اس کا اپنا ذاتی مکان ہوگا ایک سیاسی مفروضہ ثابت ہوا ملک میں کروڑوں افراد کے سر پر چھت نہیں، بے گھر خانہ بدوش کتنے لوگ زبوں حالی کو پہنچ گئے، اس کے برخلاف جمہوری بادشاہ ایک دن میں کتنے قیمتی لباس تبدیل کرنے میں أمرا ؤ رؤسا کو پیچھے چھوڑ گیا، دس لاکھ کا سوٹ پہن کر غریب ملک کا امیر بادشاہ اپنے آپ کو چاۓ والا کہ کر مخاطب ہوتا ہے، نیز غریبوں کے روبرو شان و شوکت کے ساتھ شاہی انداز میں پیش ہوتا ہے،
مزید جمہوری بادشاہ نے آمدورفت کے لئے ہزاروں کروڑ کا خصوصی طیارہ خریدا ہے، امیروں کو دوست بنا کر انہیں قریب رکھنے والے وزیر اعظم امیروں کے ہی بن کر رہ گئے، این آر سی، اور سی اے اے قانون بناۓ ہی اس لئے گئےجس کے تحت اقلیتوں کو مستقل خوف میں رکھا جائے، بیس ہزار کروڑ روپئے سے نیا پارلیمنٹ بنوایا جارہا ہے، وزیراعظم جمہوریت کا علمبردار بادشاہت کو اپناں چکا، رفتہ رفتہ دستور اپنا اثر و رسوخ کھونے لگا ہے، گزشتہ ۷٣ سالوں سے دستور ملک میں قائم ہیں دنیا کا بہترین دستور جسے ہر فرقہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا تھا، اب شاید اپنی عمر کے آخری ایام میں سے گزر رہا ہے،
دستور کتابوں میں قید سسکتے آہے لیتا بسترے مرگ پر پڑا لوگوں کی جانب حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا ہے، نہ جانے کب بادشاہ عزازیل بن کر دستور کی روح قبض کرلے، مزید جمہوریت کا لباس اتار کر ہندوتوا کے بادشاہ میں تبدیل ہو کر اجاگر ہوجائے، وزیراعظم نہیں بلکہ سیوک خود کو کہلانے والے آج بے تاج بادشاہ بنے عوام پر مسلط اپنی من مانی کررہےہیں، یہی وجہ ہے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کبھی اختتام پذیر نہیں ہؤی ملک میں فرقہ وارانہ تصادم کبھی ختم نہیں ہوا، قوموں کے مابین فرقہ وارانہ تصادم، منافرت منظم طریقے کار کے ذریعے ڈالنے کا کام سیاسی حکمران کرتے رہے ہیں، وقت ہی طے کریگا ۲۰۲۴ میں دستور نیز بادشاہ کا مستقبل۔ وماعالینا الاالبلاغ المبین



