’نام بدلو کمیشن‘ بنانے کے مطالبہ کو سپریم کورٹ نے کیا خارج،سخت موقف میں میں کہا، اس ایشو کو اٹھانا ملک میں ابال لانا ہے
عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے سخت لہجے میں تبصرہ کیا کہ ملک ماضی کا قیدی بن کر نہیں رہ سکتا۔
نئی دہلی، 27فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے شہروں، قصبوں، سڑکوں وغیرہ کے قدیم ناموں کی پہچان کے لیے ایک ’ری نیمنگ کمیشن‘یعنی نام بدلو کمیشن بنانے کے مطالبہ والی عرضی کو خارج کر دیا۔ عدالت نے عرضی خارج کرتے ہوئے سخت لہجے میں تبصرہ کیا کہ ملک ماضی کا قیدی بن کر نہیں رہ سکتا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جمہوری ہندوستان سبھی کا ہے، ملک کو آگے لے جانے والی باتوں کے بارے میں سوچا جانا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے عرضی کو تشدد کی منشا والا قرار دیا اور کہا کہ ایسا کرنے سے ایشو زندہ رہیں گے اور اْبال والی حالت بنی رہے گی۔اس عرضی کو وکیل اشونی اپادھیائے نے داخل کیا تھا۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی حملہ آوروں نے ملک پر حملہ کر کئی جگہوں کے نام بدل دیئے اور انھیں اپنا نام دے دیا۔
عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آزادی کے اتنے سال بعد بھی حکومت ان مقامات کے قدیم نام پھر سے رکھنے کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ اپادھیائے نے اپنی عرضی میں کہا کہ مذہبی اور ثقافتی اہمیت کی ہزاروں جگہوں کے نام مٹا دیئے گئے۔ انھوں نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ شکتی پیٹھ کے لیے مشہور کریٹیشوری کا نام بدل کر مرشد آباد، قدیم کرناوتی کا نام احمد آباد، ہری پور کو حاجی پور، رام گڑھ کو علی گڑھ کر دیا گیا۔عرضی میں شہروں کے علاوہ قصبوں کے ناموں کو بدلے جانے کی بھی کئی مثالیں دی گئی تھیں۔ اشونی اپادھیائے نے ان سبھی جگہوں کے قدیم نام کی بحالی کو ہندوؤں کے مذہبی، ثقافتی حقوق کے علاوہ وقار سے جینے کے بنیادی حقوق کے تحت بھی ضروری بتایا تھا۔
عرضی میں دہلی کی کئی سڑکوں کے ناموں کا بھی تذکرہ تھا جس میں اکبر روڈ، لودھی روڈ، ہمایوں روڈ، چیمسفورڈ روڈ، ہیلی روڈ جیسے ناموں کو بھی بدلنے کی ضرورت بتائی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے اس عرضی میں اٹھائے گئے مطالبات اور دیگر باتوں پر حیرانی ظاہر کی۔ جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی ناگرتنا کی بنچ نے عرضی میں لکھی گئی باتوں کو کافی دیر تک پڑھنے کے بعد کہا کہ آپ سڑکوں کا نام بدلنے کو اپنا بنیادی حق بتا رہے ہیں؟ آپ چاہتے ہیں کہ ہم وزارت داخلہ کو ہدایت دیں کہ وہ اس معاملے پر کمیشن کی تشکیل کرے؟
اس عرضی پر خود ہی پیروی کر رہے اپادھیائے نے کہا کہ صرف سڑکوں کا نام بدلنے کی بات نہیں ہے۔ اس سے زیادہ ضروری ہے اس بات پر توجہ دینا کہ ہزاروں جگہوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو مٹانے کا کام غیر ملکی حملہ آوروں نے کیا۔اس دلیل پر جسٹس جوزف نے کہا کہ آپ نے اکبر روڈ کا نام بدلنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاریخ کے مطابق اکبر نے سب کو ساتھ لانے کی کوشش کی۔ اس کے لیے اس نے دین الٰہی جیسا الگ مذہب شروع کیا۔اس معاملے پر بنچ میں شامل جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ ہم پر حملے ہوئے، یہ حقیقت ہے۔ کیا آپ وقت کو پیچھے لے جانا چاہتے ہیں؟اس سے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ملک میں مسائل کی کمی ہے؟ انھیں چھوڑ کر وزارت داخلہ اب نام ڈھونڈنا شروع کرے؟
انھوں نے مزید کہا کہ ہندوتوا ایک مذہب نہیں، طرز زندگی ہے۔ اس میں کٹرپسندی کی جگہ نہیں ہے۔ بانٹو اور راج کرو کی پالیسی انگریزوں کی تھی۔ اب سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔



