بین ریاستی خبریں

کرناٹک اردو اکادمی کا دو روزہ صحافیوں کی کارگاہ کا تاریخی انعقاد

اردو اخبارات ہی نے جنگِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

بیدر:(اردودنیا.اِن/بذریعہ ای میل) کرناٹک حکومت محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے ریاست بھرکے اردو صحافیوں کیلئے دو روزہ ورکشاپ (کارگاہ) کا بنگلور شہر کے مضافات جنگلاتی علاقہ بنرگٹہ کے نیچر کمیپ میں واقع کانفرنس ہال میں عظیم الشان پیمانے پر انعقاد عمل میں آیا۔ ورکشاپ کے پہلے دن کا آغاز جناب ڈاکٹر معاذالدین خان معززرجسٹرار کرناٹک اردو اکادمی کی قرائتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ جس کا اردو ترجمعہ جناب کفایت اللہ رابطہ کار اکیدمی نے پیش کیا۔

مذکورہ بالاپروگرام میں بحثیت مہمانانِ خصوصی پروفیسر اعظم شاہد معروف کالم نگار، پروفیسر احتشام احمد خان، ڈین مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، اردو اکادمی کے سابق صدور جناب سید قدیر ناظم سرگروہ اور جناب مبین منور کے علاوہ معروف صحافی جناب افتخار احمد شریف، سابق مدیر، روزنامہ سالارنے شرکت کی۔ مذکورہ بالا پروگرام تمام مہمانانِ خصوصی کے ہاتھوں اس موقع پر ایک کیاری میں درخت کو پانی دیا گیا۔

ڈاکٹر معاذالدین خان، رجسٹرار، کرناٹک اردو اکاعدمی نے دو روزہ ورکشاپ کی غرض و غایت بتائی اور تمام مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے ان کی شالپوشی کی۔ ورکشاپ میں شریک ریاست بھر سے آئے اردو صحافیوں نے مختصر طور پر اپنا اپنا تعارف پیش کیا۔

ملک کے معروف کالم نگار جناب پروفیسر اعظم شاہد نے بعنوان ”صحافت کا تعارف اور اردو صحافت کی اہمیت پر پُر مغز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو صحافت نے گذشتہ سال اپنے دو سو سال مکمل کر لئیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ اس نے زمانے کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں اس کی تاریخ بہت ہنگامہ خیز رہی ہے۔ 1857ء سے ملک کی آزادی سے قبل تک ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کیلئے جدو جہد کا سہرا اردو صحافت ہی کے سر ہے۔

اردو اخبارات ہی نے جنگِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس زبان کے صحافی و مدیر مولوی محمد باقر کو جنگِ آزادی میں شہید ہونے کا شرف حاصل ہے۔ انھوں نے ٹیپو سلطان کی بھی صحافتی رواج کو بتاتے ہوئے کہا کہ اگر بابائے صحافت کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ انھوں نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آزادی سے قبل اردو اخبارات کے صحافیوں اور اخبارات کے مالکان و مدیران سب سے زیادہ انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے پریس و ضمانتیں ضبط ہوئیں۔ لیکن اس کے باوجود سنگین حالات میں مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے۔

ملک کی آزادی میں آزادی مہم اور جدوجہد میں اردو صحافت کا جو رول رہا ہے وہ ایک اہیسی اٹل حقیت ہے کہ اس سے انکار ممکن نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج صحافت کا وہ دور آچکا ہے کہ اردو صحافت ملک میں تیسرے نمبر پر آچکی ہے جس پر انھوں نے مختلف وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کارگاہ کا انعقاد صحافت کے رموز و فرائض اور اس کی اہمیت کو آپ کے سامنے رکھنا ہے تاکہ اردو صحافت میں پھر سے وہ نکھار و معیار آسکے اور اردو زباں کی رگوں میں صحافیوں اور ادیبوں کا خون روانی سے دوڑ سکے۔

پروفیسر احتشام احمد خان ڈین، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے بعنوان ”صحافت کا اثر اور اہمیت“ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اردو صحافت کو مختلف چییلنجوں کا سامنا ہے۔ صحافت بنیادی طور پر معاشرے کی آنکھ ہوتی ہے۔ ایک اچھا صحافی حکمراں اور قوم کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ صحافت معاشرے کی اُمنگوں کا ترجمان ہے۔ مگر گزشتہ کچھ عرصہ سے صحافت میں جو انقلاب آیا ہے اس سے صورتحال کافی بدل گئی ہے۔ آج ہزاروں اخبارات بڑی مشکل سے چلا رہے ہیں۔ آج صحافیوں کو در پیش مسائل کا سامنا ہے۔

کئی اخبارات کو سرمایہ میسر نہیں ہونے کی وجہ سے بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب میں اس جدید دور میں صحافت میں اپنے کارہائے نمایاں انجام دینے کیلئے مختلف ذرائیع اور مواقع کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ پروفیسر احتشام احمد خان نے ملک میں ٹی وی چینل (اردو) کے فروغ اور ڈیجیٹل میڈیا کے مواقع اور چیلنجس سے متعلق پروجیکٹر کے ذریعہ صحافیوں کو نہایت ہی بہتر انداز میں سمجھایا اور مختلف اُمور پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ٹی وی چینل پر اپنے ناظرین کی تعداد بڑھانے کیلئے کہانیوں کو دلچسپ بنانا چایئے جیسے ہمارے پڑوسی ممالک میں کیا جاتا ہے۔ وہاں فلموں سے زیادہ ٹی وی ڈراموں (سیریل) پر توجہ دی جاتی ہے اور وہ عوام میں خوب مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔

جناب مبین منور، سابق چیرمین کرناٹک اردو اکادمی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ صحافت بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ جمہوریت کا چھوتھا ستون ہے اور معاشرہ کیلئے سچا آئینہ ہے۔ انھوں نے صحافیوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا۔ پروفیسر ناظم الدین سرگروہ نے صحافت کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور کہا کہ صحافت ایک ایسا میدان ہے جہاں غیر جانبداری اور بے پاکی ضروری ہے۔

جناب افتخار شریف صاحب معروف صحافی سابق ایڈیٹر روزنامہ سالار نے صحافیوں کو خبر نگاری اور الفاظ و جملوں کا استعمال پر اپنے خطاب کےذریعے بہتر انداز میں سمجھایا۔ اس موقع پر ایس ایس افسر قادری نے اس ورکشاپ میں بتایا کہ RTIکے ذریعے کس طرح معلومات حاصل کرسکتے ہیںاور ریاستی و مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کی خبر کس طرح بناٸی جاتی ہے۔

ڈاکٹر معاذالدین خان، رجسٹرار، کرناٹک اردو اکادمی نے تمام سے ٕاظہار تشکر کرتے ہوئے دو روزہ ورکشاپ کے دوران تمام صحافیوں کو جنگل سفاری کی سیر کروائی۔اس موقع پر کرناٹک کے معروف صحافی محمد امین نواز کو تہنیت پیش کرتے سند پیش کی گٸی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button