سیسودیا اور ستیندر جین کا استعفیٰ : دہلی کے لوگوں کا کام متاثر نہیں نہ ہو ، اس لیے دیاگیا استعفیٰ : جین
دہلی کے نائب وزیراعلیٰ سیسودیا عہدہ سے مستعفی,استعفیٰ نامہ میں لکھا،’ دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘
نئی دہلی، 28فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) منیش سیسودیا نے سپریم کورٹ سے جھٹکا ملنے کے بعد دہلی حکومت میں وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سیسودیا کے ساتھ ستیندر جین نے بھی اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے بھی ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سی بی آئی نے منیش سیسودیا کو اتوار (26 فروری) کو دہلی کے مبینہ شراب گھوٹالے میں گرفتار کیا تھا۔سیسودیا دہلی حکومت کے سب سے بااثر وزیر تھے۔ تعلیم، مالیات، منصوبہ بندی، زمین اور عمارت، خدمات، سیاحت، فن ثقافت اور زبان، محنت اور روزگار کے علاوہ محکمہ تعمیرات عامہ، صحت، صنعت، بجلی، گھر، شہری ترقی، آبپاشی اور فلڈ کنٹرول اور پانی کا محکمہ بشمول ریاستی حکومت کی تمام بڑی وزارتیں ان کے پاس تھیں۔
جب ستیندر جین جیل گئے تو ان کے محکموں کا اضافی چارج بھی سیسودیا کے کندھوں پر تھا۔منیش سیسودیا اور ستیندر جین کے استعفیٰ پر دہلی حکومت کے وزیر گوپال رائے نے کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد دہلی حکومت کے کام کو روکنا ہے، جس طرح سے سیاسی انتقام کے جذبے سے یہ کارروائیاں کی گئیں، اس کا سب سے بڑا ہدف دہلی اور دہلی کے عوام ہیں۔ یہ دیکھ کر دہلی کا کام نہ تاخیر و التوا کا شکار نہ ہوں، استعفے دیئے گئے ہیں۔ ستیندر جین نے پہلے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟
اس سوال کے جواب میں گوپال رائے نے کہا کہ منیش سیسودیا ستیندر جین کا کام سنبھال رہے تھے، اب اگر سیسودیا کے خلاف انتقام کے جذبے سے کارروائی کی جاتی ہے، تو عوام کا کام متاثر نہیں ہونا چاہیے، استعفیٰ اس لیے دیا گیا ہے۔ کیا آپ اپنی شبیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اس سوال پر گوپال رائے نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں، یہ الزامات سیاسی نفرت پر مبنی ہیں، اڈانی پر بھی الزام لگایا گیا ہے، انہیں نوٹس تک نہیں ملا، اگر مودی جی کے دوست ہیں تو کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور اگر وہ سیاسی مخالف ہے تو پھر اسے پھنسایا جائے گا۔
اس سے پہلے منیش سسودیا کی گرفتاری پر گوپال رائے نے مودی حکومت پر سخت حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سی بی آئی کو بغیر کسی وجہ کے ریمانڈ کی ضرورت تھی۔ منیش سیسودیا کو جب بھی پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا، وہ ہمیشہ آئے ہیں۔ اب سی بی آئی کو 5 دن کی ضرورت کیوں ہے؟ سی بی آئی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیسودیا کو گندی سیاست کا شکار بنایا گیا ہے۔
دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سیسودیا نے منگل (28 فروری) کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے رام پرساد بسمل کا مشہور شعر ’’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دلوں میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے‘بھی لکھا۔
سیسودیا نے لکھا کہ میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے آپ کی قیادت میں لگاتار آٹھ سال تک دہلی حکومت میں وزیر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ مجھے خوشی ہے کہ پچھلے آٹھ سالوں میں آپ کی قیادت میں دہلی والوں کی زندگیوں میں خوشی اور خوشحالی لانے کا جو کام ہوا ہے، ایک وزیر کی حیثیت سے مجھے بھی اس میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا موقع ملا ۔ خاص طور پر وزیر تعلیم کے طور پر جو ذمہ داری دی گئی، اس میں شاید پچھلے جنموں میں کوئی خوبی رہی ہوگی، جس کے نتیجے میں مجھے اس زندگی میں خدمت کرنے کا اتنا بڑا موقع ملا۔دہلی کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں بطور وزیر میں نے اپنا کام پوری لگن اور ایمانداری سے کیا ہے۔ انہو ںنے لکھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ آٹھ سال ایمانداری اور دیانتداری سے کام کرنے کے باوجود مجھ پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
میں جانتا ہوں، میرا خدا جانتا ہے کہ یہ تمام الزامات جھوٹے ہیں۔ یہ الزامات درحقیقت بزدل اور کمزور لوگوں کی سازش سے زیادہ کچھ نہیں ہیں جو اروند کجریوال کی سچائی کی سیاست سے خوفزدہ ہیں۔ میں ان کا ہدف نہیں ہوں، آپ ان کا ہدف ہیں۔ کیونکہ آج نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک کے لوگ آپ کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کے پاس ملک کے لیے ایک ویژن ہے اور اس ویژن کو عملی جامہ پہنا کر وہ لوگوں کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی لانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ میرے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور بہت سی مزید کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ میں آپ کا ساتھ چھوڑ دوں۔ مجھے ڈرایا اور لالچ دیا گیا۔
جب میں ان کے سامنے نہیں جھکا تو آج انہوں نے مجھے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا ہے۔میں نے دہلی حکومت کے مختلف محکموں میں ایمانداری سے کام کیا ہے۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے لاکھوں بچوں کی دعائیں میرے ساتھ ہیں۔



