این آئی اے نے حزب المجاہدین کے مبینہ جنگجو کی جائیداد ضبط کرلی
جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف این آئی اے کا کریک ڈاؤن جاری
سری نگر ،4مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف این آئی اے کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے وادی میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے دہشت گردوں کی جائیدادوں کو قرق کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں، این آئی اے نے ہفتہ (4 مارچ) کو جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں حزب المجاہدین کے ایک اور دہشت گرد کی جائیداد ضبط کی۔ یہ دہشت گرد گزشتہ ماہ ہی پاکستان میں مارا گیا تھا۔این آئی اے حکام نے یہ معلومات دی۔ افسر نے بتایاکہ بشیر احمد پیر، جو حزب المجاہدین کامبینہ کمانڈر تھا، شمالی کشمیر کے ضلع کرالپورہ کے بابر پورہ علاقے کا رہنے والا تھا۔ اسے 21 فروری کو راولپنڈی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جائیداد پاکستان سے کام کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر ضبط کر لی گئی ہے۔
اہلکار نے بتایا کہ این آئی اے کی ٹیم نے پیر عرف امتیاز عالم کی 1.5 کنال (تقریباً 1000 گز) سے زیادہ زمین ضبط کرلی ہے۔ ان پر یہ کارروائی یو اے پی اے ایکٹ کے تحت کی گئی۔خیال رہے کہ پولیس دعویٰ کے مطابق بشیر نے کشمیر میں نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے متحرک کرنے اور انہیں اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بشیر میر پی او کے سے دہشت گردی کے کیمپوں اور لانچ پیڈز کو مربوط کر رہا تھا اور لیپا سیکٹر میں کافی عرصے سے سرگرم تھا۔
گزشتہ سال 4 اکتوبر کو مرکزی حکومت نے انہیں وادی کشمیر میں بھارت مخالف سرگرمیوں کو انجام دینے پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت دہشت گرد قرار دیا تھا۔ وہ 15 سال سے زائد عرصے سے پاکستان میں مقیم تھیااور اسے وہاں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔این آئی اے نے قبل ازیں جمعہ (3 مارچ) کو جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں دی ریزسٹنس فرنٹ’ (TRF) کے دہشت گرد باسط احمد ریشی کی جائیداد ضبط کی تھی۔ باسط احمد ریشی، جسے یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، اس وقت پاکستان میں روپوش ہے اور وہاں سے وہ وادی کشمیر میں بھارت مخالف سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔



