تلنگانہ کی خبریںسرورق

دلہن کی ڈولی کے بجائے ایمبولنس سے دواخانہ منتقل

میک اپ نے اصل چہرہ کو بھی خراب دیا، دلہے کا شادی کرنے سے انکار، سماج میں عبرتناک واقعہ

دلہن میک اپ کے بعد آئی سی یو میں داخل، شادی ملتوی؛ بیوٹیشن حراست میں

حیدرآباد :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) شادی بیاہ تقاریب ہو یا پھر گھر فنکشن میک اپ ہر خاتون اور لڑکیوں کے لئے لازمی عمل بن گیا ہے۔ تقاریب میں سجنا سنورنا اور بہتر سے بہتر انداز کے میک اپ سے خوبصورتی میں اضافہ کرنے کا عمل ایک لازمی جز بن گیا ہے۔ اگر دلہن ہو تو پھر خصوصی انداز اپنایا جاتا ہے لیکن ایک دلہن کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو نہ صرف دلہن کیلئے بلکہ افراد خاندان اور برادری کیلئے زندگی بھر کا سبق بن گیا۔ اس واقعہ نے جہاں شادی تقریب کی رونق کو چھین لیا بلکہ سماج کیلئے بھی ایک سبق دیتا ہے۔ پررونق شادی کی تقریب میک اپ کے سبب دیکھتے ہی دیکھتے ماتم کی تقریب میں بدل گئی۔ ہر طرف غم و مایوسی کے بادل چھا گئے جس دلہن کو شادی کی اسٹیج پر بیٹھنا تھا، منڈپ جہاں اس کا منتظر تھا وہیں دلہن کی ڈولی کے بجائے ایمبولنس میں ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔

ریاست کرناٹک کے ہاسن ضلع میں پیش آئے اس واقعہ نے سارے سماج کو سوچنے پر مجبور کردیا۔ ہاسن ضلع کے جبن پور گاؤں کے ایک مکان میں شادی کی تقریب تھی، لڑکی کو شادی کیلئے تیار کیا جارہا تھا، شادی کی تقریب سے قبل دلہن بیوٹی پارلر سے رجوع ہوئی۔ پارلر میں دلہن کا میک اپ کیا گیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد چہرہ پر خوبصورتی کے نکھار کے بجائے سوجن ظاہر ہونے لگی اور لڑکی کا اصل چہرہ بھی بگڑنے لگا۔ دلہن کے اس بگڑتے چہرے اور سوجن کو دیکھ کر دلہے والے سہم گئے اور دلہا اور اس کے رشتہ داروں نے شادی سے انکار کردیا۔ میک اپ کے سبب لڑکی کا چہرہ ایسا ظاہر ہورہا تھا کہ جھلس گیا۔ دلہن جو سسرال جانے کی تیاری میں تھی اس دلہن کو ہاسپٹل منتقل کرنا پڑا۔

گھر سے برأت لوٹنے کا غم اور بیٹی کی صحت کی فکر میں ماں باپ کا برا حال ہوا۔ سارے معاملہ کی جڑ میک اپ کو تصور کرتے ہوئے لڑکی کے والدین نے بیوٹی پارلر کے خلاف شکایت کردی۔ بتایا جاتا ہیکہ دلہن کے سنگار میں مصروف بیوٹی پارلر آپریٹر نے کچھ نیا کرنے کی فکر میں سارا معاملہ ہی بگاڑ دیا۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ آج کل سماج میں معمولی بات پر رشتہ ٹوٹ جاتے ہیں اور باتوں باتوں میں برأت شادی کے اسٹیج سے لوٹ جاتی ہے۔ گذشتہ دنوں پرانے شہر کے علاقہ میں بھی اس طرح کا واقعہ پیش آیا جہاں پرانی الماری کو رنگ کردینے کے نام پر عین نکاح سے قبل شادی ٹوٹ گئی تھی۔

سامان کی جانچ کے بعد دلہے نے شادی سے اس بات پر انکار کردیا تھا کہ دلہن کے والد نے پرانی الماری دی ہے۔ شادی کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں، گھر میں دوست رشتہ دار یہاں تک قاضی صاحب بھی پہنچ چکے تھے اور انتظار تھا تو بس دلہے کا جو نہیں پہنچا۔ اس طرح کے واقعات سماج میں ہر دن کسی نہ کسی مقام پر پیش آنے لگے ہیں جو معاشرے کے بگاڑ اور تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔ لوگوں میں اب کسی کے جذبات کوئی معنی نہیں رکھتے اور اپنی خواہش کی تکمیل کیلئے دوسروں کے جذبات سے کھلواڑ کرنا سماجی فیشن بنتا جارہا ہے۔ ایسے واقعات کے تدارک کیلئے سماج ہی کی جانب سے پہل ہونی چاہئے چونکہ قوانین اور سرکاری کارروائیوں کا کوئی اقدام اثر انداز نہیں ہورہا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button