سرورقکیریئر اور رہنمائی

فیشن انڈسٹری میں مختلف روزگار کے مواقع-مومن فہیم احمد

ہائی اسکول یا کالج مکمل کرنے کے بعد بہت سے طلباء اور والدین کے لیےیہ فیصلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ ایک پرجوش لیکن مستحکم مستقبل کے لیے کیریئر کا کون سا راستہ منتخب کیا جائے؟ کیا فیشن، کلاتھ اسٹائلنگ، ڈریس ڈیزائننگ ، فیشن ڈیزائنر، فیشن اسٹائلسٹ، کاسٹیوم ڈیزائنر، فیشن پبلک ریلیشن ایکسپرٹ، اور فیشن صحافی جیسےکرئیر صحیح انتخاب ہیں اور اگر آپ کی دلچسپی اس شعبہ میں ہے تو فیشن کا کون سا شعبہ آپ کے لیے صحیح ہے ؟

فیشن انڈسٹری ایکطویل، مختلف النوع مواقع پر مبنی اضافی قدر(Value Added) سلسلہ ہے۔ ڈیزائنرز سے لے کر مینوفیکچررز تک، مارکیٹرز، تخلیقی ہدایت کاروں، اسٹائلسٹ،پبلک ریلیشن اور صحافی ، یہ سبھی اس بات میں اٹوٹ کردار ادا کرتے ہیں کہ صارفین کیا، کیسے، اور کیوں مصنوعات خریدنے کا انتخاب کرتے ہیں؟ جہاں ایک فیشن ڈیزائنر مصنوعات کی ایک رینج کو ڈیزائن کرنا شروع کرنے کے لیے موسم، رجحانات، ساخت اور کارکردگی جیسےامور کو دھیان میں رکھتا ہے ، وہیں ایکصنعت کارخام مال، وسائل کو بہتر بنانے، اور کوالٹی کنٹرول کو ذہن میں رکھتا ہے۔دونوں حتمی مصنوعات (Final Goods) کیتیاری میںیکساں طور پر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی بھی ڈیزائن اس وقت تک نہیں پہنا جاسکتا جب تک کہ یہ حقیقت میں تیار نہ ہو، اور کوئی بھی پروڈکٹ تصور اور ڈیزائن کیے بغیر تیار نہیں کی جاسکتی۔

ان دو شعبوں کے اندر، بہت سے ذیلی شعبے ہوتے ہیں جن میں ڈیزائن،ساخت ، پیٹرن کٹنگ، نمونے تیار کرنے ، ٹیکسٹائل ڈیزائن، پرنٹ ڈیزائن، سورسنگ، پروڈکشن کوآرڈینیشن اور کوالٹی کنٹرول وغیرہ میں کرئیر بنایا جاسکتا ہے۔ایک بار جب لباس تیار ہو جائے تو اسے فروخت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں ذخیرہ (انوینٹری) کے انتظام اور مرچنڈائزر(فروشندے) جو مختلف اسٹورس میں مصنوعات کو انتہائی پرکشش انداز میں ڈسپلے کرتے ہیں۔

ایک اسٹائلسٹ، برانڈ کے ہدف کو عوام میں متعارف کرانے کے لیے اشتہارات اور ایکامرس مواد تیارکرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر سوشل میڈیا انفلوئنسرس(وہ نوجوان جو اپنے مختصر ویڈیو میسیج کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں) کےذریعے ان برانڈس اور اسٹائلنگ کی تشہیر کی جاتی ہے۔اس طرح کے مواد کی تخلیق کے لیے فوٹوگرافرز، میک اپ آرٹسٹ، آرٹ ڈائریکٹرز، گرافک ڈیزائنرز وغیرہ کی بھی ضرورت ہوگی۔ فیشن کے فروغ کے دیگر ذیلی اداروں میں فیشن میگزین، فیشن شو کی سمت، پیکیجنگ ڈیزائن، فیشن بلاگنگ، اور اثر انگیز مارکیٹنگ وغیرہ بھی شامل ہیں۔

مواقع کہاں کہاں ہیں ؟

دو سے چار سال کی پیشہ ورانہ تربیت سے لیس فیشن اسٹائلسٹ اور امیج ڈیزائنرزمختلف برانڈز کے لیے اسٹائلسٹ یا تخلیقی ہدایت کار کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ ان کو فلموں، ٹی وی شوز، ویب سیریز کے لیے بطور کاسٹیوم ڈیزائنرز، کاسٹیوم اسٹائلسٹاور آرٹ ڈائریکٹرکے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ادب، تاریخ سے بھی اچھی واقفیت رکھتے ہوں تو پریڈ فلموں، شوز یا ٹیلی وژن میں بطور پریڈ آرٹ ڈائریکٹر، کاسٹیوم ڈیزائنر وغیر ہ کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ اگر ان گریجویٹس کو کارپوریٹ سیکٹر اپیل کرتا ہے، تو وہ ای کامرس میں اسٹائلسٹ، اسٹوڈیو مینیجرز، اور بعض اوقات میک اپ آرٹسٹ یا فوٹوگرافر کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ اسٹائلنگ گریجویٹس آزادانہ طور پر بھی فری لانس ، ذاتی اسٹائلسٹ اور امیج کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرسکتے ہیں۔ فیشن کے ہر شعبے میں پیشہ ورانہ مواقع کی فہرست طویل ہے، اور صحیح انتخاب کرنے میں سب سے پہلے صحیح قسم کی معلومات کا ہونا شامل ہے۔

کون اس کرئیر کا انتخاب کرسکتا ہے ؟

آج، بہت سارے نوجوان فیشن انڈسٹری کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں، کمپنیاں اور آجر ہمیشہ لوگوں کو شروع سے تربیت دینے کے لیے تیاریا مائل نہیں ہوتے ۔اگر آپ اس شعبہ میں دلچسپی رکھتے ہیں ، آپ میں نیا اور دوسروں سے کچھ الگ کرنے کا جذبہ ہے، تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں تو اس شعبہ میں آپ یقیناً کامیاب ہوں گے لیکن یہ ضروری ہے کہ اپنی پسند اور ترجیحات کے مطابق اس وسیع شعبہ کےذیلی کرئیر میں سے صحیح کرئیر کا انتخاب کریں اور اسی سمت میں اپنی پڑھائی کریں۔ کیونکہ اس طرح کے تخلیقی نوعیت کے کورسیس میں امیدواروں کو اپنے کیریئر کے آغاز میں کچھ مخصوص ضروریات کو پورا کرنا پڑتا ہے۔کووڈ 19 کے بعد، دنیا بغیر اطلاع کے مکمل طور پر بدل گئی ہے۔

اب آگمینٹیڈ ریالٹی، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ ان تکنیکوں کی تیز رفتار ترقی نے جدید شعبوں میں سوچنے سمجھنے کے انداز میں زبردست تبدیلی پیدا کردی ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے کئی ای-کامرس ویب سائٹس پر مختلف ڈیزائن کے کپڑے آپ پر کیسے نظر آئیں گے اس کے تصوراتی اوتار (ورچوئل اوتار) دیکھے ہوں گے جن میں مختلف بٹن پر کلک کرتے ہی اسکرین پر چیزیں تبدیل ہوتی نظر آتی ہیں۔ کمپنیاں اب ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کمپنی اور مصنوعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے قابل افرادکا انتخاب کرتی ہیں۔ متعدد پلیٹ فارمز صارفین کو موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے لباس، لوازمات اور دیگر اشیاء کو عملی طور پر آزمانے کی اجازت دیتے ہیں۔

فیشن انڈسٹری میں مختلف روزگار کے مواقع

ملک بھر کے ادارے متعدد تخلیقی کورسز پیش کرتے ہیں۔ یہ سبھی امیدواروں کو یہ سکھاتے ہیں کہ کس طرح موجودہ مسائل کو اپنانا اور حل کرنا ہے۔ صارف یا صارف کی مرکزیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، آبادی کے مختلف گروہوں کے لیے اپنی مصنوعات کی تیاری کرنا ، انھیں بہتر انداز میں پیش کرنا، مارکیٹنگ کے نئے نئے طریقوں سے واقفیت حاصل کرنا، ٹیکنالوجی کا بہتر اور کارآمد استعمال کرناوغیرہ ان کورسیس کے اہم مشمولات ہیں۔ ان کورسیز میں فیشن ڈیزائن سے لے کر فیشن اسٹائلنگ، فیشن کمیونیکیشن، فیشن بزنس مینجمنٹ، اور فیشن فوٹوگرافی سے لے کر فیشن میک اپ تک شامل ہیں۔ذیل میں چند ایک اہم روزگارجو فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں ان کی معلومات فراہم کی جارہی ہے۔

(1) فیشن ڈیزائنر : آپ بچوں کے لباس، جوتے، ہینڈ بیگ، مردانہ لباس، کھیلوں کے لباس یا خواتین کے لباس جیسے شعبے میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ عام طور پر فیشن ڈیزائن اسسٹنٹ کے طور پر شروعات کرتے ہیں اور فیشن ڈیزائنر اور ڈیزائن ڈائریکٹر تک ترقیکرسکتے ہیں۔ فیشن ڈیزائن کے لیے عام طور پر فیشن کی متعلقہ ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کورس میں آپ آپ فیشن بزنس، آرٹ اور ڈیزائن، گرافک ڈیزائنیا فیشن اور فیشن ڈیزائن کا مطالعہ کر تے ہیں۔

(2) گارمنٹ ٹیکنالوجسٹ : آپ کپڑے کے انتخاب اور جانچ کے ذمہ دار ہوں گے، اس بات کو یقینی بنانا کہ ڈیزائن کو بجٹ کے اندر بنایا جا سکتا ہے، لباس کیتیاری کے طریقوں کی نگرانی کرنا اور خرابیوں کی جانچ کرنے کے لیے مصنوعات کے کوالٹی کنٹرول کو انجام دینا۔ آپ پیداواری عمل کو زیادہ موثر اور پائیدار بھی بنا سکتے ہیں۔ فیشن انڈسٹری میں مینوفیکچرنگ اور ریٹیل آجروں کے علاوہ ان کمپنیوں کے لیے بھی کام کر سکتے ہیں جو تکنیکیلباس تیار کرتی ہیں، جیسے کہ اسپیس سوٹ یا فائر فائٹرز کے کپڑے وغیرہ۔اس شعبہ کے لیے گارمنٹ ٹیکنالوجی اور پروڈکشن کی ڈگری آپ کو مطلوبہ مہارت اور معلومات فراہم کرتی ہے۔

(3) ٹیکسٹائل ڈیزائنر : اکثر فیشن ڈیزائنرزانھیں ملازمت پر رکھتے ہیں، ٹیکسٹائل ڈیزائنرز، ان کے لیے ٹو ڈی (2D)یزائن تیار کرتے ہیں ۔ یہ انتہائی تکنیکی اور ٹیکسٹائل کی تیاری کے بارے بشمول کپڑے اور یارن کی اقسام، رنگ، رنگنے، بنائی، کڑھائی اور پرنٹنگ کے طریقوں کی گہری معلومات رکھتے ہیں۔ ٹیکسٹائل ڈیزائنرز خود ملازم ہو سکتے ہیںیا ڈیزائن ٹیم کے حصے کے طور پر کام کر سکتے ہیں – جیسے کپڑے کے برانڈ یا خوردہ فروش کے لیے۔ آرٹ اور ڈیزائن، فیشن اور ٹیکسٹائل میں ڈگریاں آپ کو اس شعبہ کے قابل بنائیں گی۔ آپ ٹیکسٹائل کے لیے مخصوص ڈگری بھی لے سکتے ہیں مثلاً پرنٹ شدہ ٹیکسٹائل وغیرہ ۔

(4) فیشن السٹریٹر : یہ فیشن ڈیزائنرز کے ساتھ مل کر ان کی ضروریات پر تبادلہ خیالکرتے ہیں اور ان کی مصنوعات کے تصوراتی خاکے اور عکس تیار کرتے ہیں ۔ اس میں کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (CAD) سافٹ ویئر، پینٹنگ اور/یا فری ہینڈ اسکیچنگ کا استعمال شامل ہو سکتا ہے۔بہت سے فیشن السٹریٹر خود ملازمت (فری لانسر) کے طور پر کام کرتے ہیں یا پھر مختلف ڈیزائن اسٹوڈیوزیاریٹیلرس کے لیے بھی کام کر سکتے ہیں۔ گرافک ڈیزائنر کی ڈگری آپ کو اس شعبہ کے لیے اپنی مہارت اور پورٹ فولیو بنانے میں مدد کر سکتی ہیں۔ تاہم، اس کی ضرورت نہیں ہے تخلیقی صلاحیتوںکے حامل افراد جنھیں آرٹ، ڈرائنگ، اسکیچنگ میں مہارت ہو وہ اس شعبہ کی بنیادی معلومات کے ساتھ کرئیر کا آغاز کرسکتے ہیں۔

(5) پیٹرن کٹر / گریڈر : ڈیزائنرز اور گارمنٹ ٹیکنولوجسٹ کے ساتھ مل کر آپ کو دی گئی ڈرائنگ کی بنیاد پر نمونوں کی نقل کے سانچے (Pattern Templates) بناتے ہیں۔ پیٹرن بنانے اور بہتر کرنے کے لیے ڈمی کا استعمال، نمونے بنانے کے لیے مشینی ماہرین کے ساتھ کام کرنا اور کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (CAD) پروگراموں کا استعمال شامل ہوگا۔ کپڑے کے برانڈ یا صنعت کار کے لیے کام کر سکتے ہیں۔پیٹرن کٹر بننے کے لیے آپ کو کسی مخصوص ڈگری کی ضرورت نہیں ہے، حالانکہ فیشن سے متعلقہ قابلیت آپ کو اچھیپوزیشن دلا سکتی ہے۔ انٹری لیول پیٹرن کٹنگ اسسٹنٹ سے شروعات کی جاسکتی ہے۔

(6) اسٹائلسٹ: ایک اسٹائلسٹ دلکش نظر آنے والے لباس (کپڑے، لوازمات اور پروپس) ، کیٹ واک شو، فوٹو شوٹ، اشتہار، ٹی وی شو، فلم، کنسرٹ یا میوزک ویڈیو کے لیےترتیب دیتا ہے۔ٹائلسٹ کے طور پر امیج پروڈکشن ٹیمیں، بڑے ریٹیلرز، میگزین اور موسیقار وغیرہ کے لیے کام کرسکتے ہیں۔چونکہ اس صنعت میں عملی اور تخلیقی مہارتوں کو عام طور پر تعلیمی قابلیت سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے آپ کو کسی خاص تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، اگر آپ چاہیں تو، آپ فیشن کمیونیکیشن اور اسٹائلنگ یا فیشن اسٹائلنگ اور پروڈکشن جیسی ڈگری کے ذریعے مہارت حاصل کرسکتے ہیں۔

(7) فیشن خریدار(Fashion Buyer) : فیشن کو کاروبار کے ساتھ جوڑ کر اپنی تیار کردہ مصنوعات فروخت کرنا ایک فیشن بائر کا اہم کام ہے۔ آپ وہ دماغ ہوں گے جس کے پیچھے ایک خوردہ فروش (ریٹیلر) مصنوعات فروخت کرتا ہے۔ آپ کو وقت سے پہلے فیشن رجحانات کا اندازہ لگانا ہوگا اس کے علاوہ والے ہیں، جبکہ برانڈ کی جمالیات،صارفین کی خریداری کی عادات، معیار اور بجٹ جیسے عوامل بھی غور طلب ہوں گے۔ فیشنبائیر عام طور پر خوردہ فروشوں کے لیے کام کرتے ہیں۔

(8) فیشن مرچنڈائزر : آپ خریداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہیقینی بنایا جا سکے کہ اسٹاک کی صحیح مقدار صحیح اسٹورز کو صحیح وقت پر بھیجی جائے۔ فروخت اور پروموشنل پیشکشوں کو مربوط کرنے میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ تمام ڈگریوں کے گریجویٹ اور ممکنہ طور پر دیگر قابلیتیں اس کیریئر میںاہم ہیں ۔ کاروبار، مارکیٹنگ اور ریٹیل مینجمنٹجیسے مضامین اس میں اہم ہیں۔

(9) فیشن رائٹر: آپ کسی اخبار، پرنٹ میگزینیا ویب سائٹ کے لیے کام کر سکتے ہیں، فیشنکی دنیا سے متعلق کسی بھی چیز پر آرٹیکل لکھ سکتے ہیں۔ اس کرئیر میں عموماً امیدوار ادارتی معاون کے طور پرکام کرسکتا ہے۔ آپ کے کام کا تجربہ اور ثبوت (مثلاً پورٹ فولیو کے ذریعے) اس کیریئر کے لیے مخصوص قابلیت سے زیادہ اہم ہیں۔ تاہم، متعلقہ اہلیت (مثلاً نیشنل کونسل فار دی ٹریننگ آف جرنلسٹس سے ڈپلومہ یا فیشن سے متعلق ڈگری) حاصل کرنا آپ کے علم اور تحریری مہارت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

(10) استاد / لیکچرر: ثانوی اسکول یا کالج میں ڈیزائن اور ٹیکنالوجی/ٹیکسٹائل ٹیچر بن کر یا کسییونیورسٹی کے فیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار بن کر اپنے فیشن کے علم کو اگلی نسل تک پہنچائیں۔ بہت سارے اساتذہ اور لیکچررز تعلیمی ماحول میں جانے سے پہلے صنعت میں تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ استاد یا لیکچرر بننے کے لیے آپ کو ضروری اہلیت حاصل کرنی ہوگی۔ ثانوی اسکول کے لیے، آپ کو ایک ڈگری کی ضرورت ہوگی جو فیشن/ٹیکسٹائل کو تدریس کے ساتھ یا فیشن/ٹیکسٹائل سے متعلق انڈرگریجویٹ ڈگری کو پی جی سی ای (ایجوکیشن میں پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹ) کے ساتھ جوڑتی ہو، یا کالج میں درس و تدریس کے لیے ضروری ڈگری بھی درکار ہوگی۔

(11) گرافک ڈیزائنر: آپلُک بکس، میگزین، مارکیٹنگ مواد، پیکیجنگ، ویب سائٹس اور سوشل میڈیاکے لیے مواد بنانے کے ساتھ لباس یا لوازمات (کبھی کبھی پرنٹ ڈیزائنر کہلاتے ہیں) پر مختلف گرافکس بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں۔آپ ایڈورٹائزنگ ڈیزائن، میگزین، پبلشرز، لوکل گورنمنٹ، تعلیمی اداروں اور گیمز کمپنیوں میں مہارت رکھنے والی ایجنسیوں کے لیے کام کر سکتے ہیں۔اگرچہ آپ کسی متعلقہ اہلیت کے بغیر اس کیریئر کا آغاز کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں، لیکن رسمی تربیت کے بغیر کیریئرمیں ترقی مشکل ہو گی۔ لہذا، متعلقہ ڈگری کے ساتھ گرافک ڈیزائن،وژول آرٹ یا3D ڈیزائن میں مہارت حاصل کریں۔

(12) فیشن فوٹو گرافر / فلم ساز :آپ فیشن برانڈ یا ریٹیلر کے ساتھ فری لانسر کے طور کام کر سکتے ہیں۔ ، ڈیزائنرز سے ملاقات، شوٹنگ کے تصورات کے ساتھ آنا، سیٹ پر سامان اور لائٹنگ، ماڈلز کی ہدایت کاری اور بہترین تصاویریا ویڈیوز کا انتخاب/ایڈیٹ کرنا۔ فیشن فوٹوگرافر/فلم میکر بننے کے لیے کسی مخصوص قابلیت کی ضرورت نہیں ہے، حالانکہ فوٹو گرافی سے قریبی تعلق رکھنے والی ڈگری آپ کو مہارت اور تازہ ترینمعلومات کے حصول میں مدد دے سکتی ہے جو آپ کو اپنا کیریئرمستحکم کرنے میں مدد گار ہوگی۔

(13) فیشن بلاگر / وی لاگر : آپ فیشن بلاگنگ کو کرئیر بنا سکتے ہیں۔ بہت سارے شعبے مثلاً تحریر، فوٹو گرافی/فلمنگ، ویب سائٹ ڈیزائن، ماڈلنگ/اسٹائلنگ، سوشل میڈیا، اشتہارات کی فروخت اور تعلقات عامہ، اس میں شامل ہیں۔ اپنے مواد کی منصوبہ بندی اور تخلیق کے ساتھ ساتھ، آپ کو سوشل میڈیا پر فالورس کی تعداد اور اپنے بلاگ/ویلاگ کو منافع بخش بنانے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ ایک فری لانسر کے طور پر آپ کو کسی خاص اہلیت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کوئی بھی کورس جو آپ کو فیشن انڈسٹری کے بارے میں معلومات فراہم کرتاہے، آپ کی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانے ، بلاگنگ اور وی لاگنگ میں مفیدثابت ہو سکتا ہے۔

(14) ماڈل : اگر آپ کیبدنی ساخت متناسب اور پُر کشش ہے، تو آپ اس سے اپنا کیریئر بنا سکتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

متعلقہ خبریں

Back to top button