بین ریاستی خبریں

عدالتی فیصلے کے فوراً بعد بھاجپا لیڈر نے شیئر کی حکم کی کاپی، ضلع جج سے صفائی طلب

بامبے ہائی کورٹ کے سامنے ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بارے میں سن کر خود ہائی کورٹ بھی حیران ہے۔

ممبئی ، 11مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بامبے ہائی کورٹ کے سامنے ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بارے میں سن کر خود ہائی کورٹ بھی حیران ہے۔ معاملہ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا سے جڑا ہوا ہے۔ دراصل این سی پی لیڈر حسن مشرف سے جڑے ایک معاملے میں ضلع جج نے ایک فیصلہ سنایا تھا۔ جج کے ذریعہ فیصلہ سنائے جانے کے کچھ ہی دیر بعد بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے اس کی کاپی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی تھی۔ایسا کر کے کریٹ سومیا بری طرح پھنس گئے۔

این سی پی لیڈر حسن مشرف کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ میں داخل عرضی میں ان کے وکیل نے حیرانی ظاہر کی کہ آخر بی جے پی لیڈر کو فیصلے کی کاپی آنے کے کچھ ہی دیر بعد کہاں سے مل گئی؟ عام طور پر فیصلے کی کاپی چار دن میں ملتی ہے۔ضلع جج کے ذریعہ فیصلہ سنانے کے کچھ ہی دیر بعد بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کے ذریعہ فیصلے کی کاپی شیئر کرنے کے معاملے پر بامبے ہائی کورٹ نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور ضلع جج کو اس معاملے کی جانچ کرنے کے لیے کہا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ ضلع جج اس بات کو دیکھیں کہ فیصلہ سنانے کے محض دو گھنٹے کے اندر کریٹ سومیا کو آرڈر کی کاپی کہاں سے مل گئی۔ ہائی کورٹ اس معاملے پر اگلی سماعت 24 اپریل کو کرے گا۔قابل ذکر ہے کہ رجسٹرار آف کمپنیز کی شکایت پر پونے کی عدالت نے یکم اپریل 2022 کو شام 5 اور 5.30 بجے کے درمیان فیصلہ سنایا تھا۔ کریٹ سومیا نے حکم کی کاپی شام 7.30 بجے ٹوئٹ کر دی تھی۔ دوسری طرف ملزمین کو فیصلے کی کاپی 5 اپریل کو مل پائی تھی۔

بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس ریوتی موہیتے اور شرمیلا دیشمکھ کی بنچ نے کہا کہ بجلی کی رفتار سے کریٹ سومیا کو عدالتی فیصلے کی کاپی کہاں سے ملی، یہ فکر کا موضوع ہے۔ ہائی کورٹ نے پرنسپل ڈسٹرکٹ جج سے پوچھا ہے کہ آخر کیسے حسن مشرف کے معاملے میں درج ایف آئی آر کی کاپی بھی سومیا کو مجسٹریٹ سے پہلے مل گئی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ معاملے کے جانچ افسر کو طلب کر کے ان سے سوال جواب کیے جائیں کہ ایسا کیسے ہوا؟ بنچ نے مشرف کو 23 فروری کو کولہاپور میں درج معاملے میں راحت دیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ ان کے خلاف کوئی سزا کی کارروائی نہ کی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button