ٹائر کا پھٹنا کوئی قدرتی حادثہ نہیں! ممبئی کی عدالت نے بیمہ کمپنی کو معاوضہ کی ادائیگی کا دیا حکم
گاڑی کا پیچھے والا ٹائر پھٹ گیا اور کار ایک کھائی میں جا گری۔
ممبئی،12مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سڑک حادثہ کے ایک معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے ممبئی کی ایک عدات نے مشاہدہ کیا کہ ٹائر کا پھٹنا قدرتی حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی لاپروائی کا نتیجہ ہے۔ دراصل ایک بیمہ کمپنی نے سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا نہ کرنے کی عرضی دائر کی تھی۔ عدالت نے اس عرضی کو خارج کر دیا۔جسٹس ایس جی دییگے کی سنگل بنچ نے 17 فروری کے اپنے حکم میں نیو انڈیا انشورنس کمپنی لمیٹڈ کی موٹر کلیمز ٹریبیونل کے 2016 کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو خارج کر دیا۔ اس میں متاثرہ مکرند پٹوردھن کے کنبہ کو 1.25 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔خیال رہے کہ پٹوردھن 25 اکتوبر 2010 کو اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ پونے سے ممبئی آ رہے تھے۔
راستہ میں ان کی گاڑی کا پیچھے والا ٹائر پھٹ گیا اور کار ایک کھائی میں جا گری۔ اس حادثہ میں پٹوردھن کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی تھی۔ٹریبیونل نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ متاثرہ شخص اپنے خاندان کا واحد کمانے والا شخص تھا۔ جبکہ انشورنس کمپنی نے اپنی اپیل میں کہا کہ معاوضے کی رقم ضرورت سے زیادہ تھی اور ٹائر پھٹنا ’قدرتی حادثہ‘ تھا نہ کہ ڈرائیور کی غفلت کا نتیجہ۔ ہائی کورٹ نے اس اپیل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ڈکشنری میں ’ایکٹ آف گاڈ‘ کا مطلب ڈرائیونگ میں بے قابو قدرتی قوتوں کا ذکر ہے اور اس واقعہ میں ٹائر پھٹ جانا ایکٹ آف گاڈ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انسانی غفلت ہے۔



