
استاد کا مکروہ چہرہ نمودار، دسویں کی طالبہ کے ساتھ مہینوں تک زیادتی
بھوپال: (اردودنیا.اِن)بھوپال میں ایک کوچنگ ڈائریکٹر نے اساتذہ اور طلباء کے درمیان پاکیزہ رشتہ کو شرمسار کردیا۔ اطلا ع کے مطابق ملزم نے نہ صرف نئے سالِ نو کی تقریب کے بہانے دسویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ زیادتی کی بلکہ قریب ڈیڑھ ماہ تک جسمانی استحصال کرتارہا ۔
جس کی وجہ سے طالبہ ذہنی دباؤ میں تھی۔ بیٹی کی حالت ِ زار دیکھ کر جب والدہ نے اس سے پوچھ گچھ کی تواس مکروہ عمل اور استاد کے رشتہ کی شرمساری کا انکشاف ہوا۔خیال رہے کہ کوچنگ ڈائریکٹر فرار ہے ۔
شیو نگر میں رہنے والی ایک 16 سالہ لڑکی کلاس دسویں میں پڑھتی ہے۔ اس نے چھولہ مندر پولیس کو بتایا کہ وہ 80 فٹ روڈ پر ونود گوڑ کوچنگ سینٹر واقع ہے، وہ اس میں کوچنگ میں پڑھتی تھی۔ ونود گوڑ اسے پڑھاتے تھے۔ 31 دسمبر 2020 کو ونود نے کہا کہ آج نیا سال ہے۔انہوں نے جشن منانا شروع کیا۔منع کرنے بھی ونود اپنے عمل سے باز نہیں آیا ۔
اس دوران اس نے جنسی زیادتی کی۔انکار کرنے پر اس نے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو کچھ بتایا تو وہ اسے جان سے مار دے گا۔ اس کے بعدملزم استاد نے ’ونود‘ نے ڈیڑھ ماہ تک مسلسل زیادتی کی۔ وہ کوچنگ جانے سے گھبراتی تھی ، لیکن والدین سے ڈرکروہ کوچنگ جاتی تھی۔ماں نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیٹی ایک طویل عرصے سے دور رہ رہی تھی۔
وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی اور نہ ہی وہ کہیں جاتی تھی۔ کوچنگ کا وقت آنے پر وہ زیادہ گھبراجاتی تھی۔ بیٹی کی اس صورتحال کو دیکھ کر ماں نے جمعرات کے روز اس سے اچھی طرح سے بات کی اور تناؤ کی وجہ پوچھی، تو وہ رونے لگی۔
اس نے بتایا کہ ونود سر کوچنگ سینٹر میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ ونود فرار ہے، پولیس ملزم کی تلاش کر رہی ہے۔کوچنگ میں عصمت دری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سے پولیس حیرت زدہ ہے۔ اس کیس کی جڑ تک پہنچنے اور ملزم کا پتہ لگانے کے لئے پولیس کوچنگ میں پڑھنے والے طلباسے رابطہ کر رہی ہے۔



