بھگوا تنظیموں کی لو َجہاد، لینڈ جہاد اور معاشی بائیکاٹ کی آڑ میں محض 4 ماہ میں 50 ریلیاں
آزادیٔ اظہار کی آڑ مسلم منافرت کی کھیتی پھل پھول رہی ہے
ممبئی ، 20مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہندوستان میں مسلم منافرت کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس درمیان ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے ہندو تنظیموں کی مسلم منافرت کی قلعی کھول کر سامنے رکھ دی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں گزشتہ سال نومبر سے اب تک تقریباً 4 ماہ میں کم از کم 50 ’ہندو جن آکروش مورچہ‘ ریلیاں منعقد کی گئی ہیں۔ ریاست کی تقریباً سبھی 36 اضلاع میں ہوئی ان ریلیوں میں سے ہر ایک میں طے پیٹرن پر عمل کیا گیا ہے۔ ریلیوں میں لوگ ہاتھوں میں بھگوا پرچم لیے اور مہاراشٹر کی ٹوپیاں پہنے لوگوں کا گروپ شہر کے بیچوں بیچ ایک مختصر مارچ نکالتے ہیں اور اس کے بعد ایک چھوٹی ریلی کرتے ہیں۔
ریلی میں بنے عارضی اسٹیج پر مقرر اقلیتوں (مسلمانوں) پر زبانی حملہ کرتے ہیں۔ لو جہاد، لینڈ جہاد، جبراً مذہب تبدیلی اور مسلم طبقہ کے معاشی بائیکاٹ کے ایشوز پر بات کرتے ہیں۔ یعنی مہاراشٹر میں مسلم منافرت اپنے عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی نے یہ کہتے ہوئے خود کو ایسی ریلیوں سے کنارہ کر لیا ہے کہ ریلیاں ہندوتوا اور آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کے ذریعہ تیار ادارہ ’سکل ہندو سماج‘ کے ذریعہ کی جا رہی ہیں۔ لیکن ان میں سے تقریباً سبھی تقاریب میں مقامی بی جے پی رکن اسمبلی اور رکن پارلیمنٹ کی موجودگی رہی ہے۔ حالانکہ تقریریں بڑے پیمانے پر رائٹ وِنگ سے جڑے کٹرپسندوں کے ذریعہ کی جاتی ہیں۔ ان میں معطل بی جے پی لیڈر اور تلنگانہ رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ، کالی چرن مہاراج اور کاجل ہندوستانی شامل ہیں۔
ٹی راجہ سنگھ اور کالی چرن مہاراج تو قابل اعتراض بیان بازی کو لے کر قانونی معاملوں کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔لیکن ٹی راجہ مہاراشٹر میں مسلم مخالفت والی ریلیوں کا ایک مشہور چہرہ ہیں۔ کالی چرن مہاراج عرف ابھجیت دھننجے سارنگ مہاراشٹر واقع اکولا کے باشندہ ہیں۔ ملک کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کے خواہشمند اس شخص کو دسمبر 2021 میں ایک دھرم سنسد میں ان کے اشتعال انگیز بیان کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہاں انھوں نے مبینہ طور پر ناتھورام گوڈسے کی تعریف کی تھی۔ کاجل ہندوستانی عرف کاجل شنگلا بھی ہیں جو گجرات کے باشندہ ہیں اور ہندوتوا کارکن کی شکل میں جانے جاتے ہیں۔ ہندو جن آکروش مورچہ ریلیوں کے علاوہ پورے مہاراشٹر میں اسی طرح کی کئی ریلیاں ہوئی ہیں۔
ان میں ہندو جن جاگرتی سمیتی، گوا واقع ایک تنظیم کے ذریعہ منعقد ’ہندو راشٹر جگرتی سبھا‘ بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد ’ہندو راشٹر‘ قائم کرنا ہے۔ ان ریلیوں میں بھی اشتعال انگیز تقریریں ہوتی ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں تقاریب کے منتظم الگ الگ ہیں، لیکن بلائے جانے والے مقرر ایک ہی ہیں۔خیال رہے کہ ان ریلیوں اور اقلیتی طبقہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے بی جے پی بھلے ہی خود کو الگ ٹھہرا رہی ہے، لیکن ان میں پارٹی لیڈروں اور وزراکی شراکت داری کے بارے میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کا بیان چشم کشا ہے۔ انھوں نے جنوری میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’کچھ ریلیوں میں ہمارے پارٹی کارکنان یا لیڈران موجود رہے ہیں، کیونکہ وہ بھی ہندو ہیں۔ اگر ہندوؤں کے مسائل کو لے کر ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے تو فطری ہے کہ یہ لیڈران حصہ لے سکتے ہیں۔ لیکن یہ بی جے پی کا ایجنڈا نہیں ہے۔توجہ طلب بات یہ ہے کہ مہاراشٹر پولیس کے جوانوں کو ایسی بیشتر ریلیوں میں تقریر کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا، لیکن ابھی تک کسی بھی مقرر کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں کیا گیا ہے۔



