قومی خبریں

مودی سرنیم کے معاملہ میں راہل گاندھی نے نہیں مانگی معافی، دو سال جیل کی سزا، پھر ضمانت

راہل گاندھی کو 2019 میں کی گئی ایک تقریر کے لیے ہتک عزت کا مجرم پایا جس میں انہوں نے چوروں کو مودی کا نام دیا تھا

نئی دہلی:23/مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سورت کی ایک عدالت نے 23 مارچ کو وایناڈ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کو ’مودی‘ سرنیم پر ہتک عزت کے معاملے میں دو سال قید کی سزا سنائی۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے راہل گاندھی کو مجرمانہ ہتک عزت کیس میں مجرم قرار دیا ہے۔سماعت کے دوران راہل گاندھی نے عدالت سے کہا کہ میری نیت غلط نہیں تھی۔ ان کے بیان سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اس معاملے میں اپنے لیے کم سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ وایناڈ کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف ان کے ایک قابل اعتراض تبصرہ پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم اب راہل کو اس معاملے میں ضمانت مل گئی ہے۔ انہوں نے سماعت کے دوران اپنے بیان پر معافی مانگنے سے انکار کردیا۔

2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کرناٹک کے کولار میں ایک ریلی کے دوران راہل گاندھی نے کہا تھا کہ تمام چوروں کی کنیت مودی کیوں ہے؟ اس تبصرے پر کافی ہنگامہ ہوا۔ جس کے بعد بی جے پی ایم ایل اے اور گجرات کے سابق وزیر پورنیش مودی نے اس تبصرہ کو لے کر مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ کہا گیا کہ راہل گاندھی کا بیان پوری مودی برادری کی تضحیک ہے اور اس نے پوری مودی برادری کو بدنام کیا ہے۔پورنیش مودی کے وکیل نے دلیل دی کہ راہل گاندھی کی تقریر کی سی ڈی ثابت کرتی ہے کہ انہوں نے ریلی میں یہ ریمارکس دیئے تھے۔ جس پر راہل گاندھی کے وکیل نے استدلال کیا کہ کارروائی میں شروع سے ہی خامی تھی، کیونکہ سی آر پی سی کی دفعہ 202 کے تحت قانون کے مطابق عمل نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کوایک متاثرہ فریق کے طور پر اس معاملے میں شکایت کنندہ ہونا چاہیے تھا نہ کہ پورنیش مودی۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی زیادہ تر تقاریر میں وزیر اعظم کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایک زمانے میں غالب رہنے والی کانگریس پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں منتخب نشستوں میں سے 10% سے بھی کم پر کنٹرول رکھتی ہے اور حال ہی میں 2019 میں لگاتار دو عام انتخابات میں بی جے پی سے بری طرح ہار گئی ہے۔عرضی داخل کرنے والے پورنیش مودی نے کہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ناانصافی کیخلاف آواز اٹھانے پر ایجنسیاں لاد دی جائیں گی، مگر گاندھی نہیں ڈرتے: کانگریس

’’ مودی‘‘ سرنیم پر تبصرہ کرنے کے معاملہ میں سورت کی عدالت سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کو سزا سنائے جانے کے بعد کانگریس پارٹی اور لیڈران کی جانب سے سخت رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کو سچائی اور محروموں کے لئے آواز اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے اور گاندھی نہیں ڈرتے۔کانگریس کے ٹوئٹر ہینڈل سے راہل گاندھی کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ان کا بیان ہے میں سچائی میں یقین رکھتا ہوں۔ میں سچائی کے لئے لڑتا ہوں۔ میں بی جے پی-آر ایس ایس سے نہیں ڈرتا اور یہی بات انہیں پریشان کرتی ہے۔انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ بزدل، تاناشاہ بی جے پی سرکار راہل گاندھی اور اپوزیشن سے بوکھلائی ہوئی ہے کیونکہ ہم ان کے سیاہ کرتوتوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ جے پی سی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سیاسی دیوالیہ پن کا شکار مودی حکومت ای ڈی اور پولیس کو بھیجتی ہے۔ سیاسی تقاریر پر مقدمات مسلط کرتی ہے۔ ہم ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے ٹوئٹ کیا کہ یہ نیو انڈیا ہے۔ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاؤگے تو ای ڈی-سی بی آئی، پولیس، ایف آئی آر سب سے لاد دیئے جاؤ گے۔ راہل گاندھی کو بھی سچ بولنے کی، تاناشاہ کے خلاف آواز بلند کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ ملک کا قانون راہل گاندھی کو اپیل کا موقع فراہم کرتا ہے، وہ اس حق کا استعمال کریں گے۔ ہم ڈرنے والے نہیں۔کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ ڈری ہوئی پوری مشینری سام، دام، ڈنڈ بھید (تمام طرح کے حربے) کے ذریعے راہل گاندھی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

میرے بھائی نہ کبھی ڈرے ہیں، نہ کبھی ڈریں گے۔ سچ بولتے ہوئے جیے ہیں، سچ بولتے رہیں گے۔ ملک کے لوگوں کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ سچائی کی طاقت اور ملک کے کروڑوں شہریوں کا پیار ان کے ساتھ ہے۔پارٹی کی قومی ترجمان سپریہ شرینیت نے لکھا کہ تمہارا پورا نظام، تمہارے وسائل، تمہاری پولیس اور تم، ایک شخص کو خاموش کرنے میں مصروف ہو، کیونکہ اس نے تمہارے مکھوٹے کو بے نقاب کر دیا ہے۔دیکھنا، سچ کی طاقت- جیت اسی کی ہوگی۔ گاندھی ڈرتے نہیں ہیں۔

سورت کورٹ سے سزا کے بعد مختلف جماعتوں نے کی راہل کی حمایت

 گجرات کے سورت سیشن کورٹ سے راہل گاندھی کو 2019 میں دیئے گے ’مودی سر نیم‘ والے بیان سے متعلق معاملہ میں قصوروار قرار دیتے ہوئے دو سال کی سزا سنائی ہے۔ تاہم کانگریس رکن پارلیمنٹ کو فوری طور پر ضمانت مل گئی۔ اس معاملہ پر کانگریس نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ جبکہ دیگر جماعتوں نے بھی راہل گاندھی کی حمایت کی ہے۔عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے راہل گاندھی کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی پر نکتہ چینی کی ہے۔ کجریوال نے کہا کہ غیر بی جے پی لیڈروں اور پارٹیوں کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ کانگریس سے اختلافات ہیں لیکن راہل گاندھی کو اس طرح سے ہتک عزت کے مقدمہ میں پھنسانا صحیح نہیں ہے۔

ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں لیکن اس فیصلہ سے اتفاق نہیں رکھتے۔

وہیں، جے ایم ایم لیڈر اور وزیر اعلیٰ جھارکھنڈ ہیمنت سورین نے کہا کہ عدلیہ پر پورا بھروسہ رکھتے ہوئے بھی میں ہتک عزتی معاملہ میں راہل گاندھی کو سزا کے فیصلہ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ غیر بی جے پی حکومتوں اور لیڈروں کو سازش کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ یہ ملک کی جمہوریت اور سیاست کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ مگر لیکن جن ترنتر (جمہوریت) کے سامنے دھن تنتر (پیسے کا نظام) کی کوئی بساط نہیں۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے کہاکہ چکرویوہ رچ کر اپوزیشن لیڈروں پر ای ڈی، آئی ٹی، سی بی آئی سے چھاپہ کراؤ اور پھر بھی بات نہ بنے تو گھناؤنی سازش کرتے ہوئے مختلف شہروں میں بے بنیاد مقدمہ درج کراؤ تاکہ ہیڈلائن مینجمنٹ میں کوئی کور کسر باقی نہ رہ جائے۔ یہ آئین، جمہوریت، سیاست اور ملک کے لئے شدید تشویش کا موضوع ہے۔خیال رہے کہ راہل کے خلاف یہ مقدمہ ان کے اس ریمارک پر درج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ کیوں تمام چوروں کا سرنیم مودی ہی ہوتا ہے؟۔ راہل کے بیان کے خلاف گجرات سے بی جے پی کے رکن اسمبلی نے عرضی دائر کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button