بین ریاستی خبریںسرورق

دہلی میں پوسٹر وار: کجریوال کے خلاف بھی پوسٹربازی ،بتایا بے ایمان، رشوت خور اور تاناشاہ

راجدھانی دہلی میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان پوسٹر وار شروع ہو گئی

نئی دہلی ، 23مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)راجدھانی دہلی میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان پوسٹر وار شروع ہو گئی ہے۔ پہلے شہر بھر میں پی ایم مودی کے خلاف پوسٹر لگائے گئے اور اب دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے خلاف پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ منڈی ہاؤس کے قریب پوسٹر پر دہلی کے وزیر اعلیٰ کی تصویر ہے جس پر لکھا ہے ’’اروند کجریوال کو ہٹاؤ، دہلی کو بچاؤ۔‘‘ واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف جو پوسٹر لگائے گئے تھے لگانے والے کا نام نہیں تھا جبکہ کجریوال کے خلاف لگائے گئے پوسٹر پر نیچے منجندر سنگھ سرسا کا نام لکھا گیا ہے۔پوسٹر میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کو ’بے ایمان، رشوت خور اور تاناشاہ‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔

قبل ازیں، منگل (21 مارچ) کو وزیر اعظم مودی کے خلاف قابل اعتراض پوسٹر پورے دہلی شہر میں دیکھے گئے تھے۔ اس کے خلاف دہلی پولیس نے تقریباً 100 ایف آئی آرز درج کی ہیں اور 6 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔وزیر اعظم کے خلاف لگائے گئے ان پوسٹروں پر لکھا تھا کہ ’مودی ہٹاو-دیش بچاؤ۔‘ دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کے دفتر سے ایک وین بھی ضبط کی، جس میں اس طرح کے ہزاروں پوسٹر رکھے گئے تھے۔ ان پوسٹروں پر پرنٹنگ پریس کا کوئی نام نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ایسی معلومات تھی جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ یہ پوسٹرز کس نے چھاپے ہیں۔پولیس کی کارروائی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے وزیر اعظم مودی کوعدم تحفظ کا شکار اور خوف زدہ قرار دیا، جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے ہیڈ کوارٹر سے نکلنے والی گاڑی سے 2000 سے زیادہ پوسٹر ضبط کئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ دہلی کے کئی حصوں میں دیواروں اور ستونوں پر ایسے پوسٹر چسپاں پائے گئے جن پر پی ایم مود ی کے خلاف تحریریں درج تھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button