سرورققومی خبریں

راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت ختم

لوک سبھا سکریٹریٹ نے نوٹیفکیشن جاری کیا، کانگریس کا شدید رد عمل

نئی دہلی،24مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو دو دنوں میں دوسرا شدید جھٹکا لگا ہے۔ 23 مارچ کو سورت کی ایک عدالت نے ہتک عزتی معاملے میں انھیں قصوروار قرار دیتے ہوئے دو سال قید کی سزا سنائی تھی، اور آج لوک سبھا سکریٹریٹ نے ان کی پارلیمانی رکنیت کو رَد کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’مودی‘ سر نیم (کنیت) پر قابل اعتراض تبصرہ کے معاملے میں راہل گاندھی کو سورت کے سیشن کورٹ نے جمعرات کے روز دو سال کی سزا سنائی تھی اور 15 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ سزا ملنے کے بعد سے ہی کہا جا رہا تھا کہ راہل گاندھی کی رکنیت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت کے فیصلے کے بعد ہی راہل گاندھی کو ایوان سے نااہل قرار دیے جانے کا عمل شروع ہو گیا تھا اور فوری طور پر کارروائی بھی ہو گئی ہے۔

دراصل ضابطوں کے مطابق کسی بھی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا ملنے کے بعد رکنیت گنوانی پڑتی ہے۔ کیرالہ کے وائناڈ پارلیمانی سیٹ سے منتخب راہل گاندھی کو جب سورت کے سیشن کورٹ نے دو سال کی سزا سنائی تو اسی ضابطہ کے تحت کارروائی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ بالآخر لوک سبھا اسپیکر نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ لیا۔اب اس معاملے پر کانگریس کا شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر بیان دیا ہے کہ راہل گاندھی جی کی لوک سبھا رکنیت ختم کر دی گئی۔

وہ آپ کے اور اس ملک کے لیے لگاتار سڑک سے پارلیمنٹ تک لڑ رہے ہیں، جمہوریت کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ہر سازش کے باوجود وہ یہ لڑائی ہر قیمت پر جاری رکھیں گے اور اس معاملے میں قانونی کارروائی کریں گے۔ لڑائی جاری ہے۔راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت رد ہونے پر راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کی تنقید کی ہے۔ اشوک گہلوت نے کہا کہ راہل گاندھی اپوزیشن کی آواز ہیں اور اب یہ آواز اس تاناشاہی کے خلاف مزید مضبوط ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت ختم کرنا تاناشاہی کی ایک مثال ہے۔ بی جے پی یہ نہ بھولے کہ یہی طریقہ انھوں نے اندرا گاندھی کے خلاف اختیار کیا تھا اور ان کو منھ کی کھانی پڑی۔ راہل گاندھی ملک کی آواز ہیں جو اس تاناشاہی کے خلاف اب مزید مضبوط ہوگی۔

قانون کیا ہے؟

اگر ایم ایل اے کو کسی بھی معاملے میں دو یا اس سے زیادہ سال کی سزا سنائی جاتی ہے تو اس کی رکنیت منسوخ کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ چھ سال کے لیے الیکشن لڑنے کے لیے بھی نااہل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر راہل گاندھی کو اوپری عدالت سے راحت نہیں ملتی ہے تو راہل گاندھی 2024 کا لوک سبھا الیکشن نہیں لڑ پائیں گے، جو ان کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔

وہ کون سا معاملہ ہے جس میں راہل کو سزا سنائی گئی؟

راہل گاندھی نے کہا تھا، سارے چوروں کے سرنیم مودی کیسے ہے؟ اس کو لے کر بی جے پی ایم ایل اے اور گجرات کے سابق وزیر پرنیش مودی نے راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل نے اپنے ریمارکس سے پوری مودی برادری کا وقار مجروح کیا ہے۔

  • قانونی ماہرین کے مطابق لوک سبھا سکریٹریٹ نے راہل گاندھی کی وایناڈ پارلیمانی سیٹ کو خالی قرار دیا ہے۔ الیکشن کمیشن اب اس سیٹ پر الیکشن کا اعلان کر سکتا ہے۔ راہل گاندھی سے دہلی میں سرکاری بنگلہ خالی کرنے کو بھی کہا جا سکتا ہے۔
  • اگر راہول گاندھی کی سزا کے فیصلے کو اعلیٰ عدالتیں بھی برقرار رکھتی ہیں تو وہ اگلے 8 سال تک الیکشن نہیں لڑ سکیں گے۔ 2 سال کی سزا پوری کرنے کے بعد وہ 6 سال کے لیے نااہل ہو جائیں گے۔
  • راہل گاندھی اب سورت کی عدالت کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔ کانگریس نے اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ صرف صدر ہی الیکشن کمیشن کی مشاورت سے کسی رکن اسمبلی کو نااہل قرار دے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button