سرورقگوشہ خواتین و اطفال

پیاس بجھائیں افطار کیلئے بہترین شربت-فرحین عدنان بنگلور

رمضان میں مختلف مشروبات کو استعمال کر کے آپ رمضان کو بہترین طریقے سے گزار سکتے ہیں۔

رمضان میں روزے رکھنے کی وجہ سے پیاس کی شدت میں اضافہ ہونے لگتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے رمضان میں مختلف مشروبات کو استعمال کر کے آپ رمضان کو بہترین طریقے سے گزار سکتے ہیں۔

افطار سے سحری تک پانی کا استعمال

افطاری کا آغاز دو گلاس پانی سے کریں، ایسا کرنے سے رات سے لے کر سحری تک کم سے کم ڈیڑھ سے ڈھائی لیٹر پانی پینے کا ہدف طے کریں۔ افطاری کے وقت پانی ایک ہی وقت میں مت پئیں اس سے آپ کے گردوں پر بوجھ پڑتا ہے۔ پانی کو اپنے اوقات میں پینا زیادہ مناسب ہو گا جیسا کہ اگر آپ کو پسینہ آیا ہے، گرمی لگ رہی ہے یا پھر آپ ورزش سے فارغ ہوئے ہیں تو آپ کو ٹھنڈا پانی پینا چاہیے، ٹھنڈا پانی جسم کی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ جسم کو تروتازہ بھی بنا دیتا ہے۔اگر آپ گرم پانی کا انتخاب کرتے ہیں تو گرم پانی آپ کی پیاس کو کم کرنے میں مدد کرے گا اور آپ کے ہاضمے میں مدد کرے گا۔

گرم پانی خون کی گردش میں بہتری لاتا ہے جو پٹھوں کے آرام اور قبض سے بچنے کے لیے بے حد مفید ہے۔اس کے علاوہ آپ پانی کا استعمال جب بھی پینے کے لیے کریں یہ آپ کے لے مفید ہی ہے آپ کو فائدہ ہی پہنچے گا اس کا کوئی نقصان نہیں ہے، پانی کا صحیح استعمال کرنے کے لیے پانی کا ایک شیڈول بنا لیں، پانی کو کچھ وقفے کے ساتھ آہستہ آہستہ پئیں۔

رمضان کے مشروبات

رمضان میں جہاں لوگ پانی اور جوس کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں وہیں روح افزا جیسے روایتی مشروبات کا استعمال بھی عام ہے۔ یہ میٹھا مشروب پیاس بجھانے اور جسم کو ٹھنڈا کرنے میں مدد کرتا ہے۔روح افزا کے ساتھ تخم ملنگا کا استعمال بھی رمضان میں کافی عام ہے۔ اس کے علاوہ لوگ لیمو، صندل جیسے مشروبات بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ فوری جوس آسانی سے چند منٹوں میں بنائے جا سکتے ہیں اور افطاری میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

دودھ سے بنے مشروبات

رمضان میں دودھ یا دہی کو بطور مشروب استعمال کرنا بھی ایک اچھا عمل ہو گا۔ جہاں یہ جسم کو آبی کمی کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں وہاں ہمیں ان سے کیلشیم، معدنیات اور پروٹین بھی حاصل ہوتا ہے جو اس ماہ مقدس میں روزے رکھنے کی وجہ سے ہمیں نہیں ملتی۔

شدید پیاس کو بجھانے میں پانی کے مقابلے میں دودھ یا دہی زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ان میں موجود کاربوہائیڈریٹس اور الیکٹرولائٹس جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتے ہیں، اسی لئے اکثر افراد افطار کے وقت دودھ والے شربت کو استعمال کرتے ہوئے افطار کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی پیاس فوری بجھ جاتی ہے بلکہ روزے دار کے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سحری میں بھی پراٹھے اور مصالحے دار کھانے وغیرہ کھانے کے بعد شربت بنانے کے لیے آپ تخم ملنگا اور کھجور کو بھی دودھ میں ملا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ افطار میں اپنے کھانے کے ساتھ میٹھی یا نمکین لسی پی سکتے ہیں۔

پھلوں کا ملک شیک

اکثر پھلوں کا استعمال جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہوتا ہے، لیکن اگر ان پھلوں کا رس نکال لیا جائے یا پھر ان کو دودھ یا پانی میں ملا کر ان کا شیک بنا لیا جائے تو اس کے اثرات بھی جسم پر بہت اچھے پڑتے ہیں۔سحر و افطار دونوں اوقات میں پھلوں کا ملک شیک بنا کر پینا بہت مفید ہے کیوں کہ یہ پھل غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ عام طور پر تربوز، اسٹرابیری، کیلے، اورنج وغیرہ ایسے پھل ہیں جن کا ملک شیک بنا کر پینے سے روزے دار کی صحت کے لیے اچھا ہے۔آپ کیلے اور کھجور کا ملک شیک بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ غذائیت سے بھرپور مشروب مزیدار بھی ہے اور آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔

ادرک کا شربت

یہ مشروب ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو اپنی صحت کو بہت ترجیج دیتے ہیں۔ اس مشروب میں شامل ادرک پیٹ پھولنے اور گیس کا فوری علاج ہے۔یہ مشروب صرف تین اجزا سے مل کر بنتا ہے جن میں ادرک کا جوس، لیموں کا عرق اور ہلکے سے نمک کے ساتھ شفاف پانی ملائیں تو یہ مشروب تیار ہو جاتا ہے۔ اس مشروب میں موجود اجزا نہ صرف ذائقے کے لحاظ سے مفید ہیں بلکہ یہ پیٹ کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔

ستو کا شربت

مصنوعی مشروبات پینے سے پیٹ میں بہت زیادہ گیس بننے لگتی ہے اور ایسے مشروبات کا استعمال گردوں اور جسم کے باقی آرگنز کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ گرمی کے اس موسم میں روزہ افطاری کے لیے ایک بہترین مشروب ستو اور شکر ڈال کر پئیں۔

ستو تاثیر میں نہایت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ گرمی کے موسم میں روزے کی وجہ سے روزہ افطار ستو اور شکر ملے پانی سے کرنا چاہیے۔ اس مشروب کے استعمال سے نہ صرف پیاس کم ہو جاتی ہے بلکہ روزے کی صورت میں جو دن بھر کھانے کا وقفہ ہوتا ہے اس کے نتیجے میں جو غذائی کمی ہو جاتی ہے وہ رفع ہونے لگتی ہے اور اس کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی بھی نہیں ہوتی۔ستو کا شربت پیاس کو کم کر کے ہمارے جسم کو تسکین پہنچاتا ہے اور طبیعت کو فرحت بخشتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شربت ہاتھ پاؤں کی جلن کو ختم کرتا ہے اور گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔

بادام کا شربت

شربت بادام پیاس کی شدت کو بجھانے کے ساتھ ساتھ آپ کی غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اس شربت کو بنانا بھی نہایت آسان ہے۔دودھ میں حسب پسند بھیگے اور چھلے ہوئے بادام لیں، اس میں چٹکی بھر زعفران شامل کریں اور پھر سبز الائچی کے چند دانے ڈالیں اور اس میں حسب ذائقہ چینی ڈال کر اس مکسچر کو گرائینڈ کر لیں اور پھر اس مشروب کو سحر و افطار میں مزے سے پئیں۔

شہد کا شربت

شہد کو پانی کے ساتھ ملا کر پینا توانائی کے علاوہ جسم کی اضافی چکنائی کو بھی ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس مشروب کو تیار کرنا نہایت آسان ہے، نیم گرم پانی میں حسب پسند شہد ملائیں اور اسے اچھی طرح سے مکس کریں پھر اس میں تھوڑی سی برف شامل کریں، شہد کا شربت تیار ہے جو نہ صرف رمضان کے مہینے میں بلکہ اس کو اپنی روٹین میں شامل کرنا نہایت فائدے مند ہے۔

املی کا شربت

ملٹھی اور املی سے بنے مشروبات جسم سے تیزابیت کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ بلند فشار خون کے حامل افراد کے لیے ملٹھی اور املی سے بنے مشروبات کا استعمال موزوں نہیں ہے۔

خوبانی کا شربت

خوبانی کا جوس آنتوں کی حرکت اور ان کی صفائی میں مدد کرتا ہے۔خوبانی کو پانی میں بھگودیں جب نرم ہوجائے تو ہاتھ سے مسل کر چھان لیں اور حسب ضرورت چینی، شہد اور برف ملاکر استعمال کریں۔

چقندر کا شربت

ماہ رمضان میں چقندر کا جوس بنا کر پینے سے پیاس کا احساس کم ہونے لگتا ہے۔ اس کے جوس کا ایک کپ عام طور پر سو کیلریز اور پچیس گرام کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔چقندر فولیٹ، پوٹاشیم، کیلشیم، ریشے اور دافع تیزابیت اور نائٹریس کا خزانہ ہے۔یہ نہ صرف جسم میں پانی کی مقدار کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر کم کرنے اور اسٹیمنا بڑھانے میں بھی مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ ان سے گردش خون اور آکسیجن کی فراہمی میں بہتری ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button