دہلی کے جہانگیر پوری میں پابندی کے باوجود نکالا گیا رام نومی کا جلوس
امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے دہلی پولیس کے اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعیناتی کی گئی۔
نئی دہلی، 30مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی کے جہانگیرپوری علاقے میں دہلی پولیس کی جانب سے رام نومی کا جلوس نکلانے کی اجازت نہیں دیئے جانے کے باوجود ہندو برادری نے جمعرات کے روز جلوس نکالا۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ دریں اثنا، کسی بھی صورت حال سے نمٹنے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے دہلی پولیس کے اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعیناتی کی گئی۔گزشتہ سال اس علاقہ میں رام نومی کے ہنومان جینتی کے موقعہ پر جلوس نکالا گیا تھا، جس میں تشدد برپا ہوگیا تھا،اور مسجد کی بے حرمتی کی گئی تھی۔ لہٰذا پولیس نے اس مرتبہ حفاظت کے پختہ انتظامات کیے تھے۔ قبل ازیں، دہلی پولیس نے پیر کے روز ’شری رام بھگوان مورتی جلوس‘ نکالنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
اسی کے ساتھ اس علاقے کے ایک پارک میں رمضان کے دوران نماز ادا کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔پیر کو اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، ہیڈ کوارٹر، شمال مغربی ضلع کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیاکہ مجھے آپ کو یہ بتانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ رام نومی کے موقع پر جمعرات کو شری رام بھگوان پرتیما یاترا کے لیے آپ کی درخواست پر مجاز اتھارٹی نے غور کیا، لیکن امن و امان کے نقطہ نظر سے قبول نہیں کیا جا سکا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 16 اپریل کو جہانگیر پوری کے علاقے میں ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ہونے والے تشدد میں کم از کم آٹھ پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہوئے تھے۔ بعد ازان انتظامیہ نے انہدامی کارروائی کرتے ہوئے مسلمانوں سے وابستہ کئی عمارتوں کو مسمار کر دیا تھا۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے اور تشدد کو بھڑکانے والے لوگ آزاد گھوم رہے ہیں۔



