اسباب و عوامل-پاؤں پر سوجن کیوں ہوتی ہے؟
جسم میں پانی کے جمع ہونے کو طبی اصطلاح میں ’’ایڈ یما (Edema) کہتے ہیں
جسم میں پانی کے جمع ہونے کو طبی اصطلاح میں ’’ایڈ یما (Edema) کہتے ہیں جس سے جسم کے مختلف حصوں پر سوجن ہو جاتی ہے۔ جسم میں پانی زیادہ جمع ہونے کے اثرات (Water retention) ٹانگوں، ٹخنوں، پائوں کے علاوہ چہرے اور ہاتھوں پر ورم کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ اس کا سبب جسم کے عضلات میں سیال مادوں کا جمع ہونا ہوتا ہے۔
کوئی کام کرتے ہوئے ایک جگہ دیر تک بیٹھے رہنے یا طیارے میں لمبی پرواز کے دوران مسلسل بیٹھے رہنے، دوران حمل ہارمون کی سطح میں تبدیلی یا بہت دیر تک کھڑے رہنے سے بھی پائوں اور دیگر حصوں میں سوجن ہو سکتی ہے۔ انسانی جسم 50 سے 60 فیصد پانی سے بنا ہے۔
اگر آپ کے جسم کو پانی کی وہ مقدار نہیں مل رہی ہے جو اسے ملنی چاہیے یعنی جسم میں پانی کی سطح متوازن نہیں ہے تو پھر آپ کا جسم پانی روک کر وہ مقدار پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم بعض سنگین طبی مسائل سے بھی ’’ایڈ یما کی شکایت ہو سکتی ہے۔ سبب پر انحصار کرتے ہوئے آپ اپنی غذا میں مناسب تبدیلیاں لا کر یادن میں دیر تک ایک جگہ بیٹھنے سے گریز کر کے ایڈ یما سے نجات پاسکتے ہیں۔ اگر کسی طبی مسئلے کی وجہ سے یہ شکایت پیدا ہوئی ہے تو معالج اس سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔
جسم میں پانی رکنے کی علامتیں
جسم میں اگر پانی جمع ہو تو آپ خود کو معمول سے زیادہ بھاری، کم پھر بتلایا کم چاق و چوبند محسوس کر سکتے ہیں۔ جسم میں پانی رکنے کی کچھ قابل علامتیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جن میں پیٹ پھولنا بالخصوص پیٹ کے نچلے حصے میں، سوجی ہوئی ٹانگیں، پائوں اور ٹخنے، پیٹ، چہرہ اور کولہوں کا پھولا ہوا ہونا، جوڑوں میں سختی اور جسمانی وزن کم یازیادہ ہو نا شامل ہے۔
پانی جمع ہونے کے اسباب
جسم میں پانی جمع ہونے کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ بعض اسباب کسی سنگین طبی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ اور کچھ دیگر اتنے سنگین نہیں ہوتے۔ ان اسباب میں یہ چیزیں شامل ہیں۔
طیارے میں پرواز کرنا
کیبین پریشر میں تبدیلی اور بہت دیر تک طیارے میں بیٹھے رہنے سے آپ کا جسم پانی روک لیتا ہے۔
بہت دیر تک کھڑے رہنا یا بیٹھنا
کشش نقل کی وجہ سے جسم میں خون نچلے اعضا کے کناروں میں جمع رہتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ ہر تھوڑی دیر کے بعد اپنی جگہ سے اٹھیں اور کچھ دیر چکر لگائیں تا کہ خون کا بہائو پورے جسم میں معمول کے مطابق ہوتار ہے۔ اگر آپ کی ملازمت ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنے کی ہے تو آپ اپنی جگہ سے اٹھنے اور آس پاس چہل قدمی کا کوئی شیڈول بنالیں۔
بہت زیادہ سوڈیم کا استعمال
کھانے میں نمک زیادہ استعمال کرنے یا پروسیڈ غذائوں اور سافٹ ڈرنکس کے استعمال سے بھی آپ اپنے جسم میں زیادہ سوڈیم جمع کر سکتے ہیں۔ نمک کی یہ زیادتی بھی جسم میں پانی کو روکنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
مخصوص دوائیں
بعض دوائوں سے بھی ان کے منفی اثرات سے جسم میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔ ان دوائوں اور علاج میں کیمو تھراپی ٹریٹمنٹس، در ددور کرنے والی دوائیں، بلڈ پریشر کی دوائیں، پارکنسنز کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائیں اور مانع حمل بار مونل ادویات شامل ہیں۔
ہارٹ فیلیئر
دل اگر موثر مقدار میں خون پمپ نہ کر سکے تو اس صورت حال کو دل کا ناکارہ ہونا یاHeart failure کہتے ہیں اور اس صورت میں بھی جسم میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔
ڈیپ دین تھرومبوسس
ٹانگوں میں سوجن کی ایک وجہ DVT Deep Vein Thrombosis ہوتی ہے جو خون کی نالی میں خون کی پھٹکی کے پھنسنے کے باعث ہوتی ہے اور اس کیلئے ہنگامی طبی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
حمل
حمل کے دوران چونکہ وزن بڑھ جاتا ہے اور چلنا پھرنا مشکل محسوس ہوتا ہے اس لئے اگر ضرورت کے مطابق چہل قدمی نہ کی جائے تو اس سے بھی ٹانگوں میں سیال مادہ جمع ہو سکتا ہے۔
امراض گردہ
اگر مریض طویل عرصے سے گردے کے امراض میں مبتلا ہے تو اس کے بازوئوں اور ٹانگوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گردے جسم سے اضافی سیال مادوں کو چھان کر صاف کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس کی وجہ سے سیال مادے جسم میں جمع ہونے لگتے ہیں۔
ورم جگر
جب جگر کے خلیات کے گل جانے سے آس پاس کی سیجیں سخت ہو جاتی ہیں اور جگر پر دبائو بڑھ جاتا ہے اور وہ مناسب مقدار میں پروٹین تیار نہیں کر پاتا تو جسم میں پانی جمع ہونے لگتا ہے۔
ایام میں تبدیلی
ایام میں تبدیلی اور ہار مونز کی سطح میں کمی بیشی سے بھی جسم میں سیال مادہ جمع ہو سکتا ہے۔
کیا پیچید گیاں ہو سکتی ہیں؟
جسم میں اگر مسلسل سیال مادہ جمع ہوتا رہے تو یہ کسی سنگین بیماری کی علامت ظاہر کرتا ہے جس میں ٹانگوں کی رگوں میں خون کی پھٹکی کی رکاوٹ سے شدید درد (DVT)، رحم میں Fibroids، ہارٹ فیلیئر، امراض جگر اور امراض گردہ شامل ہیں۔ پھیپھڑوں میں سیال مادہ جمع ہونے سے اگرچہ کہیں سوجن نظر نہیں آتی ہے لیکن Pulmonary Edema سانس لینے میں دشواری کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر دماغ میں پانی جمع ہونے لگے جسے Cerebral edema کہتے ہیں تو یہ صور تحال بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس سے دماغ کے اندر دباؤIntracranial pressure بڑھ جاتا ہے جس سے دماغ آکسیجن سے محروم ہو سکتا ہے اور وہ مناسب طور پر کام کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔
علاج کیا ہے؟
اگر کبھی آپ کو ہاتھوں، پائوں میں سوجن محسوس ہو اور کچھ دنوں میں وہ متوازن حالت کی طرف واپس نہ آئے تو آپ کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ طبی معالجین عام طور پر ایڈ یما کے سبب کو ٹھیک کر کے اس کا علاج کرتے ہیں۔
ایک ڈاکٹر ہی آپ کا معائنہ کر کے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آپ کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ جسم کو فاضل سیال مادوں سے نجات دلانے کیلئے پیشاب آور دوائیں (Diuretics) تجویز کریں تاکہ پیشاب کے راستے نمک اور پانی خارج ہو جائے۔ وہ آپ کو دبائو والے موزے پہننے اور غذائوں میں تبدیلی کا مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔ آپ اپنے طور پر بھی جسم میں پانی کے جمع ہونے کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔
اس مقصد کیلئے کھانے میں نمک کا استعمال کم کر دیں، تیار شدہ غذائیں اور پروسیسڈ گوشت سے پر ہیز کریں۔ ایسی غذائیں زیادہ استعمال کریں جن میں پوٹاشیم اور میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہو۔
ان غذائوں میں کیلے، ایواکاڈو، ٹماٹر، شکر قندی، ہرے پتے والی سبزیاں مثلاً پالک، بند گوبھی، سلاد کے پتے، مغزیات، مچھلی، انجیر، چاکلیٹ، پھلیاں، دہی شامل ہیں۔ سوتے وقت اپنے پائوں کو تھوڑی اونچائی پر رکھیں تاکہ سیال مادہ پائوں کی طرف نیچے جمع نہ ہو۔ دبائو ڈالنے والے موزے (Compression Socks) اور چست لیگنگز پہنے سے بھی سیال مادے ٹانگوں میں جمع نہیں ہوں گے۔



