قومی خبریں

جہانگیرپوری: کپل مشرا پہلے حراست میں ، پھر پولیس کے ساتھ ’شوبھا یاترا‘ میں ہوئے شامل

نئی دہلی،6 اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہنومان جینتی کے موقع پر دہلی کے جہانگیرپوری علاقے میں ’شوبھا یاترا‘ نکالی جا رہی ہے۔ پہلے اس شوبھا یاترا کو پولیس نے اجازت نہیں دی تھی، لیکن دیر شام اعلیٰ سطح پر ہوئی میٹنگوں کے بعد جلوس نکالنے کی اجازت مل گئی۔ ہندو واہنی اور بجرنگ دل کے کارکنان بڑی تعداد میں جہانگیر پوری کی سڑکوں پر دکھائی دے رہے ہیں، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس شوبھا یاترا میں شامل ہونے کے لیے بی جے پی کے شعلہ بیان لیڈر کپل مشرا بھی پہنچ چکے ہیں۔ انھیں کچھ دیر پہلے ہی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، لیکن اب وہ پولیس کے ساتھ جہانگیر پوری کی شوبھا یاترا میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ شوبھا یاترا میں پہنچنے سے کچھ ہی دیر پہلے کپل مشرا نے ٹوئٹ کر یہ جانکاری بھی دی تھی کہ وہ جہانگیر پوری آرہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شوبھا یاترا کو دیکھتے ہوئے جہانگیر پوری میں چپہ چپہ پر پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ کسی بھی طرح کا خوشگوار واقعہ پیش نہ آئے، اس کے لیے دہلی پولیس ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کر رہی ہے۔ اس درمیان ’ایچ‘ بلاک میں شوبھا یاترا کو رد کر دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 50 میٹر کی دوری پر سڑک پر ہی پروگرام چل رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے سیکورٹی اسباب کی بنا پر جہانگیر پور علاقے میں شوبھا یاترا نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دراصل سی اے اے کی مخالفت کے دوران اسی علاقے میں تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شوبھا یاترا کی اجازت دہلی پولیس کے ذریعہ نہیں دی گئی۔ لیکن ہنومان جینتی شوبھایاترا کے کنوینرس بغیر اجازت شوبھا یاترا نکالنے پر بضد رہے۔ اس کے پیش نظر دہلی پولیس نے وزارت داخلہ کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔ وزارت کی ہدایت پر دہلی پولیس نے جانکاری دی کہ شوبھا یاترا کے لیے اجازت دینے کو لے کر اتفاق قائم ہو گیا۔ نظامِ قانون بنائے رکھنے کے لیے جہانگیر پوری علاقہ میں ایک طے دوری کے اندر شوبھا یاترا نکالنے کی اجازت دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button