بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹرمپ کے مواخذہ کی کوشش ناکام، امریکی سینیٹ نے الزامات سے بری کر دیا

ٹرمپ کے مواخذہ کی کوشش ناکام، امریکی سینیٹ نے الزامات سے بری کر دیا

ٹرمپ کے مواخذہ کی کوشش ناکام، امریکی سینیٹ نے الزامات سے بری کر دیا
gettyimages

واشنگٹن: (ایجنسی) امریکی سینیٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی دوسری کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ سابق صدر پر امریکی دارالحکومت میں کیپٹل ہل پر چھ جنوری کو ہونے والے حملے کے ذمہ داروں کو اکسانے کا الزام تھا۔ مواخذے کے مقدمے کو سینیٹ کے دو تہائی اراکین کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

ہفتہ کو 100 نشستوں والی امریکی سینیٹ میں اس معاملے پر ہونے والی رائے شماری کا نتیجہ 57 کے مقابلے میں 43 رہا۔ سینیٹ کے 50 ری پبلکن اراکین میں سے سات نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے 50 اراکین کے موقف کی حمایت کی۔ تاہم یہ تعداد صدر ٹرمپ کو چھ جنوری کے واقعات کے لئے ذمہ دار ٹھیرانے کے لیے درکار دوتہائی یعنی 67 ووٹوں سے کم تھی۔

ہفتہ کی صبح امریکی سینیٹ میں سابق صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں گواہان کو طلب کرنے کے معاملے پر رائے شماری ہوئی تھی لیکن پھر یہ طے پایا تھا کہ گواہان کو طلب نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل گواہان کو طلب کرنے پر رائے شماری کروانے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پانچ روز تک جاری رہنے والے مواخذے کے مقدمے کی کارروائی ابھی مزید جاری رہے گی۔

سینیٹ کی جانب سے الزامات سے بری کیے جانے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو ملکی تاریخ کا سب سے بدترین سیاسی انتقام قرار دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر کو اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو عظیم ترن بنانے کی خوبصورت مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔اپنے بیان میں سابق صدر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس آنے والے مہینوں میں آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے اور میںآپ کے ساتھ مل کر اس ملک کو تمام امریکیوں کے لیے عظیم تر بنانے کا مشن حاصل کروں گا۔سابق صدر کے وکلا کے دلائل کے مطابق کیپٹل ہل پر حملے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

وکلا کے مطابق سابق صدر کو چھ جنوری کے واقعات کے لیے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد موردِ الزام ٹھیرانا غیر قانونی ہے۔جمعے کو ان کی ٹیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ پر یہ الزام کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل حملے کے لیے اکسایا تھا۔

درست نہیں ہے اور یہ کہ مواخذے کی کارروائی سیاسی مقاصد کے لیے کی جا رہی ہے۔ غیر قانونی طور پر انہیں نشانہ بنانے کے لیے یہ کارروائی ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button