قومی خبریں

بہاری مزدوروں پر حملے کی فرضی خبر کا معاملہ سپریم کورٹ نے بی جے پی لیڈر کو معافی مانگنے کا دیا حکم

عدالت عظمیٰ نے یوپی بی جے پی ترجمان پرشانت امراؤ پٹیل کو اس تعلق سے معافی مانگنے کا بھی حکم جاری کیا

نئی دہلی،6 اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بہار کے مزدوروں پر تمل ناڈو میں حملے کی فرضی خبر سے متعلق عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آج سپریم کورٹ نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے یوپی بی جے پی ترجمان پرشانت امراؤ پٹیل کو اس تعلق سے معافی مانگنے کا بھی حکم جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ امراؤایک وکیل ہیں اور انھیں زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔ہندی نیوز پورٹل ’لائیو لاء ڈاٹ اِن‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس پنکج متھل کی بنچ نے آج پرشانت امراؤ کی دو عرضی پر سماعت کی۔ پہلی عرضی ٹوئٹر پر فرضی خبر پھیلانے کو لے کر کئی پولیس تھانے میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو ایک ساتھ جوڑنے سے متعلق تھی، اور دوسری عرضی انھیں پیشگی ضمانت دیتے وقت مدراس ہائی کورٹ کی طرف سے لگائی گئی شرطوں کے خلاف داخل کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق عدالت نے کئی پولیس تھانوں میں درج ایف آئی آر کو جوڑنے کی عرضی پر نوٹس جاری کیا۔

ساتھ ہی مدراس ہائی کورٹ کے حکم میں تبدیلی کی اور امراؤ کو 10 اپریل کو تمل ناڈو پولیس تھانہ میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی اس شرط میں تبدیلی کی ہے جس کے تحت انھیں 15 دنوں تک روزانہ صبح 10.30 بجے سے شام 5.30 بجے تک پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرنا تھا۔پرشانت امراؤ پٹیل کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے صرف ان خبروں کو ٹوئٹ کیا تھا جنھیں پہلے ہی کئی میڈیا ایجنسیوں کی طرف سے شیئر کیا جا چکا تھا۔ وکیل نے یہ بھی بتایا کہ ٹوئٹس کو اب امراؤ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ پھر بھی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں اور انھیں پریشان کیا جا رہا ہے۔

ریاستی پولیس کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ مکل روہتگی پیش ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے جو شرط لگائی ہے اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شرط صرف پوچھ تاچھ کے لیے لگائی گئی ہے۔ پٹیل نہ تو پولیس کے سامنے پیش ہوئے اور نہ ہی یہ کہتے ہوئے کوئی حلف نامہ دیا کہ وہ دوبارہ ایسا کوئی بھی ٹوئٹ پوسٹ کرنے سے پرہیز کریں گے جو لوگوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دیتا ہے۔ روہتگی نے یہ بھی دلیل پیش کی کہ پٹیل ایک وکیل ہیں اور اپنے ٹوئٹ میں کہتے ہیں کہ تمل ناڈو میں ہندی زبان والے لوگوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایک وکیل کو ایسا کبھی نہیں کہنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button