تلنگانہ کی خبریں

بہار رام نومی تشدد: اویسی کا نتیش پر نشانہ افطار پارٹی میں مصروف، لیکن متأثرہ علاقوں میں جانے کا وقت نہیں

اسد الدین اویسی نے بہار کے کئی علاقوں میں رام نومی کے موقع پر تشدد پر ایک بار پھر چیف منسٹر نتیش کمار کو نشانہ بنایا

حیدر آباد ،7اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بہار کے کئی علاقوں میں رام نومی کے موقع پر تشدد پر ایک بار پھر چیف منسٹر نتیش کمار کو نشانہ بنایا ہے۔ حیدرآباد میں جمعہ (7 اپریل) کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ نتیش کمار خود افطار پارٹی میں مصروف ہیں لیکن ان کے پاس بہار شریف جانے کا وقت نہیں ہے۔ اویسی نے یہ بات ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر کہی۔اویسی نے بہار شریف اور ساسارام میں رام نومی کے موقع پر ہونے والے تشدد سے پیدا ہونے والی صورتحال کے لیے سی ایم نتیش پر حملہ کیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ انہیں نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ کے حکم پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس کی اجازت پہلے دی گئی تھی لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بہار میں تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اس واقعہ کا ذمہ دار کون ہے، یہ تحقیقات کا معاملہ ہے۔اویسی نے الزام لگایا کہ بہار حکومت اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تشدد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے سے روکنے پر اویسی نے کہا کہ جب میں نے ان سے پوچھا کہ اگر بی جے پی، کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے لیڈر آ رہے ہیں تو مجھے اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے؟ وہ حالات کا جائزہ لینے جا رہے تھے۔ جن کے گھر جل گئے ان کے لیے کیا معاوضہ مقرر کیا گیا ہے؟اس سے پہلے بھی اویسی نے تشدد کے معاملے پر بہار حکومت کو نشانہ بنایا تھا، جس کا جواب دیتے ہوئے سی ایم نتیش کمار نے اویسی کو بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ نتیش کمار نے کہا تھا کہ 2017 میں جب انہوں نے این ڈی اے سے علیحدگی اختیار کی تو اویسی نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ سی ایم نتیش نے کہا کہ انہوں نے اویسی سے ملنے سے انکار کر دیا، تب سے حیدرآباد کے ایم پی بی جے پی کے مفاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button