زکوٰۃ کی حقیقت-حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی
زکوٰۃ اسلام کا اہم ترین رکن ہے
زکوٰۃ اسلام کا اہم ترین رکن ہے۔ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں جہاں نماز کا ذکر فرمایا ہے اسی کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ زکوٰۃ مذہب اسلام کا ایک بڑا اور تیسرا رکن ہے اس کی فرضیت قطعی ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔ قرآن مجید میں اس کا تذکرہ بتیس جگہوں پر نماز کے ساتھ آیا ہے اور علیحدہ طور پر بھی بہت ساری جگہوں پر آیا ہے جس سے اس کی خاص اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ زکوٰۃ کے ادا کرنے والے کو خوشخبری دی گئی اور نہ دینے والے یاسستی برتنے والے کو درد ناک عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی مثال اس بوئے گئے دانے کی سی ہے جس میں سات بالیاں نکل آئیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں ۔ پھر فرمایا گیا کہ نماز اور زکوٰۃ آخرت میں غم و افسوس اور خوف و اندیشہ سے حفاظت کرے گی اور صاحب مال کو برے خاتمہ سے محفوظ رکھے گی۔ زکوٰۃ عمر کو بڑھاتی ہے۔
ستر مصیبتوں کے دروازے بند کرتی ہے۔ بلائیں اس کی وجہ سے دور ہوجاتی ہیں۔ جو لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے ان کے لئے فرمایا گیا کہ قیامت کے دن سونے اور چاندی کو گرم کرکے ان کی پشت کو داغا جائے گا اور مال خود کہے گا کہ آج ہم کو اپنے سے الگ کیوں کرتے ہو دنیا میں تو تم نے ہمیں گلے لگایا تھا آج اس کا مزہ چکھو۔ ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ مال کو طوق بناکر زکوٰۃ نہ نکالنے والوں کے گلے میں زہریلا سانپ بناکر ڈال دیا جائے گا۔
حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جب کھلے عام بدکاری ہونے لگے تو قوم میں طاعون پھیلنے لگتا ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنے سے قحط سالی اور حکمرانوں کا ظلم ہونے لگتا ہے زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی تو لوگوں پر بارش روک لی جاتی ہے ۔ غور کیجئے آج کیا نہیں ہورہا ہے ، خاص طور سے نماز اور زکوٰۃ سے تزکیہ اور عقیدہ باطن کی صفائی مطلوب ہے۔ خود نبی کو حکم ہے کہ اے نبی! آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک و صاف کریں۔ یاد رہے کہ زکوٰۃ کو روحانی پہلو کے علاوہ مادی پہلو کے لئے بھی مفید بتایا گیا ہے چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ زکوٰۃ ادا کرنے والے لوگ غذا، لباس وغیرہ سے محروم نہیں ہوتے۔ اس سے خود دینے والے کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور غریبوں، مسکینوں، یتیموں کی بھی امداد ہوتی ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے خدا نے نصاب زکوٰۃ اور اس کے شرائط کو متعین کیا ہے۔
مسائل زکوٰۃ
(۱) عاقل ، بالغ ہونا۔ نابالغ، مجنون، پاگل پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
(۲) مال کا مالک ہونااور اس مال پر سال کا گزرنا۔ پس جس مال پرقبضہ مکمل نہیں ہوا اور اس پر سال نہیں گذرا تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
(۳) گروی رکھی ہوئی چیز پر زکوٰۃ واجب نہیںالبتہ امانت رکھی چیز میں زکوٰۃ ہے اور اصل مالک اس مال کی زکوٰۃ نکالے گا۔
(۴) بینک میں رکھی ہوئی رقم پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔
(۵) قرض پر رکھی ہوئی رقم یا تجارتی سامان کی قیمت باقی ہو اور جس کے ذمہ باقی ہو وہ اقرار بھی کرتا ہو اور بظاہر اس قرض کی وصولی کی امید بھی ہو تو اس مال پر بھی زکوٰۃ واجب ہے خواہ فی الحال ادا کرے یا بعد ملنے کے ادا کرے۔
(۶) یہی حکم کرایہ کے مکان، اجرت مزدوری، رہائشی مکان کی قیمت ، کرایہ کی ہے اور کرایہ کے مکان پر جو ایڈوانس دیا جاتا ہے وہ بھی قرض کی ہی رقم شمار کی جاتی ہے اور اس پر زکوٰۃ مالک مکان پر ہی واجب ہے کرایہ دار پر نہیں۔کیونکہ کرایہ دار مکان پر ملک تامہ نہیں رکھتا ہے اصل مالک مالک مکان ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ قرض کسی مال کے بدلہ میں نہ ہوجیسے مہر ، خلع کا عوض۔ اسی طرح مقروض سے مال کی وصولی کی امید نہ ہو ان تمام صورتوں میں بقایا جات کی وصولیابی کے بعد زکوٰۃ واجب ہے۔
(۷)گھریلو اور نجی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ اس لئے صنعتی آلات، قیمتی استعمال کے برتن، گاڑیاں، موبائل، رہائشی مکانات وغیرہ پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
(۸) ٹی وی پر زکوٰۃ واجب ہے اس لئے کہ یہ حاجت اصلیہ میں داخل نہیں ہے اور کمپیوٹر اگر تجارتی سامان میں ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔ ہاں اگر اپنے ذاتی استعمال میں ہو تو پھر زکوٰۃ واجب نہیں۔
(۹) اگر کسی کا قرض باقی ہو تو اس کو منہا کرکے بقایہ مال پر زکوٰۃ واجب ہے ۔
کن مالوں پر زکوٰۃ واجب ہے
یہ بات بھی دھیان میں رکھنے کی ہے کہ شریعت نے ہر مال میں زکوٰۃ کو واجب نہیں کیا بلکہ خاص خاص مالوں ہی میں زکوٰۃ ہے اور وہ یہ ہیں۔
(۱) سونا، چاندی، کاغذی نوٹ، رائج الوقت سکے۔ ان میں سونے کا نصاب آج کے حساب سے ۸۷ گرام اور چاندی کا نصاب ۶۱۲ گرام ہے۔
(۲) سامان تجارت۔ کوئی بھی سامان جس کی خرید وفروخت کی جائے اور اس سے نفع حاصل کیا جائے تو وہ اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس پر بھی زکوٰۃ ہے۔اگر کچھ سونا اور کچھ چاندی یا سامان تجارت ہے تو ایسی صورت میں جملہ مال کو ملاکر دیکھیں گے کہ وہ چاندی یا سونے کے نصاب کے برابر ہے یا نہیں۔ اگر دونوں میں سے کسی ایک کی مقدار نصاب کے برابر ہوگئی تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔
اسی طرح نصاب زکوٰۃ سے زائد ہوجائے تو ان زائد حصوںپر بھی زکوٰۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے ہے۔سونا چاندی جس صورت میں ہو خواہ گوٹے ، لچھے ، روز مرہ کے استعمال کی ہو یا نہ ہو سب پر زکوٰۃ واجب ہے۔سامان تجارت ان مالوں کو سمجھا جائے گا جن کو خریدنے کے وقت تجارت کی نیت ہو اور اگرموجودہ مال جس میں تجارت کی نیت نہیں کی تھی تو اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔باؤنڈز، شیرز جن میں تجارتی سرمایہ استعمال ہوتا ہے تجارت کے سامان کے حکم میں ہے۔ ایک شخص کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت اور نفع میں دونوں شریک ہوں تو سرمایہ دار اصل اور نفع دونوں میں زکوٰۃ نکالے گا لیکن تاجر صرف نفع میں سے زکوٰۃ نکالے گا اور زکوٰۃ کی مقدار مال کا چالیسواں حصہ ہے۔
(۳) مویشی اونٹ، گائے ، بھینس، بیل ، بکریاں، گھوڑے ، مرغیاں وغیرہ جانور جن کی تجارت کی جاتی ہو ان کی بھی قیمت لگاکر زکوٰۃ نکالیں گے۔
زکوٰۃ کی ادائیگی
زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں بلاعذر تاخیر کرنا گناہ ہے۔ اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے نیت کرنا بھی ضروری ہے۔اگر مال ضائع ہوجائے تو زکوٰۃ معاف ہوجاتی ہے اور جان بوجھ کر زکوٰۃ نکالنے کے ڈرسے حیلہ کرکے بروقت گم کردے اور کہے کہ گم ہوگیا اب کیا کروں تو مزید گناہ ہوگا اس لئے مجبوری اور حیلہ کی کیفیت دل کی حقیقت سے معلوم ہوگی اور خدا اسی اعتبار سے معاملہ کرے گا ۔ اگر مالک اپنے مال میں زکوٰۃ نکالنے کے لئے وصیت کرکے انتقال کرگیا اور اس کے مال میں زکوٰۃ واجب تھی تو اس کے مال سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔ اگر متروکہ مال ایک تہائی اتنا نہ ہو کہ اس سے زکوٰۃ دی جاسکے تو ورثاء کی مرضی پر ہوگا۔
اسی طرح کسی کے یہاں قرضہ ہواور اس نے اسی قرضہ کے بارے میں زکوٰۃ کی نیت کرلی تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور نہ اس نیت کا کوئی اعتبار ہوگا۔زکوٰۃ دیتے وقت یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے بلکہ عیدی تحفہ یا ہدیہ کے طور پر دینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے بس نیت کافی ہے۔ منہ سے بولنا کہ یہ زکوٰۃ دے رہا ہوں ضروری نہیں ہے۔ اگر مال کی قیمت سے زکوٰۃ دے رہے ہیں تو موجودہ نرخ کا اعتبار ہوگااور جس جگہ مال ہو اس جگہ کا اعتبار ہوگا۔
زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جائے؟
قرآن کریم نے آٹھ قسم کے لوگوں کا تذکرہ زکوٰۃ کے تعلق سے کیا ہے۔
(۱) فقیر یعنی وہ شخص جو بالکل نادار ہو۔
(۲) مسکین یعنی وہ شخص جس کے پاس کفایت کا سامان کا کچھ حصہ ہو لیکن ابھی ضرورت مند ہو۔
(۳) عامل یعنی جن لوگوں کو زکوٰۃ کی وصولی کے لئے حکومت اسلامیہ نے مقرر کیا ہو اگرچہ یہ صاحب نصاب ہوں تب بھی اجرت میںان کو زکوٰۃ دی جائے گی۔
(۴) مقروض جنہیں کو قرآن کریم نے غارمین کہا ہے یعنی ایسا شخص جو قرض میں ڈوبا ہوا ہو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بلکہ عام فقراء جو یونہی ہمیشہ مانگتے پھرتے ہیں ان کا مانگنا مستقل پیشہ ہے ان کے مقابلے میں ایسے مقروض عیالدار پریشان حال کو زکوٰۃ دینے میں زیادہ اجر ہے۔
(۵) فی سبیل اللہ یعنی وہ اہل حاجت جو جہاد یا دینی تعلیم کے حصول میں لگے ہوں ان کو زکوٰۃ دی جائے گی۔
والدین اور دادا، دادی ، نانا ، نانی اوپر تک، اسی طرح اولاد اور اس نسل کے نیچے تک اسی طرح شوہر بیوی ایک دوسرے کو آپس میں زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔اسی طرح مالدار شخص کے نابالغ بچوں کو زکوٰۃ نہیں دی جائے گی اور جو بالغ بچے ہیں خود ان کی حالت وحیثیت کا اعتبار ہوگا،جو مالدار کے بچے مدارس میں پڑھتے ہیں اور ان کے والدین ان کے اخراجات بھیجتے ہیں ان کو بھی زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جائے گی اور دیگر محتاج ، علوم دینیہ کے طلبائے مدارس کے لئے زکوٰۃ دینے میں دوگنا ثواب ہے ایک تو ادائیگی زکوٰۃ کا اور دوسرے دینی تعلیم اور اسلامی کلچر کی اشاعت کا ۔اقرباء میں سے بھائی ، بہن، پھوپھی، خالہ، مومانی، چچا زاد بہن ان سب کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔



