خواص مفردات,کدو اور لوکی-حکیم محمد عدنان حبان نوادرؔ رحیمی شفاخانہ بنگلور
کدو شیریں کو زیادہ تر تنہا یا گوشت کے ہمراہ پکا کر کھایا جاتا ہے۔
نام: ہندی کدو، اردو کدو، لوکی، گھیا، سنسکرت مشٹ تمبی، بنگالی لوؤ، کودو، مشٹ لاؤ، گجراتی دودھی،بھوپلا، آلوڈی، فارسی کدوئے شیریں دراز، عربی قرح و یقطین، انگریزی وائٹ پمپکن سویٹ گارڈ (White Pumpkin Sweet Gourd)
شناخت: عام بیل کا پھل ہے کہ بہت مشہور ہے۔اس کو سبزی کی طرح پکا کر کھاتے ہیں۔بنگال میں سب قسم کے کدو کو کدو کہا جاتا ہے۔مگر یوپی میں گول پھل والے کو میٹھا کدو اورلمبے پھل کو لوکی کہتے ہیں۔یہ ہندو پاک میں عام پایا جاتا ہے۔اس کی دو اقسام ہیں۔لمبا اور گول۔اسے گھیا بھی کہا جاتا ہے۔
مزاج: سرد وتر۔ خوراک: پھل کا رس 50سے 100گرام،پتوں کا رس 10سے20گرام اور گری تخم کدو کا سفوف 3سے6گرام۔
فوائد: آنتوں کی سوزش دور کرتا ہے، سدے کھولتا ہے۔گرمی کے بخاروں میں مفید ہے۔زبر دست پیشاب آور ہے۔صفراوی و گرم مزاج والوں کے لئے موافق ہے۔خونی بواسیرو نفث الدم کو دور کرتا ہے۔نمکیات اور وٹامن اے،بی،سی اس کے خاص اجزاء ہیں۔
مغز کدو شیریں: بدن کو موٹا کرتا ہے۔ منہ سے خون آنے و گرمی کی کھانسی میں مفید ہے۔پیاس بجھاتا ہے۔ پیشاب و مثانہ کی سوزش میں مفید ہے۔ روغن مغز کدو شیریں کی سر پر مالش کرنے سے بے خوابی کا عارضہ دور ہوتا ہے۔دماغ و دل کو طاقت دیتا ہے۔ ذائقہ شیریں ہے۔کدو، گھیا قبض کشا ہے،ملین ہے،زود ہضم ہے۔
کدو دل و جگر اور دماغ کو فرحت دیتا ہے۔بلڈ پریشر اور خون کی گرمی کو ختم کرنے میں لاثانی ہے۔
پیشاب کے امراض میں بے حد مفید ہے اور اگر پیشاب جل کر آتا ہو تو اسے جلد ختم کر دیتا ہے۔ کدو کے بیجوں کا تیل نکالا جاتا ہے۔جو سر کے بالوں کو بڑھاتا اور طاقتور بناتا ہے۔درد سر دورکرتا ہے۔سر کو ٹھنڈک دیتا ہے اور نیند آور ہے۔تپ دق کے مریض کو اگر روزانہ کدو مصری ملا کر کھلایا جائے تو بے حد فائدہ دیتا ہے اور بتدریج مریض کو مرض تپ دق سے نجات مل جاتی ہے۔کدو کے گودے میں مصری ملا کر حاملہ عورت کو کھلانے سے خوب صورت بچہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ گودا اور مصری حمل کے دوران کھلاتے رہنے سے حمل گرنے کا خدشہ باقی نہیں رہتا۔حاملہ عورت تین ماہ کدو اور مصری متواتر استعمال کرے تو اس کے ہاں اولاد نرینہ پیدا ہوگی۔کدو کا گودہ درد گردہ میں بے حد مفید اور شافی ہے۔گردہ کے درد کے دوران یہ گودہ گرم کر کے درد کے مقام پر رکھ دینے سے گردہ کا درد بند ہوجاتا ہے۔
کدو کا مربہ جسم اور دماغ کو تازگی اور طاقت وتراوٹ دیتا ہے۔کدو کا گودابچھو کے ڈنک والے مقام پر ملنے سے اور اس کا رس مریض کو پلانے سے درد بند ہو جاتا ہے۔اور زہر اپنا اثر نہیں کرتا۔ آنکھوں تلے اندھیرا آتا ہو اور سر چکراتا ہو تو کدو کاٹ کر اس کا ٹکڑا پیشانی پر رکھنے سے درد سر کو آرام آجاتا ہے کدو کے چھلکے پاوں پر ملنے سے گرمی کا بخار دور ہوجاتا ہے۔ اور پاؤں کی جلن ختم ہوجاتی ہے۔
کدو کا حلوہ مردانہ صحت بڑھاتا ہے اور ویرج کو گاڑھا کرتا ہے۔اس کا گودہ پلٹس کی صورت میں زخموں پر باندھتے ہیں۔پیٹ کے کیڑوں کے لئے 5گرام مغز کدوسفوف بنا کر شہد کے ساتھ کھلانے سے پیٹ کے کیڑے خصوصاًکدو دانہ کی تکلیف دور ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں صبح نہار منہ یہ کھلا کر اور چار گھنٹے بعد کیسٹر آئل کا جلاب دیں،کیڑے نکل جائیں گے۔ٹھنڈے مزاج کے لوگوں کو اس کا استعمال ادرک کے ساتھ کرنا چاہئے۔ دمہ و تپ دق کے مریضوں کے لئے اس سے بہتر کوئی خوراک نہیں ہے۔
جو لوگ لوکی زیادہ کھاتے ہیں ان کے جسم میں ایسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ سل و تپ دق جیسی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔
لوکی کے بیجوں کی گری کا تیل دماغ کی خشکی دور کرنے کے لئے بہترین علاج ہے اور نیند لاتا ہے۔ لوکی کا تیل اس طرح بھی بناتے ہیں کہ لوکی کدو کش کر کے اس کا رس 200 گرام نکال کراس کو 100 گرام خالص تل کے تیل میں ڈال کر ابالیں۔جب لوکی کا پانی جل جائے تو تیل کو چھان لیں۔تیل لوکی تیار ہے۔
لوکی مردانہ کمزوری کے لئے بھی مفید ہے۔جسم کو صحت مند رکھتی ہے،پیشاب کی جلن میں فائدہ مند ہے۔اس کا چھلکا پاؤں کے تلوؤں پر ملنے سے بخار دور ہو جاتا ہے۔اور تلوؤں کی جلن کو بہت آرام ملتا ہے۔گردے کے درد میں لوکی کدوکش کر کے اور ہلکا گرم کر کے درد والی جگہ پر رکھیں۔اسی وقت درد سے آرام آجاتا ہے۔لوکی کھانے سے بھوک بڑھتی ہے اور وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔اس کا پانی پھنسیوں پر لگانے سے پھنسیاں سوکھ جاتی ہیں۔
یرقان: ایک لوکی گرم راکھ میں دبا دیں،جب گل جائے تو اسے نکال کر اس کا پانی نچوڑ لیں۔اس پانی میں تھوڑی سی چینی ملا کر پینے سے دل اور جگر کی گرمی دور ہوتی ہے اور یرقان کو آرام آجاتا ہے۔
دیگر: کدو کے پتوں کا رس دس گرام صبح وشام پلائیں۔ یرقان دور ہوجائے گا۔
بالوں کا گرنا: لوکی کے بیجوں کی گری کا تیل یا کدو کے بیجوں کی گری کا تیل سر کے بالوں کو گرنے سے روکتا ہے اور بالوں کو بڑھاتا و مضبوط کرتا ہے۔
بے خوابی: موسم گرما ہو تو گری بیج کدو 4 گرام، بیج کاہو 4 گرام، خشخاش 4 گرام، مناسب پانی میں پیس کر چینی سے میٹھا کر کے دن میں دو بار دیں، بے خوابی کی شکایت دور ہوجائے گی۔
روغن کدو: کدو دراز(گھیا)کو گرم کرکے 75گرام پانی نکال لیں۔پھر اس میں تلی کا تیل 25گرام ملا کر جوش دیں۔پانی کے جل جانے پر صاف کر کے شیشی میں محفوظ رکھیں۔بوقت ضرورت سر پر مالش کریں۔دماغ کی خشکی دور کر کے نیند لاتا ہے۔
استعمال :کدو شیریں کو زیادہ تر تنہا یا گوشت کے ہمراہ پکا کر کھایا جاتا ہے۔ بعض اوقات دال خصوصا ًچنے کی دال کے ہمراہ پکایا جاتا ہے۔صفراوی اور دموی مزاج اشخاص کے لئے اچھی غذا ہے۔ صالح خون پیدا کرتا ہے۔ حار امراض مثلا ًصفراوی دموی بخاروں کھانسی حار سل دق جنون اور مالیخولیا میں پیشانی پر رکھنے سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔
آب کدو سل میں پلایا جاتا ہے جو حرارت و پیاس میں تسکین دیتا ہے۔ملین طبع اور مدربول ہے۔بعض تحقیقات کے مطابق جو لوگ کدو کثرت سے کھاتے ہیں، ان کے جسم میں ایسی قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے کہ مرض سل سے محفوظ رہتے ہیں۔کدو سے روغن بھی نکالا جاتا ہے جو روغن کدو کے نام سے مشہور ہے۔ روغن کدو دماغ کی خشکی کو دور کرتا ہے۔ نیند لاتا اور بالوں کو مضبوط کرتا ہے۔اس کے بیجوں سے شیرہ یا روغن (گھی) نکالا جاتا ہے جو مذکورہ فوائد رکھتا ہے۔
روغن کدو بنانے کا طریقہ :کدو کے گودے کو نچوڑ کر اس کا پانی ہم وزن روغن کنجد کے ساتھ جوش دیں جب پانی جل جائے تو روغن صاف کر لیتے ہیں۔
کدو کو گل حکمت کر کے بھاڑ یا تنور میں رکھ دیتے ہیں۔ جب مٹی سرخ ہو جائے تو نکال کر گل حکمت دور کر کے کدو کا پانی نچوڑ لیتے ہیں۔ جس میں مصری یا چینی ملا کر یا شربت نیلوفر سے شیریں کر کے پلاتے ہیں جو کہ صفراوی بخاروں نفث الدم اور اندرونی اعضاء کے جریان خون اور مرض سل میں پلانا مفید ہے۔کدو کا رائتہ مشہور پسندیدہ کھانا ہے۔ اگر اس میں صرف نمک بقدر ذائقہ ڈالیں اور دوسرے مصالحے نہ شامل کریں تو یہ رائتہ حرارت جگر اور اسہال کبدی کو بہت مفید ہے۔
نفع خاص: دافع حدت صفراء و مسکن۔
مصلح: قرنفل نمک وغیرہ۔ بدل: پیٹھا وغیرہ۔
مقدار خوراک :آب کدو، پچاس گرام سے سو گرام تک



