سرورقگوشہ خواتین و اطفال

صحت مند رمضان سحر و افطار کے معمولات-پیش کش: فرحین عدنان بنگلور

سحری اور افطاری

سحری اور افطاری

رب کائنات نے ایمان والوں پر رمضان کے پورے مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور بیشک اللہ کی ذات بڑی علم والی ہے۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں طلوع سحر سے لیکر غروب آفتاب تک ہم اپنے خالق کے لیے کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں لیکن غروب آفتاب سے طلوع سحر تک رب کریم نے ہمیں کھانے اور پینے کی اجازت دی ہے اس لیے ان اوقات میں اگر ہم متوازن غذا کا استعمال کریں تو روزے کے دوران کمزوری اور جسم میں پانی کی کمی سے بچا جا سکتا ہے۔اس مضمون میں ہم اُن کھانوں کو شامل کر رہے ہیں جو سحراور افطار کے دوران ہماری صحت پر اچھے اثرات ڈالتے ہیں اور روزے کے دوران ہمارے جسم کو کمزوری سے بچانے کا باعث بنتے ہیں۔

سحری کیسی کریں

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سحری کے دوران اپنے کھانے کو ہلکا رکھیں اور اپنے کھانے میں صحت بخش چیزیں شامل کریں خاص طور پر سحر میں ایسے کھانے استعمال کریں جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو جیسے سیب، انار، امرود وغیرہ اور ایسے اناج جنہیں رفائن نہ کیا گیا ہو، سرخ لوبیا اور سفید لوبیا بھی فائبر سے بھرپور کھانے ہیں اور ان میں پروٹین کی بھی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے، ان کے علاوہ دالیں بھی پروٹین اور فائبر سے بھرپور کھانے ہیں۔فائبر سے بھرپور کھانے ہمارے پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھتے ہیں اور انہیں کھانے کے بعد جلدی بھوک نہیں لگتی اور فائبر نظام انہظام کے افعال کو بھی درست رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کو روزانہ 35 گرام اور عورتوں کو 28 گرام فائبر لازمی کھانی چاہیے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ سحری میں دال اور دہی ضرور کھائیں۔ دہی ہاضمے کو درست رکھنے میں مدد کرتا ہے اور ہمیں کیلشیم کی مناسب مقدار بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تمام قسم کی دالوں کا استعمال ہمیں دن بھر کے لیے کافی پروٹین فراہم کرتا ہے اور یہ پروٹین ہمارے پٹھوں کو روزے کے دوران کمزور ہونے سے بچاتی ہے۔

کچے پنیر یا دودھ کا استعمال بھی سحری کے کھانے میں لازمی کریں کیونکہ یہ دونوں چیزیں آپ کو دن بھر توانا رکھنے میں مدد دیں گی۔ ان غذائی اجناس میں موجود پروٹین جلدی بھوک نہیں لگنے دے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری کھانے کے بعد ایک گلاس دودھ یا پنیر کے چار پانچ ٹکڑے کھائیں تاکہ روزے کے دوران جسم کمزور نہ ہو اور اس میں پانی کی کمی پیدا نہ ہو۔

سحری کا کھانا کھانے سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے 1 گلاس پانی پینا بھی آپ کی صحت پر اچھے اثرات پیدا کرے گا اسی طرح سحری کھانے کے آدھے گھنٹہ بعد سحری ختم ہونے سے پہلے بھی پانی کا ایک گلاس پینا آپ کے جسم میں سارا دن پانی کی کمی پیدا ہونے سے روکے گا اور جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچائے گا۔

افطار میں کیا کھائیں

میڈیکل سائنس کا ماننا ہے کہ روزہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید چیز ہے اور سال میں ایک مہینے کے روزے صحت کو چار چاند لگا دیتے ہیں لیکن اگر اس دوران خوراک میں بد احتیاطی کی جائے تو روزے کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔ اپنے افطار کے کھانے میں تلے ہوئے کھانے ہرگز شامل نہ کریں۔ ہمارے ہاں رواج ہے کہ افطار میں پکوڑے، آلو کے چپس، سموسے اور فرائی چیزیں لازمی شامل کی جاتی ہیں لیکن یہ کھانے صحت کو برباد کر کے رکھ دیتے ہیں اور جسم سے فاضل چربی کو پگھلنے نہیں دیتے اس لیے افطار میں صحت بخش غذا کو شامل کریں۔

کھجور سے روزہ کھولنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اس لیے افطار میں کھجور کو لازمی شامل کریں کیونکہ کھجور جسم کو فوری توانائی دیتی ہے اور اس میں موجود فائبر پیٹ کی صورتحال بگڑنے نہیں دیتی۔ اسی طرح افطار میں تازہ پھل اور سبزیوں کو جگہ دیں اور افطار میں چکن اور تیز مصالحے استعمال نہ کریں۔ کیونکہ اس سے جہاں بدہضمی پیدا ہوگی وہاں معدے میں تیزابیت پیدا ہونے کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔ اگر آپ گوشت کھانے کے عادی ہیں تو افطار کے کھانے کے 2 سے 3 گھنٹے بعد آپ اپنی یہ عادت پوری کریں اور کوشش کریں کہ افطار کے دوران گوشت سے پرہیز رکھیں تاکہ معدے پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔افطار کے دوران تازہ پھلوں کا رس پینا بھی آپ کے جسم میں فوری توانائی پیدا کرنے کا باعث بنے گا لیکن اگر آپ افطار میں چینی والے مشروب استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کی صحت کو نقصان پہنچائیں گے اور طبیعت میں بھاری پن پیدا کر دیں گے۔ افطار میں کچی سبزیوں کا سلاد کھانا صحت کو چار چاند لگا دیتا ہے کیونکہ یہ سلاد جہاں جلدی ہضم ہو جاتا ہے وہاں طبیعت کو بوجھل نہیں کرتا۔

رمضان میں دہی کھانا انتہائی مفید ہے لیکن اسے رات کے کھانے کے ساتھ استعمال نہ کریں اور اسی طرح اگر آپ سحری کے فوری بعد سونے کے عادی ہیں تو اس عادت کو بھی بدلیں اور سحری کھانے کے بعد کم از کم آدھا گھنٹہ لازمی پیدل چلیں اور سحری کھانے کے 1 گھنٹے بعد بستر پر جائیں تاکہ آپ کی سحری اچھی ہضم ہوجائے۔

اگر آپ کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے یا آپ حاملہ یا دودھ پلانے والی ماں ہیں تو رمضان میں ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ ملٹی وٹامن سپلیمنٹ استعمال کرنا آپ کی صحت کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا اور آپ کے جسم کو وٹامنز اور منرلز کی کمی سے بچائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button