درد کش غذائیں دواؤں سے بچائیں
بقول سقراط کے ہمیں غذائوں کو اپنی دو ابنانی چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو کیمیائی اجزا سے تیار شدہ دوائوں سے اجتناب کرنا چاہئے
ہم میں سے اکثر لوگوں کی یہ عادت بن چکی ہے کہ جسم میں یا سر میں ذرا بھی درد محسوس ہو تو فورا’’پین کلرز‘‘ کی گولیاں نگلی جاتی ہیں۔ اس سے فوری آرام تو مل جاتا ہے لیکن یقینی طور پر یہ کوئی صحت بخش عمل نہیں ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کا ایک حالیہ جائزہ ’’امریکن جرنل آف ایپی ڈیمیو لوجی‘‘ میں شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر آئیو پر وفین یا ایسیٹا مینو فین بہت کثرت سے استعمال کی جائے تو اس سے سماعت متاثر ہو سکتی ہے۔ جائزے میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو خواتین ہفتے میں کم از کم دو بار درد دور کرنے والی گولیاں استعمال کر رہی تھیں، ان میں اونچا سننے کی شکایت زیادہ دیکھی جارہی تھی۔ ’’پین کلرز‘‘ سے نہ صرف سماعت متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے آپ کے جگر، گردوں اور آنتوں پر بھی مضراثر پڑتا ہے۔ اس لئے بقول سقراط کے ہمیں غذائوں کو اپنی دو ابنانی چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو کیمیائی اجزا سے تیار شدہ دوائوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ آئیے دیکھیں وہ کہ وہ کون سی غذائی اشیاء ہیں جو ہمیں درد سے نجات دلانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ادرک Ginger : ادرک میں سوزش دور کرنے کیلئے بہت قوی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اس کے استعمال سے معدے کا درد، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا کھنچائو اور ایام کی تکالیف دور جاتی ہیں۔
ہلدی Turmeric: ایک عرصہ دراز سے لوگوں کو ہلدی کی طبی خصوصیات معلوم ہیں۔ ہلدی قدرتی ’’پین کلر‘‘ کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ چوٹ لگ جائے، موچ آجائے تو متاثرہ مقام پر ہلدی کے لیپ سے آرام آجاتا ہے۔ یہاں تک کہ پچھوں کے درد اور دانتوں میں درد سے نجات کیلئے بھی ہلدی سے مدد لی جاسکتی ہے۔
کافی: کافی میں موجود کیفین دافع درد خوبیوں کا حامل ہے۔ پٹھوں اور سر درد میں کافی پینے سے آرام آتا ہے تاہم یہ فائدہ اس وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کافی کبھی کبھار پی جائے۔ بہت زیادہ کافی پینے والے عادی افراد کو اس سے مدد نہیں مل سکتی۔
سیب کا سرکہ: سیب کا سرکہ (Apple cider vinegar) اگر کھانے سے پہلے استعمال کیا جائے تو یہ درد دُور کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ جوڑوں کے درد اور آرتھرائیٹس کی تکلیف میں بھی سیب کا سرکہ فائدہ دے سکتا ہے۔
نمک SALT: اگرچہ یہ بات بہت حیران کن محسوس ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ نمک جیسی ایک عام چیز بھی آپ کو درد سے نجات دلا سکتی ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہو گا کہ نیم گرم پانی سے بھری بالٹی یا باتھ ٹب میں ایک کپ نمک حل کر کے چند منٹ تک اس نیم گرم پانی میں کچھ دیر جسم کو یا پائوں یاٹخنے کو ڈبوئے رکھنے سے آرام ملتا ہے۔
دہی: پیٹ میں اگر درد ہو تو اس سے آرام کیلئے دہی کھانا چاہئے جس میں صحت بخش جراثیم ہوتے ہیں جو کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
پودینہ: سادی چائے میں اگر پودینہ کے تازہ پتوں کو جوش دے کر پیا جائے تو اس سے نہ صرف تازگی کا احساس ہوتا ہے بلکہ اگر گلے میں خراش ہو تو اس سے بھی آرام ملتا ہے۔ سلا دیا چٹنی کے طور پر سبز پودینہ کا استعمال پیٹ کے مسائل کو بھی حل کر سکتا ہے۔
باورچی خانوں میں رکھی ان عام اشیاء کے علاوہ درد سے نجات کیلئے کچھ دیگر غذائیں بھی مفید ہیں جن میں چیری، لونگ، مچھلی، انگور، جو کا دلیہ، انناس شامل ہیں۔



