تعلیم کا بھگوا کرن : این سی ای آر ٹی نے مولانا آزاد کو بھی نہیں بخشا سیاسیات کے باب سے مولانا آزادؔ سے متعلق باب بھی ختم
سیاسیات کی کتاب سے عظیم مجاہدآزادی ، ماہر تعلیم اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا ذکر ہٹا دیا گیا ہے
نئی دہلی ،13 اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی گیارہویں جماعت کی سیاسیات کی کتاب سے عظیم مجاہدآزادی ، ماہر تعلیم اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا ذکر ہٹا دیا گیا ہے۔کتابوں کو مبینہ طور پر معقول بنانے کے لیے NCERT نے گجرات فسادات، مغلیہ تاریخ، ایمرجنسی، سرد جنگ، نکسل تحریک وغیرہ کے کچھ حصے غیر متعلقہ ہونے کی بنیاد پر کتابوں سے ہٹا دیئے تھے۔کتاب ریشنلائزیشن نوٹ میں کلاس 11 پولیٹیکل سائنس کی نصابی کتاب میں کسی تبدیلی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ تاہم این سی ای آر ٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سال نصاب میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے اور یہ گزشتہ سال جون میں تیار کیا گیا تھا۔این سی ای آر ٹی کے سربراہ دنیش سکلانی نے بدھ (11 اپریل) کو کہا کہ یہ نادانستہ غلطی ہو سکتی ہے کہ پچھلے سال نصابی کتابوں کو معقول بنانے کی مشق میں کچھ حصوں کو ہٹانے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
ترمیم شدہ سطر اب اس طرح پڑھیں۔’جواہر لعل نہرو، راجندر پرساد، سردار پٹیل یا بی آر امبیڈکر عام طور پر ان کمیٹیوں کی صدارت کرتے تھے‘‘۔اس کتاب کے دسویں باب ’’ سموددھان کا درشن ‘ میں جموں و کشمیر کے مشروط انضمام کا حوالہ ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں یہ پیراگراف ہٹا دیا گیا تھا’جموں و کشمیر کا انڈین یونین کے ساتھ انضمام آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت خود مختاری کے عزم پر مبنی تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے سال مولانا آزاد فیلو شپ کو وزارت اقلیتی امور نے بندکردیا تھا۔نئے تعلیمی سیشن کے لیے این سی ای آر ٹی کلاس 12 پولیٹیکل سائنس کی نصابی کتاب میں ’ملک کی فرقہ وارانہ صورتحال پر مہاتما گاندھی کی موت کا اثر، ہندو مسلم اتحاد کے گاندھی کے تصور نے ہندو بنیاد پرستوں کو اکسایا‘ اور آر ایس ایس جیسی تنظیموں پر کچھ وقت کے لیے پابندی سمیت کئی مضامین سے متعلق کوئی ذکر نہیں ہے۔



