سابق ایم پی عتیق احمد اور اشرف قتل معاملہ، تین ملزمان کیخلاف مقدمہ درج
عتیق اشرف قتل کے تین ملزمان کو یہاں کی عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے
عتیق احمد اور اشرف احمد کے قاتلوں نے پوچھ گچھ کے دوران کئی چونکا دینے والے انکشافات
الٰہ آباد ،16 اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سابق ایم پی عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کی ہفتہ کی رات ہوئے بہیمانہ قتل معاملے میں شاہ گنج تھانے میں تین افراد کے خلاف نامزد رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ عتیق احمد اور اشرف کو امیش پال قتل میں پوچھ گچھ کے لئے پولیس نے 13 اپریل سے 17 اپریل تک پولیس ریمانڈ پرلیا گیا تھا۔ کل رات جانچ کے لئے پولیس کی سخت سیکورٹی میں انہیں کالوین اسپتال لے جایا گیا تھا۔وہیں پر کچھ میڈیا اہلکار نے اسد(عتیق احمد کا بیٹا) کے سپردخاک میں شامل نہیں ہونے کو لے کر سوال پوچھ رہے تھے۔ اسی وقت اچانک دونوں بھائیوں کے بالکل قریب پہنچ کر کئی گولیاں چلائیں۔ دونوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ اس دوران ایک حملہ آوار لولیش تیواری، ایک سپاہی اور ایک میڈیا نمائندہ بھی زخمی ہوئے۔ تینوں کو اسپتال میں لے جایا گیا۔ پولیس نے تینوں حملہ آوروں کو موقع سے گرفتار کر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
حملہ آوروں نے پوچھ گچھ میں قبول کیا ہے کہ اترپردیش میں بڑا نام کمانے کے لئے انہوں نے عتیق اور اشرف کے قتل کو انجام دیا ہے۔ وہ میڈیا اہلکار بن کر وہاں پہنچے تھے اور دونوں بھائیوں پر تابڑ توڑ فائرنگ کی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آوروں میں لونیش تیواری باندہ، ارون موریہ کاس گنج جبکہ موہت عرف سنی موریہ ہمیر پور کے رہنے والے ہیں۔ اس کے خلاف کرارا تھانے میں غنڈہ ایکٹ، آمرس ایکٹ، این ڈی پی ایس، گینگسٹر اور سی آر پی سی اور دیگر 14 مجرمانہ مقدمے درج ہیں۔’ْ
مر بھی جائیں تو کوئی غم نہیں، عتیق – اشرف کے قاتلوں کا بیان
اتر پردیش کے پریاگ راج (الٰہ آباد) میں عتیق احمد اور اشرف احمد کے قاتلوں نے پوچھ گچھ کے دوران کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔خبر کے مطابق انہوں نے پریاگ راج کے ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا تھا اور تینوں نے یہاں ایک ہفتہ تک پڑھائی بھی کی۔ پوچھ گچھ کے دوران تینوں ملزمین لولیش تیواری، سنی اور ارون موریہ نے پولیس کو بتایا کہ اگر وہ مر بھی جاتے تب بھی انہیں کوئی دکھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فدائین بن کر آئے تھے۔تفتیش کے دوران تینوں نے بتایا کہ عتیق اور اشرف ہمارے بے گناہ بھائیوں کو قتل کرتے رہے ہیں۔
خبر کے مطابق تینوں پوچھ تاچھ کے دوران اس واردات کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر کے مطابق انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا ہو گئی تھی۔ جو ہم نے کیا ہے اس کے لئے ہمیں پھانسی پر بھی لٹکا دیا جائے تو ہم خوشی خوشی اسے قبول کر لیں گے۔ ہم نے اپنا کام کر لیا ہے۔دوسری جانب تینوں قاتلوں سے پوچھ گچھ کرنے والی کرائم برانچ کی ٹیم نے باندہ، ہمیر پور اور کاس گنج کے پولیس کپتانوں سے ملزمان کے پس منظر اور مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔ عتیق اور اشرف کے قتل کی ایف آئی آر پریاگ راج کے شاہ گنج تھانے میں درج کی گئی ہے۔ دریں اثناء پریاگ راج کی ایک عدالت نے گینگسٹر سے سیاستدان بنے عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف کو قتل کرنے والے تینوں حملہ آوروں کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ احمد کی نمائندگی کرنے والے وکیل منیش کھنہ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا ‘عتیق اشرف قتل کے تین ملزمان کو یہاں کی عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔
واضح رہے کہ لولیش، سنی اور ارون موریہ نے ہفتے کی رات میڈیا والوں کا روپ دھار کر عتیق اور اشرف کا اس وقت قتل کر دیا جب انہیں طبی معائنے کے لیے پریاگ راج کے میڈیکل کالج لے جایا جا رہا تھا۔ تینوں نے سرعام کئی راؤنڈ فائر کئے۔پولیس نے موقع پر ہی تینوں ملزمان کو پکڑ لیا اور انہیں فوری طور پر تھانے لے جایا گیا۔ اس کے بعد تینوں سے پوچھ گچھ شروع کی گئی۔ دریں اثنا، پولیس نے پریاگ راج کے پرانے شہر سمیت پورے ضلع میں حفاظتی نظام کو سخت کر دیا ہے۔



