بین ریاستی خبریں

سی بی آئی کے دفتر پہنچے کجریوال، دھرنے پر بھگونت مان اور راگھو چڈھا

دہلی شراب پالیسی کے مبینہ گھوٹالہ کی تپش وزیر اعلیٰ اروند کجریوال تک بھی پہنچ گئی ہے

نئی دہلی،16 اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) دہلی شراب پالیسی کے مبینہ گھوٹالہ کی تپش وزیر اعلیٰ اروند کجریوال تک بھی پہنچ گئی ہے اور سی بی آئی نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا ہے۔ کجریوال سی بی آئی کے دفتر میں پیش ہو گئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف عام آدمی پارٹی کے کارکنان اس کارروائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، آپ کے کئی ارکان اسمبلی سمیت متعدد کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے۔قبل ازیں، اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کیا کہ ہم باپو کے بتائے راستہ پر ہیں، ناانصافی اور ظلم کے خلاف ہم سچائی کے راستہ پر ہیں۔ آخر میں جیت سچائی کی ہوگی۔خیال رہے کہ شراب پالیسی کے مبینہ گھوٹالہ کے سلسلہ میں اروند کجریوال سے پہلی مرتبہ پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر سی بی آئی کے دفتر اور کجریوال کی رہائش گاہ پر حفاظت کے پختہ انتظامات کیے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ کجریوال نے آج ایک بیان میں کہا کہ آج مجھے سی بی آئی نے طلب کیا ہے۔ تھوڑی دیر میں گھر سے نکلوں گا۔ جب کچھ غلط نہیں کیا تو چھپانا کیا؟ یہ لوگ طاقت ور ہیں۔ کسی کو بھی گرفتار کرا سکتے ہیں۔ حزب اختلاف کے تمام لیڈران بھی کجریوال کی حمایت میں آ گئے ہیں۔ وہیں بی جے پی کجریوال پر حملہ آور ہے۔کیجریوال جس وقت پوچھ گچھ کے لئے سی بی آئی کے دفتر میں پہنچے، اسی وقت عام آدمی پارٹی کی اعلیٰ قیادت دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئی اور وزیر اعظم مودی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران سنجے سنگھ، سندیپ پاٹھک، دہلی کے کابینی وزرا سمیت متعدد لیڈران نے ’مودی اڈانی بھائی بھائی، دیش بیچ کے کرے کمائی‘ کے نعرے لگائے۔دریں اثنا، عام آدمی پارٹی کے تین ارکان اسمبلی سمیت کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ عآپ نے ٹوئٹ کر کے اطلاع دی ہے کہ رکن اسمبلی ونے مشرا، وشیش روی اور اکھلیش ترپاٹھی کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button