وائرل سے بچاؤ ,بخار (فلو) اور اس کا گھریلو علاج-ڈاکٹر محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
مرض کی ابتدا ہی میں مریض گلے میں خراش محسوس کرتا ہے۔
علامات
مرض کی ابتدا ہی میں مریض گلے میں خراش محسوس کرتا ہے۔ بار بار پتلی رطوبت نکلنی شروع ہوجاتی ہے ناک بند ہوجاتی ہے، چھینکیں آتی ہیں، آنکھیں اور کنپٹیاں کھنچی ہوئی اوربوجھل رہتی ہے،گلے میں سخت درد اور تیز بخار ابتدائی مرض کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ عام نزلہ زکام میں پہلے ہی روز بخار نہیں ہوتا صرف اعضاء شکنی ہوتی ہے۔ گلے میں سخت درد ہوتا ہے، سردی لگتی ہے اور فلو کے مریض کے تمام بدن میں درد پیدا ہوکر طبیعت سُست ہوجاتی ہے۔ چلنا پھر نا مشکل گرم جگہ بیٹھنا اور گرم سیک ٹکور کرنے سے فائدہ محسوس ہوتا ہے۔
ایک محتاط انداز ے کے مطابق مریض کی چھینک کے ذریعہ خارج شدہ زہریلے مادے اور وائرس (جرثومے) چودہ فٹ تک بیٹھے ہوئے افراد کو اس مرض میں مبتلا کرسکتے ہیں۔ اور معمولی گفتگو میں سانس کے ذریعے چار فٹ تک بیٹھا ہوا تندرست انسان بیمار آدمی کے اثر سے اس مرض کا شکار ہوجاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
ابتداء مرض میں جب شدید چھینکوں کا دور ہوتا ہے یعنی مرض کے پہلے دو دن میں رومال منھ پر رکھ کر کھانسیں۔ گھر میں رہنازیادہ مفید ہے اس حالت میں خلط ملط مرض کو منتقل کرنے میں معاون ہوتی ہے۔نزلہ حار کے ایام میں سریع الہضم ، جید القوام اور کثیر التعذیہ اغذیہ کا استعمال فرمائیں۔ ٹھنڈی اور کھٹی اغذیہ اور اشرب سے پرہیز فرمائیں خالی پیٹ نہ رہے ورنہ مرض طول پکڑ سکتا ہے محفلوں میں شرکت نہ فرماکر گھر میں رہنا نہ صرف مریض بلکہ دوسروں کے لئے بھی مفید اور بہتر ہے۔
احتیاطی علاج
علاج کے طور پر ہمارے خاندان کا دستور العمل یہ ہے کہ مریض کو رومال میں گرم چنے باندھ کر ناک کنپٹیوں اور رخساروں کو ٹکور کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ سردی سے بچنے کیلئے گلے میں گلوبند اور سر پر گرم ٹوپی پہننے کی تاکید کی جاتی ہے۔ آج کل ہمارے نوجوان ننگے سر کاروبار کرتے اور دفتروں میں چلے جاتے ہیں ۔ سرکوڈھانپنا آج کل فیشن کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ اگر سرڈھکا ہوا ہو تو اس کی حرارت سے جمی ہوئی رطوبت خارج ہونے میں سہولت رہتی ہے اور مریض تندرست رہتا ہے۔چونکہ یہ مرض متعدی ہے اسلئے ہاسٹلوں ،بیرکوں،شادی خانوں اور محفلی نشستوں میں ایک فرد واحد بہت سے افراد کو متاثر کرسکتا ہے۔
علاج نسخہ جات
ھوالشافی: جب بار بار پتلی پتلی گرم رطوبت گلے اور ناک کے ذریعے خارج ہو تو بہیدانہ تین ماشے عناب پانچ دانے اور سپستان گیارہ دانے تینوں دوائیں ایک پیالی پانی میں جوش دے کر چھان کر چینی ملا کر نوش فرمائیں اور آدھا کپ پانی ڈال کر دوبارہ دوائوں کو بھگودیں شام تین چار بجے کو ایک جوش دے کر چھان کر کھانڈ یا شربت بنفشہ ملاکر پھر پی لیں۔ گلے کی خراش اور کھانسی دور کرنے کے لئے خمیرہ گائوزبان سادہ منہ میں رکھ کر چوستے رہیں۔
رفع قبض کے لئے سوتے وقت حب تنکار دو عدد یا چھلکا اسبغول چھ گرام یا سالم اسبغول دس گرام سوتے وقت دودھ یا ایک پائو یاعرق بادیان پچاس گرام بھی ساتھ کھائیں جسم کے درداور بخار کی شدت رفع کرنے کے لئے دوائے سفید ایک دورتی عرق گائوزبان پچاس گرام نیم گرم یا چائے کی پیالی کے ساتھ دن میں ایک دو دفعہ استعمال کرنا مفید ہے۔
بیحد سستی دوا ہے اور سینکڑوں نئی پیٹنٹ دوائوں سے زود اثر ہے جس کی ترکیب آخر میں لکھ رہا ہوں۔ جب نزلہ بند ہوناک منہ کھنچے کھنچے سربوجھل اور حواس مکدر ہوں اس کے ساتھ بلغم گاڑھی یا دشواری کے ساتھ خارج ہو تو گل بنفشہ ،زوفا، ملہٹی، نیمکوفتہ چھ گرام منقی ۷ دانے اور انجیر زرد دو تین دانے ایک پیالی پانی میں جوش دے کر چھان کر صبح کھانڈ سے شیریں کرکے پی لیں اور دوبارہ اتنا ہی پانی ڈال کر بھگودیں اور شام تین چار بجے ایک جوش دے کر چھان کر شیریں کرکے پی لیں۔ رفع قبض کے لئے سوتے وقت گلقند دو چمچ یا اطریفل زمانی آدھا چمچ اور اگر خشکی ہو تو نیم گرم دودھ کے ساتھ یا اگر طبیعت بوجھل ہو تونیم گرم عرق بادیان پچاس گرام کے ساتھ استعمال کرتے رہیں۔
کھانسی کی شدت روکنے اور بآسانی بلغم خارج کرنے کے لئے روغن بادام تین گرام اور شہد دس گرام ملاکر تھوڑا تھوڑا کھانسی کے وقت چٹاتے رہیںیا پھر منقہ کے دانے منھ میں ڈال کر سوچتے رہیں ۔درد اور اعضا شکنی دور کرنے کے لئے ایک چھٹانک پالک کا ساگ سیر بھر پانی میں جوش دے کر چھان کر ایک تولہ نمک ملاکر سنبھال کررکھیں اور دن میں تین مرتبہ اس نیم گرم تیار پانی سے غرغرہ کریں۔ غذا میں دلیہ، یخنی، دودھ ، شلغم، پالک، گاجر ،میتھی اور مونگرے سادہ یا گوشت میںپکاکر استعمال کرنے مفید ہیں۔
(2) عناب سپستاں، بہیدانہ ملائٹی جیسی ادویہ کاجوشاندہ ہمراہ شربت توت سیاہ نہایت ہی مفید ثابت ہوا ہے رات میں سوتے وقت بھپارہ سے ناک کان اور پیشانی کے تجاوریف (سوراخ) کھل جاتے ہیں اور اس طرح یہ مرض کے کم ہونے اور درد سر کو رفع کرنے کیلئے بہترین چیز تصور کی جاتی ہے۔
ایک کم خر چ موثر دوا کی ترکیب
(3) دوائے سفید ایک بے ضرر سستی دوا ہے جو کہ نزلہ زکام ، فلو اور بخار کی شدت کم کرتی ہے۔ دردوں کو تسکین دیتی اورجوڑوں کے درد میں بھی فائدہ مند ہے عام دوا خانوں سے مل جاتی ہے یا خود کسی عطار سے ایک تولہ ہڑ تال گودنتی جو کہ ایک سفید شفاف رنگ کا بھُر بھُر ا ورق دار پتھر ہوتا ہے لے کر درخت نیم کے پتے دو تولے کوٹ کر گولی کی طرح بناکر ہڑتال کی ڈلی کے نیچے اوپر لپیٹ کر ایک مٹی کی پیالی میں رکھدیں اور اسی طرح آدھ سیر کوئلوں کی آگ میں اس پیالی کو جمادیں۔ گھنٹہ آدھ گھنٹہ میں ہی نیم کے پتے جل جائیں گے اور گائو دنتی پھول کر بالکل سفید نرم ہوجائے گی۔ ہلکے ہاتھوں سے اس کے منتشر ورق اٹھاکر ٹھنڈا ہونے پر پیس کر رکھ لیں۔ یہ بیحد سستی مفید ہے دوا جو دیگر مہنگی ادویہ سے ہزار درجہ بہتر تصور کی جاتی ہے جو نہ دل کو کمزور کرتی اور نہ اعصاب کو نقصان دیتی ہے۔



