سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

انسانی دماغ کے تازہ ترین انکشافات-حکیم اقبال حسین

ہمارا دماغ گردن کے ’’ڈنٹھل‘‘ پر اس طرح رکھا ہوا ہے جیسے کسی شاخ پر پھول کھلا ہو۔

ہمارا دماغ گردن کے ’’ڈنٹھل‘‘ پر اس طرح رکھا ہوا ہے جیسے کسی شاخ پر پھول کھلا ہو۔ اس کا وزن تقریباً تین پاؤنڈ تک ہوتا ہے۔ ہمارا بھیجا گلابی مائل بھورے رنگ کانمی لئے ہوئے ربڑ Cushion ہے۔ یہ کاسۂ سر میں بہ حفاظت تمام تین جھلیوں میں ملفوف رہتا ہے اور قدرتِ کاملہ نے اسے ایسی رطوبت بھی فراہم کردی ہے جو ہر قسم کے صدمہ اور ضرب کے مقابلے میں کشن کا کام دیتی ہے اور اسے بڑی حد تک ضربات کے نقصانات سے بچائے رکھتی ہے۔

دماغ سے متعلق آج ہمیں جس قدر معلومات حاصل ہیں، انہیں اختصار کے ساتھ پیش کیا جائے، تو یوں سمجھئے کہ نظامِ جسمانی کے اندر اور باہر کی دنیا میں ناگہانی پیش آنے والے واقعات سے بر وقت نمٹنے کے لئے تیار کرتا ہے گویا ہمارے جسم میں یہ ایسا ماسٹر عضو ہے، جو اندر اور باہر کے آنے والے خطرات اور تبدیلیوں کو پہلے سے بھانپ لیتا ہے اور مناسب حال اقدامات کرکے ان سے عہدہ برآہونے کی کوشش کرتا ہے۔

ہمارے دماغ ہی سے عصبی نظام Nervous System نکلتا ہے جس نے خبر رسانی کا ایک پورا جال نظامِ جسمانی میں بچھا رکھا ہے اور اس کی بدولت ہماری اندر اور باہر کی دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے دماغ ہمہ وقت مطلع رہتا ہے اور بروقت مناسب اقدام کرتا ہے مثلاً شکر ہمارے نظامِ جسمانی کو انرجی فراہم کرتی ہے۔ قیامِ صحت کے لئے وہ ہمیں اتنی ہی ملنی چاہئے جتنی ہمارے جسم کو اس کی ضرورت ہے۔ نہ کم نہ زیادہ، ورنہ ہم بیمار پڑجائیں گے۔ اس سلسلے میں قدرت کا انتظام یہ ہے کہ ہمارے دماغ کو برابر اس کی اطلاع ملتی رہتی ہے کہ خون میں شکر کی مقدار اور سطح کیا ہے۔

اگر کسی وجہ سے شکر بڑھ گئی ہے اور اس کی وجہ سے نظامِ جسمانی کسی خطرے سے دو چار ہونے والا ہے، تو اس کی خبر دماغ کو فوراً ہوجاتی ہے اور وہ خون کی زائد شکر کو یا تو صَرف میں لے آتا ہے یا پھر پیشاب کے ذریعے خارج کردیتا ہے، تاکہ شکر کی مقدار خون میں بڑھ جانے کی وجہ سے بیہوشی یا کومہ طاری نہ ہوجائے اور اگر شکر کی مقدار خون میں کم ہوگئی ہے، اتنی کم کہ اس کی کمی کی وجہ سے تشنج کا دورہ پڑجانے کا خطرہ ہے۔ تو دماغ فوراً جگر کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر کی جمع شدہ کی ضروری مقدار خارج کردے، تاکہ جسمانی ضرورت پوری ہوجائے اور خطرہ ٹل جائے۔ یہ دماغ ہی تو ہے جو ہمارے تنفس اور قلب کی رفتار قائم رکھتا اور ہمارے جسم کے درجۂ حرارت کا نگراں ہے۔ اسی طرح عصبی نظام کے ذریعے ہمارا دماغ، نظامِ جسمانی کو باہر کے حالات کے مطابق ڈھالتا رہتا ہے اور ہاتھ اور پاؤں کے عضلات کی حرکات کا نظم اس طرح برقرار رکھتا ہے کہ اگر ہمیں کوئی خطرہ درپیش ہو، تو ہم بالقصد اور بالا رادہ اپنے اعضائے جسمانی کو اس خطرے سے بچانے کے لئے مناسب اقدام کرسکیں۔

دماغ کے پاس مکمل خبر رساں ایجنسی ہے۔ یہ ہمارے حواسِ خمسہ کیا ہیں یہی تو در اصل دماغ کے لئے مخبری کا کام انجام دیتے ہیں انہیں قدرت نے اہم ناکوں Strategic Pointsپر مامور کر رکھا ہے۔

ہماری جلد کی زیرِ سطح تیس لاکھ سے چالیس لاکھ تک ایسی ساختیں ہیں جو تکلیف کے احساس کو دماغ تک پہنچاتی ہیں اور تقریباً پانچ لاکھ کی تعداد میں ایسی ساختیں موجود ہیں جو لمس اور دباؤ کو محسوس کراتی ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ ساختیں ایسی ہیں جو درجۂ حرارت کی خبردیتی ہیں۔ ان کے علاوہ آنکھ ناک اور کان ہیں جنہیں دماغ کی کھڑکیاں کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا کہ ان سے وہ باہر کی دنیا کے حالات سے باخبر رہتا ہے۔

ان ذرائع سے جو معلومات دماغ تک پہنتی رہتی ہیں، سب سے پہلے وہ ان کو وصول کرتا ہے، پھر اپنے سابقہ تجربات، موجودہ حالات اور مستقبل کے منصبوں کی بنیاد پر ان وصول شدہ معلومات کو ترتیب دیتا ہے اور بالآخر ان کی روشنی میں کسی اقدام کا فیصلہ کرتا ہے۔

یہ آپ کا کھڑا ہونا، چلنا، دوڑنا جو بظاہر اس قدر سادہ عمل نظر آتا ہے، حقیقت میں دماغ ہی کا مرہونِ منت ہے۔ دماغ کا جسم پر کنٹرول نہ ہو، تو یہ سادا سا عمل بھی آپ سے نہیں ہوگا۔ دماغ ہی کے حکم سے ہمارے عضلات ضرورت کے مطابق سکڑتے، کھلتے اور مڑتے ہیں اور اس طرح ہمارا جسمانی توازن اتنی آسانی سے قائم رہتا ہے کہ ہمیں اس کے اندر کوئی قدرتِ باکمال نظر نہیں آتی، حالانکہ محض دوٹانگوں پر آپ کا کھڑا رہنا اور چلنا کسی نٹ کے کرتب سے کم نہیں۔

دماغ سے متعلق ان ابتدائی معلومات کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ سات اہم نکات بھی قارئین کی خدمت میں پیش کردئیے جائیں جن کی بدولت آپ اپنے دماغ کو زیادہ احسن اور بہتر طریق پر استعمال میں لاسکتے ہیں۔ ۱۔ اصل میں دماغی تکان کی کوئی حقیقت نہیں۔ عام طور پر لوگ دماغی تھکاوٹ کا ذکر کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دیر تک زیادہ توجہ کے ساتھ کام کرنے سے دماغ میں تکان پیدا ہوجاتی ہے۔ سائنس دانوں کی تحقیق یہ ہے کہ دماغ میں یہ صورتِ حال کبھی پیدا نہیں ہوتی۔ آ پ کا دماغ عضلات کی طرح نہیں ہوتا کہ تھک جائے۔

اس کے اعمال ووظائف میں قدرت نے برق رو سے کام لیا ہے، اس میں عضلات و نسیجوں کی طرح کوئی گھساؤ اور تحلیل کا عمل واقع نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں تکان کا کیا کام؟ حقیقت یہ ہے کہ دماغ مسلسل اور بغیر تھکے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپ پوچھیں گے مسلسل کام کرنے سے ہمیں محسوس تو ہوتا ہے کہ دماغ تھک گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دیر تک کام کرتے رہنے سے آپ کی آنکھیں تھک جاتی ہیں، زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے آپ کی گردن اور کمر تھک جاتی ہے اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ دماغ تھک گیا۔

۲۔ دماغ کبھی نہ ختم ہونے والی قابلیّت کا حامل ہے، ہمارے دماغ کا وہ حصہ جس کا تعلق فکر، تعقل، سوچ بچار اور حافظے سے ہے، اسے ہمارا ذہین سے ذہین اور دانا سے دانا شخص بھی پوری طرح استعمال نہیں کرپاتا۔ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ عام اور اوسط درجے کی قابلیت کا آدمی دماغ کے اس حصے کی صلاحیت دس اور بارہ فیصد سے زیادہ استعمال میں نہ لاتا۔ اونچے درجے کی قابلیت کے لوگ زیادہ سے زیادہ اسے پچاس فیصد استعمال کرلیتے ہوں گے۔

یوں سمجھئے دماغ کے اس حصے میں دس سے بارہ ہزار ملین نہایت چھوٹے اور خفیف خلیات ہماری شعوری سرگرمیوں کے لئے مختص ہوتے ہیں، ہر خلیے کے ساتھ ایک باریک سوت کا سا ریشہ لگا ہوتا ہے اسی ریشے کے ذریعے ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک برقی رو پیغام رسانی کا کام انجام دیتی ہے۔ یہ دس سے بارہ فیصد کا اندازہ اسی لئے لگایا گیا ہے کہ یہ خلیات اس سے زیادہ استعمال نہیں آتے۔ اسی بنیاد پر ماہرین نے دعویٰ کیا کہ دماغ کبھی نہ ختم ہونے والی قابلیت کا حامل ہے۔

ذہانت کی بنیاد بڑا سر نہیں جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے، بلکہ بالائی حصہ دماغ کے گودے میں جوبَل ور پیچ Convolutions ہیں، وہ ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ بَل اور پیچ در پیچ کسی شخص کے دماغ کے بالائی حصے میں ہوں گے، اتنا ہی زیادہ ذہین اور عقل مند ہوگا۔ یہاں یہ نکتہ بھی سمجھ لیا جائے کہ دماغ کے گودے کے یہ پیچ اور بَل خدا داد تو ہوتے ہی ہیں، لیکن ایک شخص کے مطالعے اور دماغ کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں بھی ان کی افزائش ہوجاتی ہے، چنانچہ جو شخص بھی محنت کے ساتھ مطالعہ کرے گا اور علم کے خزانے دماغ میں محفوظ کرنے کی کوشش کرے گا، وہ اس شخص سے بدرجہا ثابت ہوگا۔ جو ذہانت کے اعتبار سے پیدائشی طور پر پہلے سے بلند ہے۔

عمر حصولِ علم میں کسی مرحلے پر بھی مانع نہیں ہوتی، عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ جیسے جیسے ہم بوڑھے ہوتے جاتے ہیں، ہمارے حصولِ علم کی قابلیت وصلاحیت کم سے کم ترہوتی جاتی ہے۔ یہ عام خیال بالکل غلط ہے۔ اس کی کوئی علمی بنیاد نہیں۔ اگر آپ کے دماغ کو ایسا کوئی روگ نہیں لگ چکا جس سے دماغی برقی رو متاثر ہوگئی ہو اور ایک خیلے سے دوسرے خلیے تک برقی رو پیغامات پہنچانے کا کام صحیح طریق پر انجام نہیں دیتی، تب تو دوسری بات ہے اور یہ دماغی خرابی بڑھاپے ہی پر موقوف نہیں، جوانی بھی لاحق ہوسکتی ہے۔

اس کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں کسی کے دماغ کا دورانِ خون کم ہوجانے اور خون کے ذریعے جو قیمتی اجزاء مثلاً آکسیجن، گلوکوز اور دیگر کیمیکلز دماغ کو مطلوبہ مقدار میں نہ ملیں، تو ایسے لوگوں کے لئے بلا شبہ دماغی کام کرنا مشکل ہوجائے گا، ورنہ خرابی نہ ہنے کی صورت میں تو 80-70 سال کی عمر تک ایک شخص اپنے دماغ سے اچھا خاصا کام لے سکتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں ریٹائر ہونے کے بعد اگر ہمارے بزرگ دوبارہ اسکول اور کالج میں داخلہ لے کر مطالعہ میں لگ کر اپنے دماغوں کو جلادیں تو عین ممکن ہے ’’بوڑھے طوطے کیا پڑھیں گے‘‘ کی ضرب المثل غلط ہوکر رہ جائے۔

آپ کی دماغی قوتیں استعمال سے نشو ونما پاتی ہیں، جس طرح ہمارے عضلات اگر استعمال نہ کئے جائیں، تو دبلے ہونے لگتے ہیں، اسی طرح ہمارا دماغ کم استعمال میں آنے کی وجہ سے لاغر ہوجاتا ہے۔ اسے یوں سمجھئے اگر کسی کا عصبۂ چشم Optic Nerve جس کے ذریعہ سے ایک شخص دیکھتا ہے، بچپن ہی میں ضائع ہوجائے، تو دماغ کا وہ حصہ جو بینائی سے تعلق رکھتا ہے، ٹھٹھر کر رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ عصبۂ چشم کے ضائع ہوجانے کی وجہ سے اس حصۂ دماغ کا استعمال ہی نہیں ہوا۔

جو بھی دماغ کام آپ کریں گے، اس سے دماغ کی ورزش ہوگی۔ اگر کسی مشکل سوال یا کسی مشکل مسئلہ حل کرنے میں آپ لگ جائیں گے، تو اس سے آپ کی دماغی ورزش بھی زیادہ ہوگی، اسی طرح جتنا زیادہ آپ استدلال سے کام لینے کی مشق کریں گے، آئندہ جب کبھی کوئی مسئلہ کھڑا ہوگا، تو آپ بہتر دلائل کے ساتھ اس پر گفتگو کرسکیں گے، اسی طرح کسی چیز کو زبانی یاد کرنے اور حفظ کرنے سے حفظ کرنے کی قابلیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر پہلے کسی چیز کے یاد کرنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے، تو اس کی مشق کرنے سے وہ چالیس منٹ میں یاد ہونے لگے گا۔ اسی طرح مشق سے آپ کی قوتِ ارادی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر پہلی دفعہ آپ قوتِ ارادی سے کام لے کر کسی مشکل کام کی تکیل میں اپنے آپ کو لگادیں، تو دوسری مرتبہ ایسے ہی مشکل کام کی انجام دہی میں آپ کو زیادہ دشواری محسوس نہ ہوگی۔

ہمارا لاشعور: ہمارے دماغ کا وہ حصہ ہے جو اپنے اندر بڑے عجائبات رکھتا ہے۔ اس میں بے انداز یادیں محفوظ ہوتی ہیں اور اپنی وسعت کے اعتبار سے یہ ہزاروں گنا بڑا ہوتا ہے۔ ابھی تک اپنے لاشعور کے متعلق ہم بے انداز نہیں جانتے، لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہمیں اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے متعلق بھی علم ہوتا جارہا ہے۔ آپ کے لاشعور میں لاکھوں سے بھی زیادہ تجربات محفوظ ہیں جنہیں آپ ہمیشہ کے لئے بھول چکے ہیں، لیکن بعض تدابیر کے ذریعے بھولی یادیں آپ تازہ کرلیتے ہیں۔

ان کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جیسے نفسیاتی معالج، ’’بلا روک گفتگو‘‘ کہتے ہیں۔ اصل میں اس کے لئے انگریزی اصطلاح فری ایسوسی ایشن ہے جس کے لئے میں نے بلا روک گفتگو کی اصطلاح وضع کی ہے۔ اس میں وہ مریضوں کو بلا روک ٹوک خوب باتیں کرنے کا موقع دیتے ہیں اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مریضوں کو رفتہ رفتہ اپنے ماضی کی بھولی بسری باتیں یاد آنے لگتی ہیں۔

انہیں بھولے ہوئے خوف، بھولی ہوئی خوشیاں، بھولے ہوئے رنج اور پرانی یادوں کے سلسلے کے سلسلے حافظے کی شعوری سطح پر تازہ ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح دماغی معالجین ایسے دماغی مریضوں کی ذہنی الجھنیں رفع کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس طریقے کے علاوہ آج کل بعض دوائیں بھی ایسی ایجاد ہوگئی ہیں جو لاشعور کو شعوری سطح پر لے آتی ہیں۔ پھر ہپنا ٹزم سے مدد لے کر بھی لاشعور کو ابھار کر سطح پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔

اکثر ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ہم چاہیں تو اپنے لاشعور سے بڑا کام لے سکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سوں نے اس تجربہ کیا ہوگا، رات کو سوتے وقت اگر ہم اپنے آپ کو یہ حکم دیں کہ مجھے صبح فلاں وقت جگادیا جائے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری آنکھ ٹھیک اسی وقت کھل جاتی ہے اسی طرح آپ جب چاہیں اپنے خراب موڈ کو اگلے دن بڑا خوشگوار بناسکتے ہیں۔ رات کو سوتے وقت خود اپنے آپ کو مخاطب کرکے کہیے کہ صبح میں اپنے آپ کو خوش وخرم دیکھنا چاہتا ہوں۔ یقین کیجئے دوسرے دن صبح آپ کا موڈ نہایت عمدہ اور خوشگوار ہوگا۔

اپنے تعقل اور جذبات میں توازن قائم رکھئے۔ ہمارے دماغ کے تین حصے ہوتے ہیں ایک بالائی اوردوسرا درمیانی اور تیسرا نچلا حصہ۔ نچلا حصہ ہمارے جسم کے ان اعضاء کو حرکت دیتا ہے جو ہمارے اختیار اور ارادے کی دسترس سے باہر ہیں، جیسے قلب، پھیپھڑے، تنفس وغیرہ۔ درمیانہ حصے کچھ تو نچلے دماغ کے کاموں میں شریک ہوتا ہے اور کچھ بالائی اور نچلے حصہ ہائے دماغ کے درمیان پل کا کام دیتا ہے یعنی نچلے دماغ کے پیغام بالائی حصے تک پہنچاتا ہے۔ زیادہ تر جذبات کا تعلق بھی انہی حصوں سے ہوتا ہے۔

بالائی حصہ دماغ خالصتاً انسانی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے دراصل انسان کے دماغ کا یہی حصہ اسے حیوان کے مقابلے میں اشرف المخلوقات کا درجہ دیتا ہے تو بہت ہی کم ہوتا ہے اس حصۂ دماغ میں تعقل، ذہانت اور حافظے وغیرہ وہ اعلیٰ درجے کی خصوصیات ہوتی ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں۔ یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ سفلی اور غلط قسم کے جذبات جیسے غصے اور نفرت کی حالت کہ جس میں ایک شخص قتل تک کی واردات کر گزرتا ہے، بالائی حصہ دماغ کی مدد سے قابو میں لے آیا کریں یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سرے سے ایک شخص جذبات سے خالی ہوجائے ہمیں ضرورت کے وقت جذبات کی بھی حاجت ہے بس اتنا ہی چاہئے کہ ہم تعقل، دور اندیشی سے کام لے کر ان جذبات کو قابو میں رکھیں، تاکہ انسانیت کے درجے سے گر کر حیوان نہ بن جائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button