بین ریاستی خبریں

عازمین حج کے ساتھ مبینہ ناانصافی مہاراشٹر کانگریس کے لیڈر نسیم خان نے وزیراعظم کو لکھا مکتوب

خان نے حج کمیٹی کے ملک کے مختلف مقامات سے عازمین کے لیے مختلف رقمیں وصول کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا۔

ممبئی، 10مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مہاراشٹر کے سابق وزیر اور ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر ایم اے نسیم خان نے آئندہ حج کے لیے اس سال کا کوٹہ کم کرنے اور مسلم عازمین کو مختلف خدمات فراہم کرنے کے لیے بھاری فیسیں عائد کرنے کے حکومتی اقدام پر تنقید کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط میں نسیم خان نے کہا کہ اس سے قبل ہندوستان کو حج کمیٹی آف انڈیا کی طرف سے عازمین کا کوٹہ 200000 سے زیادہ تھا جسے کم کر کے اب تقریباً 150000 کر دیا گیا ہے۔انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ بقیہ کوٹہ نجی ٹور آپریٹرز کو دیا گیا ہے جو حج کے لیے 500000 روپے سے 1000000 روپے فی شخص تک کی بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔

خان نے حج کمیٹی کے ملک کے مختلف مقامات سے عازمین کے لیے مختلف رقمیں وصول کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی مہاراشٹر سے مختلف مقامات پر بھاری فیس حاصل کرتی ہے، مثلاً ممبئی میں 304843 روپے، ناگپور میں 367044 روپے، اورنگ آباد میں 392738 روپے، جوکہ غیر منصفانہ ہے۔نسیم خان نے دعویٰ کیا کہ عازمین کو 2019 سے پہلے دی گئی قربانی فیس جیسے دیگر فوائد سے بھی محروم کیا جا رہا ہے لیکن جب انہوں نے یہ معاملہ حج کمیٹی کے اراکین کے ساتھ اٹھایا تو انہوں نے کہا کہ تمام اختیارات اقلیتی امور کی وزارت نے واپس لے لیے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے حجاج کرام کے لیے سعودی عرب میں مکہ اور مدینہ میں ہوٹلوں کی بکنگ میں گھوٹالے کی طرف بھی اشارہ کیا۔

سعودی عربین ایئر لائنز کی طرف سے پیش کردہ رعایتی ٹکٹ اب نجی ایئر لائنز کے ذریعے زیادہ نرخوں پر بک کرائے جا رہے ہیں۔نسیم خان نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ اس کی وجہ سے مہاراشٹر اور ہندوستان بھر میں عازمین اور مسلمانوں میں برہمی پائی جارہی ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ ذاتی طور پر اس معاملے کو دیکھیں اور متعلقہ وزارت کو مناسب ہدایات دیں۔خیال رہے کہ اس سال حج کا آغاز 26 جون سے ہوگا اور ہندوستان کے مختلف حصوں سے سعودی عرب کے لیے پہلی پرواز 21 مئی سے شروع ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button