سرورققومی خبریں

این آئی اے کا کیرالہ ٹرین آتشزدگی کیس میں شاہین باغ میں چھاپے

ملزم شاہ رخ سیفی، معروف داعی اسلام ذاکر نائیک، پاکستان کے معروف تبلیغی عالم دین مولانا طارق جمیل،ڈاکٹر اسرار احمد سمیت مختلف اسلامی مقررین کا پیروکار رہا ہے،

نئی دہلی ،۱۱؍مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جمعرات (11 مئی) کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کیرالہ میں کوزی کوڈ ٹرین آتشزدگی واقعہ کے سلسلے میں دہلی کے جامعہ نگر ، اوکھلا کے شاہین باغ کے ساتھ ساتھ آس پاس کے 10 علاقوں میں تلاشی مہم چلائی ہے۔ این آئی اے کے سرچ آپریشن میں ملزم شاہ رخ سیفی اور مختلف مشتبہ افراد کے اثاثہ جات شامل ہیں۔اس معاملے پر این آئی اے کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی تحقیقات میں اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم شاہ رخ سیفی، معروف داعی اسلام ذاکر نائیک، پاکستان کے معروف تبلیغی عالم دین مولانا طارق جمیل،ڈاکٹر اسرار احمد سمیت مختلف اسلامی مقررین کا پیروکار رہا ہے،

خیال رہے کہ این آئی اے نے ذاکر نائیک،مولانا طارق جمیل اور ڈاکٹر اسرار احمد کو مبینہ طور پر ’’بنیادپرست اسلامی مبلغ ‘‘قرار دیا ہے۔ جمعرات کی تلاشی میں موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک سمیت ڈیجیٹل آلات ضبط کر لیے گئے ہیں، اس معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے۔اس سے پہلے ہفتہ (06 مئی) کو این آئی اے کی ایک ٹیم نے شورنور ریلوے اسٹیشن کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کئے۔ تفتیشی ٹیم ملزم شاہ رخ سیفی کو پلیٹ فارم نمبر 4 لے گئی تھی جہاں اس نے کیرالہ پہنچ کر آرام کیا تھا۔

اس راستے کا بھی معائنہ کیا جس سے گزر کر وہ اسٹیشن سے باہر آیاتھا۔ اس کے علاوہ ٹیم نے اس پیٹرول پمپ کا بھی دورہ کیا جہاں سے سیفی نے پیٹرول خریدا تھا۔ اس کے بعد اتوار (7 مئی) کو این آئی اے کی ٹیم ملزم کو کوزی کوڈ اور کنور کے ایلتھور لے گئی۔جانچ میں پتہ چلا کہ 31 مارچ کو ملزم دہلی سے جن سمپرک کرانتی ایکسپریس میں سوار ہوا تھا۔ وہ 2 اپریل کو شورنور ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ اس کے بعد پیٹرول پمپ سے پیٹرول خریدا اور الپپوزا-کنور ایگزیکٹیو ایکسپریس میں سوار ہوا۔ جب ٹرین ایلتھور کے قریب کورپوزا پل سے گزر رہی تھی تو اس نے مسافروں پر ایندھن ڈال کر اسے آگ لگا دی۔ اس واقعے میں 9 افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ ایلتھور کے قریب پٹریوں سے ایک خاتون، ایک بچے اور ایک مرد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ ملزم واقعہ کے بعد فرار ہوگیا تھا اور بعد میں اسے مہاراشٹر کے رتناگیری سے گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button