سرورققومی خبریں

کرناٹک: سدارامیا وزیر اعلیٰ، ڈی کے سمیت 3 نائب وزیر اعلیٰ یقینی طور پر طے

کروبا برادری سے آنے والے سدارامیا کو وزیر اعلی بنایا جا سکتا ہے

نئی دہلی، 15مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کرناٹک میں حکومت بنانے کا فارمولہ تقریباً طے ہوچکا ہے۔ کروبا برادری سے آنے والے سدارامیا کو وزیر اعلی بنایا جا سکتا ہے۔ان کے ماتحت تین ڈپٹی سی ایم ہو سکتے ہیں۔ تینوں کا تعلق مختلف برادریوں سے ہوگا۔ ان میں ووکلیگا برادری سے ڈی کے شیوکمار، لنگایت برادری سے ایم بی پاٹل اور نائک/والمیکی برادری سے ستیش جارکی ہولی شامل ہیں۔ کرناٹک میں کروبا کی آبادی 7 فیصد، لنگایت 16 فیصد، ووکلیگا 11 فیصد، ایس سی ایس ٹی لگ بھگ 27 فیصد ہے، اس کا مطلب ہے کہ کانگریس اس فیصلے سے 61فیصد آبادی کو مطمئن کرنا چاہتی ہے۔

تاہم کانگریس تنظیم سے وابستہ لوگوں نے ڈی کے شیوکمار کو ان کی تنظیمی صلاحیتوں کے پیش نظر وزیراعلیٰ بنانے کی وکالت کی ہے۔ یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ سدارامیا اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعلیٰ دونوں رہ چکے ہیں۔ ان کی عمر بھی زیادہ ہے، اس لیے ڈی کے شیوکمار کو سی ایم بنایا جائے۔ اعلیٰ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ آج رات تک متوقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رائے عامہ ڈی کے شیوکمار کے حق میں ہے، زیادہ تر ایم ایل ایز کی حمایت سدارامیا کے ساتھ ہے۔ہائی کمان نے سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کے ساتھ ان دونوں دھڑوں سے تعلق رکھنے والے کچھ ایم ایل ایز کو دہلی بلایا ہے۔

ہائی کمان کی پوری منصوبہ بندی لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ہے۔ فی الحال کرناٹک کی 28 لوک سبھا سیٹوں میں سے صرف ایک پر کانگریس کے ایم پی، ڈی کے سریش، ڈی کے شیوکمار کے بھائی ہیں۔ اب بڑے فرق سے جیت کے بعد کانگریس چاہتی ہے کہ اگلے سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں 28 میں سے کم از کم 20 سیٹیں پارٹی کے کھاتے میں آئیں۔ اسی لیے اس وقت حکومت مختلف برادریوں کے ووٹ بینکوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button