دوسروں کو ہنسانے والے کو خود کتنا رونا پڑا یہ شائد ہنسنے والے نہیں سمجھ سکتے ۔اپنے زمانے کے یہ ہنسانے والےفن کار اوم پرکاش عرف فتح دین رئیس خاندان میں پیدا ہوئےتھے ۔ اُن کے والد کے لاہور اور جموں میں بنگلے تھے۔ کئی ایکڑ زمین پر کا شتکاری ہوتی تھی ۔ بڑے کاشتکاروں میں اُن کا شمار ہوتا تھا، لیکن تقسیم کی نفرت بھری آندھی نے سب کچھ اُجاڑ کر رکھ دیا۔ ہر طرف خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی ۔ اوم پرکاش اپنے بڑے اور چھوٹے بھائی اور ان کی فیملی کے ساتھ بچتے بچاتے کسی طرح لاہور اسٹیشن پہنچ گئے ۔
یہ بھی کم دلچسپ بات نہیں تھی کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہندو مسلمان میں بھی انسانیت کا پیغام دینے والی مثال اوم پرکاش کے خاندان والوں کے ساتھ دیکھنے کو ملی تھی۔ ان کے خاندان کے سبھی افراد کو مسلم علاقے سے صحیح و سلامت اسٹیشن تک پہنچانے والا ایک مسلمان تھا۔ اسٹیشن کا منظر تو اور بھی دہشت ناک تھا۔
ٹکٹ لینے کے لئے بھیٹر کافی جمع تھی، وہاں بھی اوپر والے نے ایک فرشتہ بھیج دیا۔ ہاکی کے مشہور ومعروف کھلاڑی نور محمد کو اوم پرکاش لاہور رہنے کے وقت سے ہی جانتے تھے ۔ انہوں نے کسی طرح ٹکٹ کا بندو بست کر کے اوم پرکاش کو فیملی کے ساتھ امرتسر روانہ کر دیا۔ وہاں سے اوم پرکاش دیلی پہنچے اور پھر برنداون میں اپنا ٹھکانا بنایا۔ اس درمیان اوم پرکاش کو بی آر چوپڑا کا ٹیلی گرام ملا جس میں چوپڑا نے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ بمبئی میں ایک فلم بنانے جار ہے ہیں۔ اوم پرکاش کے پاس ابھی اپنی کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ ایک دوست سے دوسرے دوست کے یہاں مہمان بنتے پھر رہے تھے۔
چوپڑا انہیں یقین دلا کر پنجاب چلے گئے ۔ اوم پرکاش ان کے واپس آنے کا انتظار ہی کرتے ر ہے لیکن وہ نہیں آئے۔ ان کی جیب بھی جواب دے چکی تھی ۔ کڑکی سے تنگ آکر انہوں نے چوپڑا جی کو غصہ میں خط لکھا کہ ” کیا بمبئی میں آپ نے مجھے بھکاری بننے کے لئے بلوایا تھا؟ یا پھر فورا واپس آنے کی بات کہہ کر مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کی تھی اوم پرکاش کے اس خط کا جواب چوپڑا نے بڑی عجیب و غریب زبان میں اس طرح دیا تھا ۔ اگر تم بمبئی میں بھٹک رہے ہو تو اس کے ذمہ دار تم خود ہو تم کتے کی طرح ایک اسٹوڈیو سے دوسرے اسٹوڈیو میں بھٹک رہے تھے ۔ میں نے ترس کھا کر تمہارے بارے میں کچھ کرنے کو سوچا تھا مگر تم تو میرے سر پر ہی سوار ہو گئے ۔
” اس خط کے مضمون نے اوم پرکاش کو بھر پور ٹھیس پہنچایا۔ اُن کو چوپڑا پر بہت بھروسہ تھا کیونکہ اوم پر کاش لاہور میں رہتے ہوئے ان کی ایک فلم سائن کر چکے تھے مگر چوپڑا کے اس خط نے اس وقت اوم پرکاش کی آنکھیں گیلی کردیا تھا۔ کسی طرح بمبئی میں قیام کے لئے ایک کمرہ کا بندوبست ہو گیا تھا لیکن بیکاری نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ اس نے اور بھی جکڑ کر اوم پرکاش کو پکڑ لیا۔ نا امید ہو کر ایک دن وہ اپنے کمرہ میں رکھی ہوئی ہنومان جی کی مورتی کو کھڑکی سے باہر پھینک کر سوچنے لگے کہ جس بھگوان کے بھکت ہیں ، وہ بھی دھوکا دے رہا ہے ۔ اچانک ایک دن دروازہ پر ایک آدمی نے دستک دی۔ اس کو رائٹر کرشن چندر نے بمبئی لیب سے بھیجا تھا۔
اس نے بتایا کہ گاندھی جی کے قتل سے متعلق دوریلیں لیب میں تیار ہیں۔ اس کی کمینٹری کے لئے ایک پنجابی کمینٹری یٹر کی ضرورت ہے ۔ اوم پرکاش نے ریلیں دیکھ کر کہا کہ اور یجنل کمینٹری کو وہ خود ہی لکھیں گے۔ چنانچہ وہ لوگ تیار ہو گئے ۔ اوم پرکاش نے اسی وقت پون گھنٹے میں نئی کمینٹری لکھ کر ان کو پیش کر دیا اور اُسی وقت اس کی ریکارڈنگ بھی ہوگئی ۔ اوم پرکاش نے وہاں سے اچھی کمائی کر کے واپس اپنے کمرے میں آکر ہنومان جی کی مورتی کے سامنے سرخم کیا ۔ راجندر کرشن سے ان کی ملاقات بھی لوکل ٹرین سے آمد و رفت میں ہو چکی تھی ۔ روزانہ اوم پرکاش الفسٹن سے چرچ گیٹ کی دوڑ بس یوں ہی ٹرین سے لگایا کرتے تھے ۔ ایک دن اسی روٹین سفر میں ان کے سامنے کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے دولوگ ان کو دیکھ کر مسکرائے جارہے تھے ۔ اوم پرکاش کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ ان کو لاہور کے وقت سے جانتے ہیں ۔
وہاں ان کی دو فلمیں داسی اور دھمکی انہوں نے دیکھی تھی ۔ یہ دو شخص راجندرکشن اور او پی دتّا تھے ۔ آگے چل کر راجندرکشن تو اوم پرکاش کے قریبی دوست بنے لیکن او پی دتّا ان کا کبھی نہیں بنا۔ وجہ یہ تھی کہ اوم پرکاش بہت ہی خود دار شخص تھے اور دتا میں ڈائریکٹر والی اینٹھن تھی ۔ اس لئے دونوں میں بناؤ کبھی نہیں رہا۔ یہاں تک کہ چر لی روڈ سے راجندرکشن کے گھر جب اوم پرکاش جاتے تو اسی بلڈنگ میں رہنے والے دتّا سے کبھی نہیں ملے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایک دن یوں ہی سامنا ہو جانے پر او پی دتّا نے اوم پرکاش کو پریشان حال دیکھ کر ان سے کہا تھا کہ ان کے پاس بہت رو پے ہیں اور وہ پچاس روپئے ہفتہ کی نوکری ان کو دے سکتے ہیں۔
اس آفر سے اوم پرکاش کو گہری چوٹ لگی اور انہوں نے دتّا سے برجستہ کہا کہ ایک دن ان کا بھی ستارہ چمکے گا اور آئندہ کبھی بھی دکھ پہنچانے والا آفر نہ دیا کریں۔ اس حادثہ کے بعد راجندر کشن ایک مرتبہ ان کے پاس آئے اور کہا کہ دتا ایک فلم ڈائرکٹ کر رہے ہیں ۔ یہ سن کر اوم پرکاش نے جواب دیا کہ ان کو اگر ضرورت ہوگی تو وہ خود چل کر میرے پاس آئیں گے ۔ مگر گردش کے دن ختم ہونے میں دیر لگتی ہے۔ ایک دن ایسا بھی آیا جب تین دن کے بھو کے اوم پرکاش خدا داد سرکل پر تھکے ہارے اور غم زدہ کھڑے اپنے وقت کو کوس رہے تھے ، بھوک برداشت نہ ہوئی تو ایک ہوٹل میں وہ چلے گئے اور وہاں ڈٹ کر چکن بریانی کھایا اور ایک گلاس لسّی بھی پی لیا ۔ کھا پی کر جب وہ کاؤنٹر پر گئے تو ویٹر نے 16روپیہ کا بل بتا یا ۔ اوم پرکاش کو اپنا بھرا ہوا پیٹ بھاری پڑنے لگا۔
خیر اب تو بریانی وغیرہ پیٹ کے حوالے ہو ہی چکے تھے، منیجر کے پاس جا کر انہوں نے جو سچ تھا وہ بتا دیا۔ اور وعدہ کیا کہ جیسے ہی رو پئے آئیں گے میں خود آ کر انہیں بقایا سولہ روپے ادا کر جائیں گے۔ ظاہر ہے ان کے اس وعدے پر منیجر کو بھروسا کرنا نہیں تھا۔ پھر بھی اس نے ان کی بے عزتی نہیں کی اور چپ چاپ جانے دیا۔ کہتے ہیں ایمانداری آدمی کی خود بولتی ہے۔ نیت درست ہو تو اوپر والا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی دیتا ہے ۔ اوم پرکاش کی حوصلہ مندی اور بھگوان پر اعتماد، ایک دن رنگ لے ہی آیا ۔
دادر میں شری ساؤنڈ اسٹوڈیو میں ہدایت کار جینت دیسائی نے ایک دن اوم پرکاش کو بلوا کر کہا فلم میں ویلین کا رول ہے۔ اوم پرکاش فوراً تیار ہو گئے ۔ انہوں نے سوچا کم از کم ۲۵۰ روپئےتو ملیں گے ۔ لیکن ۲۵۰ ہی کیا وہاں تو چھپڑ پھاڑ کر نوٹ برسنے والے تھے۔ دیسائی نے ۱۰۰۰ روپئے اڈوانس دیئے تو اوم پر کاش کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ یہی نہیں پوری فلم کے لئے ان کو ۵۰۰۰ روپئے میں سائن کر لیا۔ اڈوانس ملی رقم لے کر اوم پرکاش نے پہلا کام یہ کیا کہ گھر نہ جا کر سیدھے ہوٹل گئے اور بقایا سولہ روپے منیجر کو پکڑاتے ہوئے اسے بھی بھونچکا کر دیا جبکہ یہ بات منیجر کب کا بھول چکا تھا۔!



