قومی خبریں

این سی ای آر ٹی کی کتاب سے ’خالصتان‘ کا ذکر ہٹانے کا فیصلہ

اس کتاب کے ساتویں باب (علاقائی خواہشات) میں خالصتان کو لے کر بات کی گئی تھی

نئی دہلی ،30مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بہت جلد این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے ’خالصتان‘ کا تذکرہ ہٹ جائے گا۔ دراصل گزشتہ ماہ شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس پی سی) نے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) کو ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بارہویں درجہ کی کتاب سے خالصتان کے ذکر کو ہٹایا جائے۔ ساتھ ہی این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے اس بات کا تذکرہ بھی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس میں سکھوں کو ’علیحدگی پسندوں‘ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق این سی ای آر ٹی نے اس خط کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بارہویں درجہ کی پالیٹیکل سائنس یعنی علم سیاسیات کی کتاب ’سوتنتر بھارت کی راجنیتی‘ (آزاد ہندوستان کی سیاست) سے خالصتان کا ذکر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کتاب کے ساتویں باب (علاقائی خواہشات) میں خالصتان کو لے کر بات کی گئی تھی۔ اس میں ’سکھ قوم کو مضبوط کرنے کی دلیل‘ بتائی گئی تھی جسے اب ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ کہا جا رہا تھا کہ اس سے سکھوں کی شبیہ خراب ہو رہی تھی۔قابل ذکر ہے کہ ایس پی سی نے این سی ای آر ٹی کو لکھے خط میں ’غلط اطلاعات‘ پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ این سی ای آر ٹی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ تاریخی دلائل کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے۔ بارہویں درجہ کی کتاب کے ساتویں باب میں آنندپور صاحب اور خالصتان کو لے کر جو جانکاری دی گئی ہے، اس پر ایس جی پی سی کو شدید اعتراض تھا۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس حصہ کو کتاب سے ہٹا دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button