تلنگانہ کی خبریں

غیر معیاری اسکولس پر حکومت کی کڑی نظر

خانگی اسکولس پر خصوصی پورٹل کے ذریعہ نگاہ ، ہر اسکول کا آن لائن اندراج

تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی منصوبہ بندی ، سیکشنس ، ٹیچرس ، طلبہ کی تعداد ، فیس کی تفصیلات درج ہوگی

حیدرآباد :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) محکمہ تعلیم کی جانب سے خانگی اسکولس پر سخت نگاہ رکھنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ ہر خانگی اسکول کو آن لائن کے حدود میں شامل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے اور اس کے لیے خصوصی پورٹل تیار کیا جارہا ہے ۔ ریاست کے ہر ایک خانگی اسکولس کو اس پورٹل میں اندراج کرانے کی ذمہ داری ضلعی محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو سونپی گئی ہے ۔ اسکولس کے منظوری حاصل کرنے والے سیکشن ، اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد ، ٹیچرس کی تعداد ، کونسے سبجکٹ کے لیے کون ٹیچر ہے ، ان کی تعلیمی قابلیت کیا ہے ، طلبہ سے کتنی فیس وصول کی جارہی ہے ، تمام تفصیلات کو پورٹل میں اندراج کرانے کو لازمی قرار دیا جارہا ہے ۔

عہدیداروں نے بتایا کہ جون کے اواخر تک پورٹل کی تیاری کا کام مکمل ہوجائے گا ۔ اس پورٹل سے تعلیمی معیار کو برقرار نہ رکھنے والے اسکولس کی نشاندہی کرنے میں آسانی ہوگی ۔ ساتھ ہی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زائد فیس وصول کرنے والے اسکولس کو بھی کنٹرول کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ پورٹل کی تیاری کے سلسلہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس بھی منعقد ہوا ہے ۔ خانگی اسکولس کی تفصیلات فی الحال ضلعی عہدیداروں کے حدود کے پاس موجود ہے ۔

اس پورٹل میں طلبہ کے والدین کے بارے میں دیگر تفصیلات بھی درج رہیں گی ۔ مرکزی حکومت گذشتہ سال جاری کردہ پرفارمینس گریڈنگ انڈیکس ( پی جی آئی ) رپورٹ میں ریاست کی اسکولی تعلیم 31 ویں مقام پر ہونے کا انکشاف کیا ہے ۔ اس تناظر میں سرکاری اور خانگی اسکولس میں تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل شروع کیا جارہا ہے ۔ اس سے خانگی تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے کی توقع کی جارہی ہے ۔ ریاست میں تقریبا 11,000 خانگی اسکولس ہیں ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان میں 1.75 لاکھ ٹیچرس کام کررہے ہیں ۔ درحقیقت ڈی ای ڈی کے ساتھ ٹی ای ٹی کامیاب کرنے والوں کو بطور ٹیچر خدمات حاصل کرنا چاہئے ۔ لیکن یہ الزامات ہیں کہ بہت سے اسکولس میں ڈی ایڈ ( ڈپلومہ ان ایجوکیشن ) کی خدمات حاصل کرتے ہوئے تدریسی کا عمل مکمل کیا جارہا ہے ۔

چند اسکولس میں بغیر قابلیت کے اساتذہ طلبہ کو پڑھا رہے ہیں ۔ حکومت کو لگتا ہے کہ اس سے تعلیمی معیار متاثر ہورہا ہے ۔ تاہم پرائیوٹ اسکولس کے ریکارڈس یہ بتاتے ہیں کہ تمام قابل اساتذہ پڑھا رہے ہیں ۔ لیکن اس پر مناسب نگرانی نہ ہونے سے اسکولی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اساتذہ کی مضمون وار تفصیلات اور ان کی اہلیت کے دستاویزات آن لائن رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

دوسری جانب قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زیادہ فیس وصول کرنے کا چند اسکولس پر والدین ہر سال الزامات عائد کررہے ہیں ۔ اس کو کنٹرول کے لیے اسکولس کی فیس تفصیلات کو آن لائن میں اندراج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کورونا بحران کے بعد خانگی اسکولس میں ٹیچرس کی قلت پیدا ہوجانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں تقریبا 40 فیصد ٹیچرس اپنا پیشہ تبدیل کرچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button