سرورققومی خبریں

گریٹر نوئیڈا کرائم -بی اے-ایل ایل بی کے طالب علم کو تھانے لے جا کر مارا پیٹا گیا، پیشاب پلانے کی کوشش

بی اے ایل ایل بی کے ایک طالب علم نے پولیس پر اسے زبردستی تھانے لے جانے، بھتہ طلب کرنے اور اس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

گریٹر نوئیڈا :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) دہلی سے متصل گریٹر نوئیڈا میں ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں بی اے ایل ایل بی کے ایک طالب علم نے پولیس پر اسے زبردستی تھانے لے جانے، بھتہ مانگنے اور مارپیٹ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ طالب علم کا الزام ہے کہ پولیس نے اسے زبردستی پیشاب پلانے کی کوشش کی۔پولیس نے بتایا کہ یہ وائرل ویڈیو ایک سال پرانا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے ویڈیو کی تحقیقات کرنے اور واقعے کی حقیقت سامنے لانے کا حکم دیا ہے۔ دراصل یہ سارا معاملہ تقریباً 8 ماہ پرانا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ جیتو کا تعلق دلت برادری سے ہے۔

دو سال قبل اس کی منیش نامی نوجوان سے دوستی ہوئی تھی۔ تاہم دونوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا۔  فون پر بات کرتے ہوئے جیتو نے بتایا کہ اس کی ملاقات منیش سے 2 سال قبل نوئیڈا کے سیکٹر 73 کے اے اسکوائر مال میں ہوئی تھی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ منیش اسپا کی آڑ میں غلط کام کر رہا ہے تو وہ منیش سے دوستی ختم کر کے وہاں سے چلاگیا۔

اس کے بعد 18 نومبر 2022 کو منیش نے جیتو کو چائے دینے کے بہانے پاری چوک کے ایس این جی مال میں بلایا۔ جہاں منیش کی بیوی پائل بھی اس کے ساتھ موجود تھی اور منیش نے جیتو سے بات کی۔ جیتو نے بتایا کہ کچھ دیر بعد پولیس والے آئے منیش پیسے ان کے حوالے کرتا ہے اور وہ فوراً پیسے لے کر اس کے قریب آتے ہیں اور زبردستی ساری رقم اس کی پچھلی جیب میں ڈال دی۔ پھر وہ اسے پکڑ کر تھانے لے گئے اور منیش سے بھتہ مانگنے کا جھوٹا مقدمہ درج کیاگیا۔ متاثرہ طالب علم جیتو کا الزام ہے کہ اسے پولس اسٹیشن لے جانے کے بعد اسے ایک کمرے میں بند کر کے شدید مارا پیٹا گیا۔جب وہ چیختا روتا اور جب پانی مانگتا اسے پانی کی جگہ پیشاب دینے کی کوشش کی جاتی۔ یہ پورا واقعہ جیتو کے فون میں لگے خفیہ کیمرے میں قید ہو گیا، جس کے بارے میں پولیس والوں کو علم نہیں تھا۔ پولیس جیتو کے فون کا لاک کھول کر منیش اور اس کی بات چیت کو حذف کرنا چاہتی تھی جو اس کے فون پر ریکارڈ کی گئی تھی۔

پولیس نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ جیتو کا کہنا ہے کہ پولیس والے ان پر ان ویڈیوز کو حذف کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس نے ویڈیو کو ڈیلیٹ کیا تو وہ اس کے خلاف کیس ختم کر دیں گے۔ لیکن، پولیس اسے صرف یقین دہانی کر رہی ہے اور اس کے شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ اس معاملے کی جانچ گریٹر نوئیڈا کے اے ڈی سی پی اشوک کمار کو سونپی گئی ہے۔ فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ان کے پاس جو بھی ویڈیو ثبوت ہیں، ان کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس میں جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button