کیا ہوگا جب اینٹی بائیوٹکس ادویات کام نہ کریں-محمد مصطفی علی سروری
تاتینا کی عمر 25 برس تھی۔ تاتینا ایک امریکی خاتون ہیں جس کی شادی 7؍ جون2014 کو ہوئی۔
تاتینا کی عمر 25 برس تھی۔ تاتینا ایک امریکی خاتون ہیں جس کی شادی 7؍ جون2014 کو ہوئی۔ تاتینا بتلاتی ہے کہ یہ اس کی زندگی کا سب سے خوشگوار دن تھا کیوں کہ اسی دن اس کی شادی ہوئی تھی۔ شادی سے پہلے تاتینا اپنے شوہر کے ساتھ سات برس سے تعلقات میں تھی اور اس طویل عرصے کی دوستی کے بعد ہونے والی شادی پر وہ بڑی خوش تھی۔ تاتینا کی شادی کو چند ہفتے بھی نہیں ہوئے تھے کہ تاتینا شمالی کیلی فورنیا کے ایک دواخانے کے آئی سی یو میں شریک تھی۔ جہاں پر اس کو ایک شدید قسم کے بیکٹیریا کے انفکشن کی وجہ سے شریک کروادیا گیا تھا۔
جون 2014ء میں جب تاتینا اپنے شوہر کے ساتھ ہنی مون مناکر واپس لوٹی ہی تھی کہ ایک دن دفتر میں کام کرنے کے دوران وہ بیمار پڑگئی۔ جیسے جیسے دن گذرتا جارہا تھا ویسے ویسے تاتینا کو احساس ہو رہا تھا کہ اس کی طبیعت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ بالآخر تاتینا نے دفتر سے چھٹی لے کر گھر جانے کا فیصلہ کیا اور راستہ میں فارمیسی کی دوکان سے دوائیں خریدی۔ اس کو شک ہو گیا تھا کہ وہ فلو اور سردی سے متاثر ہے۔ لیکن دوائی کھانے کے بعد بھی تاتینا کی طبیعت میں کوئی سدھار نہیں آیا بلکہ طبیعت مزید خراب ہوتی چلی گئی۔
سینے اور پیٹھ میں تکلیف کی شدت بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ وہ اب پیٹھ کے بل لیٹ بھی نہیں پارہی تھی۔
درد کی شدت جب برداشت سے باہر ہوگئی تو تاتینا نے ایمرجنسی میں دواخانے کا رخ کیا جہاں ڈاکٹرس نے شدید قسم کے گلے کے انفیکشن کی تشخیص کی اور اینٹی بائیوٹکس دوائی تجویز کردی۔ لیکن ان ادویات کو استعمال کرنے کے بعد بھی تاتینا کو اپنے درد و تکلیف سے کوئی راحت نہیں ملی۔
تاتینا نے اپنی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر دوبارہ دواخانے کا رخ کیا جہاں پر اس کو 103 بخار کے ساتھ پھر سے آئی سی یو میں شریک کرلیا گیا۔ اس خاتون کو سینے میں تکلیف کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں بھی دقت محسوس ہو رہی تھی۔ تھوک کے ساتھ خون آرہا تھا اور اسے لگنے لگا اس کے پھیپھڑے سانس نہیں لے پارہے ہیں۔ دواخانے میں خون کے معائنہ کیے گئے۔ کئی ڈاکٹرس نے معائنہ کرنے کے بعد بتلایا کہ تاتینا کو (Staph) انفیکشن ہوا تھا۔ اس کو Methicillin Resistant Staphylococcus Aurens (MRSA) نامی انفکشن کہا جاتا ہے جس کا علاج مشکل ہے۔
MRSA ایسا بیکٹیریل وائرس ہے جو عام طور پر انسان کو بیمار کردیتا ہے لیکن تشویش کی بات تو یہ تھی اس وائرس کے علاج کے لیے دی جانے والی Methicillin نامی اینٹی بائیوٹک دوا اب کام نہیں کر رہی تھی جس کی وجہ سے کئی طرح کی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں جس میں جلد کا انفکشن، نمونیا اور خون میں بھی انفکشن ہونا شامل ہے۔
کیلی فورنیا کے دواخانے میں اس امریکی خاتون کو ڈاکٹرس کی نگرانی میں رکھا گیا تھا اور بقیہ سبھی مریضوں سے الگ کردیا گیا تھا۔ تاتینا کو 9 برس بعد آج بھی وہ وقت یاد کر کے جسم میں تھرتھری طاری ہوجاتی ہے اور جب بھی سردی ہوتی ہے وہ صرف سونچ کر ہی پریشان ہوجاتی ہے کہ اگر اینٹی بائیوٹک واقعی کام کرنا بند کردیں تو اس کے جیسے مریضوں کا بچنا مشکل ہوجائے گا جن کے جسموں میں اینٹی بائیوٹک سے مزاحمت پیدا ہوگئی ہے۔
تاتینا کو امید ہے اس کی اس تکلیف دہ کہانی سے دنیا بھر کے لوگوں میں بڑھتی ہوئی اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے متعلق آگاہی میں اضافہ ہوگا۔ وہ کہتی ہے کہ بہت سارے لوگوں کو آج بھی MRSA کے متعلق نہیں معلوم ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اینٹی بائیوٹک کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کے متعلق بتلایا جائے۔ (بحوالہ۔ idsociety.org)
قارئین کرام تاتینا نام کی امریکی خاتون کے مندرجہ بالا واقعہ سے جو سب سے اہم سبق سیکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ عوام اینٹی بائیوٹک کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کے متعلق آگاہ ہوجائیں اور مستقبل کے کسی بھی طبی ہنگامی حالات میں اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
جی ہاں آگے بڑھنے سے پہلے یہ جان لیجئے یہ اینٹی بائیوٹک ادویات ہیں کیا؟
’’اینٹی بائیوٹک ادویات کا ایک گروپ ہے جو بیکٹیریا سے ہونے والے انفکشن کے علاج کے لیے دی جاتی ہیں۔ اینٹی بائیوٹک کی بہت ساری اقسام ہیں۔
پینی سیلین (Penicillin): پہلی اینٹی بائیوٹک دوائی ہے جس کو 1928ء میں دریافت کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اس دوائی کا بڑے پیمانے پر استعمال شروع کیا گیا۔ سال 1942 میں (Meningitis) گردن توڑ بخار کے علاج کے لیے بھی اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال کا سلسلہ شروع ہوا۔ جلد ہی ڈاکٹرس نے یہ بات نوٹ کی کہ Staphylococcus پیپ کا موجب جرثومے کے علاج میں پینی سیلین کام نہیں کر رہی ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹرس نے مزید دو بیکٹیریا کی نشاندہی کی جن کے خلاف اینٹی بائیوٹکس نے کام کرنا بند کردیا۔ کیونکہ اس بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹک سے مزاحمت کی صلاحیت پیدا ہوگئی تھی۔
اس کالم کے ابتداء میں جس امریکی خاتون تاتینا Tatiana Chiprez Vargas کا ذکر کیا گیا وہ خوش قسمت رہی کہ ڈاکٹر اُن کا علاج کرسکے لیکن دنیا میں بہت سارے لوگ اس طرح سے خوش قسمت نہیں ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق عالمی سطح پر صحت کو درپیش ایک بڑا چیالنج اینٹی بائیوٹک مزاحمت ہے۔ Antibiotic Resistance عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی عمر میں کسی بھی فرد کو ہوسکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اگرچہ اس بات کو تسلیم کر رہا کہ اینٹی بائیوٹک مزاحمت اگرچہ وقت کے ساتھ قدرتی طور پر ہو رہی ہے لیکن انسانوں کی جانب سے اینٹی بائیوٹک ادویات کا غلط استعمال اور استحصال اس مزاحمت کو تیز رفتار بنانے کا بڑا سبب بن رہا ہے۔
اینٹی بائیوٹک مزاحمت کیا ہے: قارئین اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے مراد ان دوائیوں کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت ہے جو ان ادویات کو بے اثر بنادیتی ہے۔ ڈاکٹرس مریضوں میں بیکٹیریا سے ہونے والے انفکشن کو ختم کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹک ادویات تجویز کرتے ہیں لیکن طویل مدت میں کی جانے والی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا مسلسل اور غیر ضروری استعمال اس دوائی کو بے اثر کرنے کا اہم سبب بن رہا ہے۔ لوگ جتنی مرتبہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا غیر ضروری استعمال کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ لوگوں میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
جیسے MRSA نامی بیکٹیریا جس کو Super Bug بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا بیکٹیریا جو انسانی جسم میں پیپ تیار کرنے (انفکشن)کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس طرح کے انفکشن والے مریضوں کا علاج کرنا ڈاکٹرس کے لیے مشکل بنتا جارہا ہے۔ امریکی ادارے cdc.gov کے مطابق صرف سال 2019ء کے دوران دنیا بھر میں (1.29) ملین افراد اینٹی بائیوٹکس سے پیدا ہونے والی مزاحمت کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ (بحوالہ thelancet.com۔ 19؍ جنوری 2022)
قارئین کرام جس امریکی خاتون تاتینا کا کالم کے آغاز میں ذکر کیا گیا وہ ایسی ہی ایک خاتون تھی جن کو اینٹی بائیوٹک کی ادویات کام نہیں کر رہی تھیں جس کے نتیجے میں ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کو کنٹرول کرنے یا اس کی رفتار کو سست کرنے کے لیے دنیا کے سبھی ممالک اور افراد کو ذمہ دارانہ رول ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی فارمیسی/ میڈیکل شاپ سے اپنے طور پر خریدکر اینٹی بائیوٹکس ادویات ہرگز استعمال نہ کریں۔ دوم ڈاکٹر جب کسی مریض کو اینٹی بائیوٹکس کورس تجویز کرے تب مریض اپنا کورس مکمل کرے اور صحت اچھی بھی محسوس کرے تو دوائی کا پورا پتہ (جتنا ڈاکٹر نے تجویز کیا ہے) استعمال کریں۔ درمیان میں نہ تو کورس چھوڑیں اور نہ ہی اپنی دوا کسی دوسرے کو استعمال کرنے کے لیے دیں۔
ڈاکٹرس کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او سفارش کرتا ہے وہ انفکشن جس کا پہلے آسانی سے علاج کیا جاتا تھا جیسے نمونیا، تپ دق اب ان کا علاج مشکل ہوتا جارہا ہے کیونکہ ان بیماریوں کے انفکشن سے لڑنے کے لیے اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کر رہے ہیں۔
قارئین برطانوی سرکاری ادارہ برائے صحت کے مطابق اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے انفکشن کا علاج کرنا زیادہ مشکل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے بیماری، موت اور طویل عرصے تک دواخانوں میں قیام کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔
ہڈیوں، دل اور آنتوں کی سرجری اور کیمو تھراپی جیسے علاج کے دوران بھی اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر کسی مریض کو علاج کے دوران اینٹی بائیوٹکس دیئے جائیں اور وہ کام نہ کرے تو مریض کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ڈاکٹرس اور سائنسداں اس حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں لیکن عام آدمی کیا کرے۔ اس حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ عوام بھی تعاون کرسکتے ہیں ۔ وہ ایسے کہ
.1 وائرس کی وجہ سے ہونے والے انفکشن کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس خود نہ استعمال کریں۔ نہ ڈاکٹرس سے درخواست کریں۔ وائرل انفیکشن سے انسانی جسم خود ہی لڑسکتا ہے۔ وائرل انفیکشن میں نزلہ زکام، کھانسی، گلے کی خراش اور کان کا درد شامل ہے۔
.2 ڈاکٹرس نے اگر کسی کو اینٹی بائیوٹکس تجویز کی ہوں تو وہ اپنا کورس اور دوا پوری کریں۔
.3 اپنے حلقہ احباب اور خاندان میں سب کو اینٹی بائیوٹک کے غلط استعمال کے متعلق آگاہ کریں۔
قارئین ہمارے ملک ہندوستان میں میڈیکل شاپ کے کائونٹر سے بغیر ڈاکٹرس کے نسخے کے دوائی لینے کی عام روایت ہے۔ اسی پس منظر میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا غلط استعمال کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں ڈبلیو ایچ او سے لے کر UNICEF جیسے سبھی ادارے عوامی شعور بیداری کے لیے کام کر رہے ہیں۔
صحافیوں کے لیے تربیتی پروگرام سے لے کر جامعات کے لیے نصاب میں صحافت برائے صحت کی سفارش اسی کی کڑی ہے۔ مقصد صحت کے متعلق اولاً صحافیوں کو حساس بنایا جائے۔ دوم صحافیوں کے ذریعہ عوام میں شعور بیداری کی جائے تاکہ صحت کے میدان میں درپیش چیالنجس کا بہتر طور پر سامنا کیا جاسکے۔
مزید تفصیلات کے لیے عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کی ویب سائٹ سے بھی رجوع ہوا جاسکتا ہے۔




