
یوپی :پرینکا گاندھی کا وزیر اعظم پر نشانہ کہا 16000 کروڑ کے دو جہاز خریدے لیکن کسان کو 15000 کروڑ نہیں دے سکتے
یوپی :پرینکا گاندھی کا وزیر اعظم پر نشانہ کہا 16000 کروڑ کے دو جہاز خریدے لیکن کسان کو 15000 کروڑ نہیں دے سکتے

بجنور: (اردودنیا.اِن)کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اترپردیش کے بجنور میں کسان مہاسبھا میں شامل ہوئیں۔ اس دوران انہوں نے اسٹیج سے ہی مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ زرعی قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ قانون کاشتکاروں کے مفادات میں ہے لیکن اگر کسان اسے نہیں چاہتا تو اسے واپس کیوں نہیں لیا جاتا، کیا آپ زبردستی کرنا چاہتے ہیں؟
پھر وہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھ نہیں پائے۔پرینکا گاندھی نے وہاں سوال پوچھتے ہوئے کہاکہ مودی راج میں آمدنی میں دوگنا اضافہ ہوا؟ کیا گنے کی قیمت میں اضافہ کیا گیا؟ ملک کے گنے کے کسانوں کا 15000 کروڑ روپے واجب الادا ہے۔ وزیر اعظم نے 16000 کروڑ روپے کے دو ہوائی جہاز خریدے۔ 20000 کروڑوں مالیت کا نیا پارلیمنٹ ہاؤس بنایا جارہا ہے لیکن اس ملک کے کسانوں کو 15000 کروڑ نہیں دے سکتے ہیں۔
مودی سرکار پر حملہ کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کسان مہاسبھا میں ایک شعر بھی پڑھا،’بھگوان کا سودا کرتا ہے ، انسان کی قیمت کیا جانے،ایک گنے کی قیمت دے نہ سکا،جان کی قیمت کیاجانے ۔زرعی قوانین کی خامیوں کو شمارکراتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلے قانون نے جمع خوری کی اجازت دی۔ صنعتکار کوئی بھی سامان خرید سکتے ہیں اور جمع کراسکتے ہیں۔
دوسرا قانون: کھربوں کی بڑی مینڈیاں کھلیں گی۔ نجی مارکیٹ میں ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ کسانوں کو سرکاری منڈی ایم ایس پی ملتاتھا،بعدمیں وہ بھی بندہوجائے گا۔ تیسرا قانون کھرب پتیوں کے کہنے پر معاہدے پر کسان کھیتی کریں گے، بعد میں وہ کہیں گے کہ ضرورت نہیں ہے، پھرمن مانی خریدیں گے اور کسان عدالت میں بھی نہیں جاسکیں گے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ پورے ملک کو امیر دوستوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اگر اب بھی امید ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ کچھ نہیں کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ، چین، پاکستان جاسکتے ہیں، دنیا بھر کے ممالک جا سکتے ہیں لیکن گھر سے 2-3 کلومیٹر دور کسانوں سے ملنے نہیں گئے۔ پارلیمنٹ میں کسانوں کا مذاق اڑایا۔ آندولن جیوی اور پرجیوی کہا۔ 215 کسان شہید ہوگئے، اس میں ایک 25 سالہ لڑکا مر گیا، اہل خانہ کو لگتا ہے کہ اسے گولی مار ی گئی ہے۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ 80 دن سے کسان اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہریانہ کے وزیر زراعت کا کہنا ہے کہ وہ گھر میں بھی مرجاتے، میں شہید کے اہل خانہ کی بیٹی ہوں، کوئی بھی اس کا مذاق نہیں اڑا سکتا، چاہے وہ وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہو۔ جوکسان آپ کی دہلیز پر ہیں ان کا بیٹا سرحدپر اس ملک کی حفاظت کررہا ہے۔اس قانون کو واپس لیں، اقتدار دینے والوں کا احترام کریں۔



