سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

حضرت مولانا جلال الدین رومی ؒ-مفتی محمد سلیم مصباحی قنوج

آپ کا نام محمد، لقب جلال الدین ہے جبکہ مولانا روم سے زیادہ مشہور تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی میں بے شمار شخصیات پیدا فرمائیں مگر تاریخ اسلام کی وہ عظیم شخصیات جنہوں نے علم و فضل اور زہدو تقوی میں کمال حاصل کیا اور امت مسلمہ کے لیے مفید عملی اورروحانی خدمات سر انجام دیں صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان کی خدمات یاد رکھی جاتی ہیں اور ان کے علمی نوادارت سے آج بھی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہی شخصیات میں ایک نام مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اﷲ علیہ کا بھی ہے جو ساتویں صدی ہجری کے آغاز میں پیدا ہوئے۔ علوم دینیہ اور تصوف میں نام کمایا۔ تصنیف و تالیف کے ساتھ شغف رہا اور گزشتہ سات صدیوں سے امت مسلمہ آپ کے علمی فیوض سے مستفیض ہو رہی ہے۔

نام و نسب: آپ کا نام محمد، لقب جلال الدین ہے جبکہ مولانا روم سے زیادہ مشہور تھے۔آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے:محمد جلال الدین بن محمد بہاؤ الدین بن محمد بن حسین بلخی بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق۔ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

سلسلہ نسب میں خلیفہ اول سے اتصال: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے۔

ولادت باسعادت:حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 6 ربیع الاول 604ھ مطابق 30 ستمبر 1207ء کو مقام بلخ میں ہوئی۔

تعلیم و تربیت: حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت والد گرامی حضرت مولانا بہاءالدین محمدصدیقی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمائی، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے والد کے ساتھ بغداد آئے یہاں قیام کے دوران فقہ اربعہ کی ترویج و اشاعت کے لئے قائم مدرسہ مستنصريہ میں آپ کی علمی نشو و نما ہوئی۔ (البدایۃ والنھایۃ، الجواھرالمضیہ)

عملی زندگی: حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی جب قونیہ (ترکی) میں مستقل طور پر مقیم ہوگئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بھی یہیں مستقل رہائش اختیار کرلی، والد ماجد کے وصال کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قونیہ کے مدارس میں تدریس فرماتے رہے۔

نکاح و اولاد: حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد بلخ واقع خراسان کے رہنے والے تھے، آپ کی بلخ میں ہی شادی ہوئی۔ آپ کے دو فرزند تھے،علاؤ الدین محمد، سلطان ولد۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے، خلف الرشید تھے، گو آپ کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہو سکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے، جس میں حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر سوانح عمری ہے۔شرف بیعت:حضرت مولانا جلال الدین محمد رومی رحمۃ اللہ القوی حضرت سیدنا شمس الدین محمد تبریزی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے دست اقدس پر بیعت تھے۔(الجواھر المضیہ)

دینی خدمات: حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ نے تدریس اور فتاویٰ کے ذریعے امت کی رہنمائی فرمائی نیز کئی کتب بھی تصنیف فرمائیں جن میں مثنوی شریف کو عالم گیر شہرت حاصل ہے اس عظیم الشان کتاب سے استفادہ انسان کو بااخلاق بننے، نیکیاں کرنے اور شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچنے میں بے حد معاون و مددگار ہے۔

آخری وصیت: حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ نے آخری وصیت یہ فرمائی:میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ پاک سے ظاہر و باطن میں ڈرتے رہو،کھانا تھوڑا کھاؤ،کم سو، گفتگو کم کرو، گناہ چھوڑ دو، ہمیشہ روزے سے رہو، رات کا قیام کرو، خواہشات کو چھوڑ دو،لوگوں کا ظلم برداشت کرو، کمینوں اور عام لوگوں کی مجلس ترک کر دو، نیک بختوں اور بزرگوں کی صحبت میں رہو بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے ۔بہتر کلام وہ ہے کہ جو تھوڑا اور بامعنی ہو۔(نفحات الانس)

وصال و مدفن: حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 5 جمادى الاخریٰ 672ھ مطابق 17 ستمبر 1273 کو ہوا۔ آپ کا مزار مبارک ترکی کے شہر قونیہ میں مرجع خلائق ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button