عالمی ادارہ صحت نے ہند ساختہ 7 کھانسی کے سیرپ پر لگائی پابندی
وزیر صحت منڈاویہ نے کہا، جعلی ادویات کسی بھی صورت قابلِ تسلیم نہیں
نئی دہلی، 20جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) عالمی ادارہ صحت نے افریقی ملک گیمبیا سمیت دنیا بھر میں 300 افراد کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہندوستان کی 7 کھانسی کے شربت (کھانسی کا سیرپ) بنانے والی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ دوسری طرف، اس معاملے پر مرکزی وزیر صحت من سکھ منڈاویہ نے کہا ہے کہ جعلی دوائیوں پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے خطرے پر مبنی ایک جامع تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان ادویات کے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت چوکس رہتے ہیں کہ جعلی ادویات کی وجہ سے کسی کی موت نہ ہو۔دوسری جانب ڈبلیو ایچ او نے گیمبیا میں 66 بچوں کی موت کا ذمہ دار کھانسی کے ان شربتوں کو قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی ایجنسی سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق کمپنی اور ریگولیٹری حکام ان کمپنیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔معلومات کے مطابق، ڈبلیو ایچ او ہندوستان اور انڈونیشیا میں کھانسی کے شربت اور وٹامنز بنانے والی 20 کمپنیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ایجنسی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان کی دوائیوں کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ ان میں ڈائیتھیلین گلائکول اور ایتھیلین گلائکول کی ناقابل قبول مقدار موجود ہے۔ اسی وقت ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گھبریسس نے بتایا کہ چار کھانسی کے آلودہ شربت پائے جانے کی وجہ سے گیمبیا میں ان کے خلاف الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ان ادویات کی وجہ سے گیمبیا میں 66 بچے گردے فیل ہونے سے انتقال کر گئے تھے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران دنیا کے کئی ممالک میں کھانسی کے آلودہ شربت سے 300 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ کھانسی کے شربت کے علاوہ ڈبلیو ایچ او نے وٹامن بنانے والی کمپنیوں کو بھی جانچ پڑتال کے دائرے میں رکھا ہے۔
کھانسی کے اس زہریلے شربت کی فروخت کے حوالے سے اب تک 9 ممالک میں الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔خیال رہے کہ وسطی افریقی ملک کیمرون میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک درجن سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گیمبیا میں 66 بچوں کی موت کے بعد ڈرگ کنٹرولر آف انڈیا نے نوئیڈا کی ماریون بائیوٹیک، ہریانہ کے کرنال کی میڈن فارماسیوٹیکل، پنجاب کی کیو پی فارما کیم اور چنئی کی گلوبل فارما کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی تھی۔



