سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

محتاط رہیں-گرمیوں میں بیمار ہونے سے بچیں

درجہ حرارت میں اضافے سے انسان معمولی بیماری سے لے کر جان لیوا امراض تک کا شکار ہو سکتا ہے

درجہ حرارت میں اضافے سے انسان معمولی بیماری سے لے کر جان لیوا امراض تک کا شکار ہو سکتا ہے۔جس طرح سے ایک عمارت اینٹوں سے بنتی ہے اسی طرح انسانی جسم اربوں کھربوں چھوٹے چھوٹے خلیوں سے بنا ہے۔ بھر جیسے ایک عظیم عمارت میں ہوا، پانی، نکاسی، بجلی، کمپیوٹر اور دوسرے بہت سے نظام کام کرتے ہیں بالکل ویسے ہی انسانی جسم میں مختلف پیچیدہ، موثر اور باکفایت نظام کام کر رہے ہوتے ہیں۔
وہ لوگ جو گھر سے باہر کام کرتے ہیں زیادہ گرمی کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی اور اس کے نتیجے میں موت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ گرم موسم میں ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض سے بچنے کے لیے بھی تدابیر کرنی چاہئیں کیونکہ گرمیوں میں لوگ گرمی سے بچنے کے لیے چھوٹے کپڑے پہنتے ہیں اور یوں مختلف کیڑے مکوڑے آسانی سے انھیں کاٹ لیتے ہیں۔

گرمی کے مارے لوگ گرمی سے بچنے کے لئے گھر سے باہر مشروبات، گولا گنڈا، فالودا اور سخت پیاس سے پریشان ہو کر کسی بھی جگہ کا پانی استعمال کر لیتے ہیں اور یوں گندے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

گرمیوں میں بیماریوں سے بچنے کے لیے موسم کے اعتبار سے صاف پانی کا زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے، اور ضروری ہے کہ باہر کی برف استعمال نہ کی جائے، ممکن ہو تو دن میں چھاؤں میں رہا جائے، کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے اقدامات کئے جائیں اور مختلف بیماریوں سے بچنے کے لئے حفاظتی ٹیکوں یا دوسری ویکسین کا استعمال کیا جائے۔

اعداد و شمار کے مطابق گرمیوں میں اسہال دنیا میں ہر سال اربوں انسانوں کو متاثر کرتا ہے اور لاکھوں جانوں کے زیاں کا سبب بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرمی میں جب انسانی جسم میں پانی کی مقدار تیزی سے کم ہوتی ہے تو وہ پیاس سے مجبور ہو کر کہیں بھی کچھ بھی پی لیتا ہے۔

کسی بھی ٹھیلے یا دکان سے پیا ہوا گندا اور جراثیم آلود مشروب انسان کو شدید بیمار کرسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے موت کے منہ میں بھی لے جاسکتا ہے۔ اسی لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں صاف، جراثیم اور دیگر آلودگی سے پاک پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ اور اس مقصد کے لئے گھر میں اور گھر سے باہر چھنا ہوا پانی ابال کے استعمال کیا جائے چاہے وہ پانی پینے کے لئے ہو یا کھانا پکانے کے لئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button