گرمی اور لُو سے بچاؤ-ڈاکٹر امۃ البریرہ فہمیدہ سفیان دہلی
ہر سال ہِیٹ اسٹروک یا لُو لگنے سے متاثرہ بہت سے افراد کو اسپتال لے جایا جاتا ہے اور ان میں سے بعض تو مر بھی جاتے ہیں۔
ہر سال ہِیٹ اسٹروک یا لُو لگنے سے متاثرہ بہت سے افراد کو اسپتال لے جایا جاتا ہے اور ان میں سے بعض تو مر بھی جاتے ہیں۔ چنانچہ گرمی یا لُو لگ جانے کو ایک ’آفت‘ کہا جا سکتا ہے۔ لُو سے متاثر ہوجانے کی کچھ اہم علامات، چکر آنا، سر میں ہلکا پن محسوس ہونا اور ٹانگوں میں اکڑن ہونا ہیں۔ مسلسل بہنے والا پسینہ، سر درد، متلی اور شدید تھکاوٹ بھی لُو لگ جانے سے وابستہ علامات ہیں۔ تاہم لوگوں کی صحت کی حالت مختلف ہو سکتی ہے اور کچھ لوگ کھڑے ہونے میں مشکل، سانس رکنے، ہاتھ پاؤں سُن ہو جانے، دل کی تیز دھڑکن، پٹھوں میں درد اور اسہال کی شکایت بھی کرتے ہیں۔
پانی کی کمی نہ ہونے دیں
گرم، مرطوب دنوں میں پیاس لگنے سے پہلے مشروبات اور سوڈیم (نمکیات) کا بکثرت استعمال یقینی بنائیے۔
دھوپ کو آنے سے روکیں
گھر میں موجودگی کے دوران دروازوں یا کھڑکیوں پر لگائے جانے والے پردوں، پٹی دار چقوں یا بلائنڈز جیسی اشیا کے ذریعے دھوپ کو براہ راست اندر آنے سے روکیے۔گھر سے باہر ہونے کی صورت میں چھجے دار ٹوپی یا دھوپ سے بچاؤ کی چھتری استعمال کیجیے۔
لُو سے بچنے کا طریقہ
جسمانی صحت کے لیے چہل قدمی جیسی ورزش دن کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات کے دوران کریں تاکہ ضرورت پڑنے پر جسم کے مساموں سے پسینہ بہہ سکے۔
بچوں اور بزرگوں کا خیال ضروری
بچّے ہیٹ اسٹروک کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ جسم کے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے کی ان کی صلاحیت پوری طرح سے تیار نہیں ہوتی۔ ایک اور عنصر یہ ہے کہ ان کا قد بالغوں کی طرح بلند نہیں ہوتا، اس لیے وہ زمین سے منعکس ہونے والی گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی بالغ کے سر کے ارد گرد کا درجۂ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، تو یہ بچے کے قد پر 35 ڈگری ہوگا۔ بچہ چہل قدمی کر رہا ہو تو یہ اور بھی زیادہ ہوگا۔ گرمی کے دنوں میں بچوں کو ٹوپیاں پہننی چاہئیں، اپنے ساتھ ٹھنڈے مشروبات رکھنے چاہئیں، اور زیادہ دیر تک باہر کھیلنے سے گریز کرنا چاہیے۔
معمر افراد لاعلمی میں پانی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ نوجوانوں کی طرح گرمی یا پیاس محسوس نہیں کرتے اور وقت پر مناسب مقدار میں پانی یا کوئی مشروب نہیں پیتے۔ جس کے سبب آہستہ آہستہ انہیں پسینہ آنا بند ہوجائے گا اور وہ اپنے جسم کے درجۂ حرارت سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کھو دیں گے اور انہیں لُو لگ جائے گی۔ معمر افراد حبس زدہ راتوں میں بھی ائیرکنڈیشنر استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں اور زیادہ پانی بھی نہیں پیتے ہیں کیونکہ وہ باتھ روم جانے کی پریشانی سے بچنا چاہتے ہیں۔ بزرگوں کے آس پاس کے لوگوں کے لیے یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ وہ اکیلے رہنے والے بزرگ شہریوں یا ان معمر افراد کا خیال رکھیں جو اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں لیکن دن کے وقت تنہاء ہوتے ہیں۔
گرمی سے بچاؤ
اگر آپ کو اپنی جسمانی قوت پر یقین نہ ہو یا آپ کو پہلے ہی سے کوئی عارضہ لاحق ہو تو بہتر ہے کہ گرمی برداشت کرنے کے بجائے گرمی سے بچنے کی کوشش کریں۔ اُس جگہ پر ایک تھرمامیٹر رکھیں جہاں آپ بہ آسانی اس کا معائنہ کرسکتے ہوں اور موسم کی پیشگوئی پر نظر رکھتے ہوئے کمرے کا درجۂ حرارت اور نمی کا تناسب مناسب رکھیں۔ بہتر ہوگا کہ انتہائی گرم ایام کے دوران باہر جانے سے گریز کریں اور ایئرکنڈیشنر استعمال کرتے ہوئے صبح ہی سے کمرے کے درجۂ حرارت کو 28 ڈگری سیلسیئس یا اس سے کم اور ہوا میں نمی کے تناسب کو 70 فیصد یا اس سے کم رکھتے ہوئے اپنی رہنے کی جگہ کو آرام دہ بنائیں۔ اگر آپ ایئرکنڈیشنر کو بار بار چلائیں گے یا بند کریں گے تو اس سے بجلی کے خرچ میں اضافہ ہوگا۔
آپ درجۂ حرارت کو نسبتاً بلند اور ہوا کی قوت کے بٹن کو آٹو موڈ پر رکھ کر ایئرکنڈیشنر مسلسل چلاتے ہوئے بجلی کی بچت کر سکتے ہیں۔ ایئرکنڈیشنر سے نکلنے والی ہوا کا رخ دیوار کی جانب یا اُفقی سمت رکھنا بہتر ہوگا تاکہ ہوا براہِ راست آپ کو نہ لگے۔ اگر آپ ہوا کو کمرے میں گردش دینا چاہتے ہیں یا ہوا کا رخ اپنی جانب موڑنا چاہتے ہیں تو ایئرکنڈیشنر کے ساتھ ساتھ ایک پنکھا بھی استعمال کریں۔
درجۂ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے اُوپر ہو تو اچھی نیند لینے کیلئے ایئرکنڈیشنر کو رات بھر کمزور موڈ پر چلتا رہنے دیں۔ ایسا کرنے سے اگلے روز لُو لگنے سے بچاؤ میں مدد ملے گی۔ آپ کو پانی کی معقول مقدار پینے پر بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ ایئر کنڈیشنرز ہوا کو خشک کرتے ہیں۔
غذا اور پانی
گرمی کے باعث لُو لگنے سے بچنے کے لیے دن میں تین بار مناسب کھانا کھانا ضروری ہے۔ یاد رکھیے، مناسب کھانا کھا کر پانی، نمکیات اور غذائیت کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ پیاس نہ لگنے کی صورت میں بھی پانی کثرت سے پینا چاہیے۔ آدھی رات کو ٹوائلٹ جانے کے لیے اٹھنے سے گریز کرنے کی خاطر سونے سے پہلے پانی نہ پینا درست نہیں۔ اس کے برعکس ٹوائلٹ جانے کے لیے اٹھتے وقت ایک پیالی پانی پینا اور صبح اٹھتے وقت ایک اور پیالی پانی پینے کی کوشش کرنی چاہیے۔
عمر رسیدہ افراد کا خیال ضروری
لُو لگنے کے معاملے میں جلد پتہ لگانا اور اس کا جلد علاج کرنا بہت اہم ہے۔ اگر آپ کے معمر اہل خانہ آپ کے ساتھ نہیں رہتے تو ہر روز ان سے متعلق خبر لینے کی کوشش کریں۔ اگر وہ بھوک کم لگنے یا سستی محسوس ہونے کا کہیں تو خاص طور پر احتیاط کریں۔ اگر وہ طبیعت ذرا سی بھی خراب محسوس کر رہے ہوں تو ان کا ڈاکٹر کے پاس جانا یقینی بنائیں۔ فوری طور پر ردعمل بہتر ہے۔ آپ کو اپنے پڑوس میں اکیلے رہنے والے معمر افراد، بزرگ جوڑوں اور اپنے بچے کے ساتھ رہنے والی معمر ماں یا باپ کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
اہم علامات پر فوری طبی امداد
آپ اپنے گھر کے کسی فرد یا ہمسائے کو لُو لگنے کی صورت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کر سکتے ہیں۔ بیہوشی طاری ہونے جیسی سنگین علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ایمبولینس بلانے اور متاثرہ شخص کو جلد از جلد ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کرنا بہتر ہے۔
ہنگامی طبی امداد کے لیے مندرجہ ذیل نکات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ =مریض کو کسی ٹھنڈے کمرے یا سایہ دار جگہ پر لٹا دیجیے۔
مریض کے پیروں کو باقی جسم کی نسبت اونچا رکھیے۔ موزے اتار دیجیے اور اس کے کپڑے ڈھیلے کر دیجیے۔
پنکھا جھلتے ہوئے اور برف بھری تھیلیاں یا گیلا تولیا جسم پر رکھتے ہوئے مریض کا درجۂ حرارت کم کیجیے۔ آپ، گردن کے عقبی حصے، بغلوں یا جانگھ یعنی پیٹ کے قریب دونوں ٹانگوں کے مقامِ اتصال کے درمیان جیسے مقامات پر برف بھری تھیلیاں لگاتے ہوئے مریض کو مؤثر طور پر ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں، جہاں رگیں جسم کی سطح کے نسبتاً قریب سے گزرتی ہیں۔
مریض کو نمک ملا پانی تھوڑا تھوڑا پینے کو دیجیے۔ مریض کو اس کی سہولت کے مطابق پانی پینے دیجیے۔ زبردستی نہ کیجیے۔ سانس کی نالی میں پانی جانے کی صورت میں مریض کو نمونیا ہو سکتا ہے۔
تکلیف کی شدت کم نہ ہونے کی صورت میں مریض کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیے۔



