فوائد سے بھرپور رسیلہ پھل: آم -ڈاکٹر قرۃ العین فاطمہ عثمان دہلی
آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم کھانے سے بے شمار طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔
آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور یہ پھل بہت سارے ملکوں کی طرح ہندوستان میں بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ آم کھانے سے بے شمار طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ آم کی کئی اقسام بھی پائی جاتی ہیں جیسا کہ لنگڑا، رسولی، بیگن پھلی، چونسا، سندڑی اور انور رٹول وغیرہ مختلف اقسام کے لحاظ سے مشہور ہیں جن میں سے ہر قسم یکساں طور پر پسند کی جاتی ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق آم میں 20 سے زائد وٹامنز، منرلز اور معدنیاتی اجزا پائے جاتے ہیں۔ طبی لحاظ سے آم میں بے شمار خصوصیات پائی جاتی ہیں، آم ایک ایسا پھل ہے جو کولن کینسر، ذیابطیس اور اس کے ساتھ دل کی بیماریوں جیسے خطرناک امراض سے حفاظت میں مدد کرتا ہے۔
جلد کیلئے
جلد کی شفافیت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ اپنی جلد اور اپنے جسم کا کتنا خیال رکھتے ہیں، اس بات کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی آپ کھاتے ہیں اس چیز کا براہ راست اثر آپ کی شخصیت پر ہوتا ہے یعنی جو کچھ بھی آپ دوسروں کو نظر آتے ہیں وہ اس بات کا غماز ہے کہ آپ کس قدر صحت بخش غذا کھاتے ہیں۔آم آپ کے جسم کو اندر سے صاف کر کے جسم کو اندر سے مضبوط کرتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف آپ کی رنگت میں نکھار آتا ہے بلکہ آپ خود کو چاق و چوبند اور تندرست و توانا محسوس کرتے ہیں۔مزید یہ کہ آم آپ کی جلد کے مساموں کی صفائی اور آپ کی جلد کو شاداب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آم چہرے پر نکلے دانوں کو ٹھیک کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کا معدہ صاف ہونے لگتا ہے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر بھی نظر آتا ہے جس سے کیل مہاسے، دانے اور چھائیاں وغیرہ دور ہونے لگتی ہیں اور چہرہ شاداب اور مزید نکھرنے لگتا ہے۔
موٹاپے کیلئے
سب جانتے ہیں کہ آم میں بہت سے غذائی اجزا اور معدنیات کا مرکب پوشیدہ ہے۔ اسی وجہ سے آم کھانے کے بعد آپ کو اپنا پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے اور طبیعت بھی خوشگوار ہوجاتی ہے، جس کے بعد آپ کو کسی بھی قسم کا اسنیکس لینے کی کوئی خاص ضرورت پیش نہیں ہوتی۔
اس کے ساتھ آم میں فائبر کی اعلیٰ قسم کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے جو ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے جو جسم میں موجود غیر ضروری چربی کو ختم کرتا ہے۔ پھلوں کو وزن کم کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں آم کا پھل بھی ہے، آم کو دہی اور چھلکے کے ساتھ سے بڑھتے ہوئے وزن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
لو سے حفاظت کیلئے
آم اور موسم گرما کا گویا چولی دامن کا ساتھ سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک سے زائد وجوہات کی بنا پر آم کھاتے ہی آپ کے جسم کا اندرونی نظام اچھا خاصا سرد ہو جاتا ہے جو آپ کو گرمی کی شدت اور لو لگنے سے محفوظ رکھتا ہے جس کی وجہ سے ہیٹ اسٹروک کا امکان انتہائی حد تک کم ہو جاتا ہے۔اس بات کو یقینی بنائیں کہ جیسے ہی گرمیوں کے موسم کا آغاز ہو، آپ کو دن میں ایک یا دو آم ضرور کھانے چاہئے۔
کینسر کیلئے آموں میں کوئیرسیٹن، آیسو کوئرسیٹن، اسٹر لگن، فیسٹن گالک ایسڈ میتھائل گلٹ جیسے کیمیل پائے جاتے ہیں جو چھاتی کے کینسر سمیت ہر طرح کے کینسر کے مریض کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق آم میں اینٹی آکسیڈینٹس شامل ہوتے ہیں جو آنتوں اور خون کے کینسر کے خطروں کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گلے کے غدود کے کینسر کے خلاف بھی یہ مؤثر کردار سر انجام دیتا ہے۔ آم کو قولون یا بڑی آنت کے سرطان کے خلاف ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
بینائی کیلئے
آم میں اینٹی آکسیڈینٹ پایا جاتا ہے جو بینائی کے دھندلے پن کو ختم کر کے بینائی کی کارکردگی بہتر بناتا ہے، آنکھوں کے نیچے حلقے اور اس کے ساتھ ہی جلد پر ظاہر ہونے والے داغ اور دھبوں کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔آم کو دودھ میں ڈال کر پینے سے بینائی بہتر ہونے لگتی ہے۔ جو لوگ بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں انہیں چاہیے کہ آم اور دودھ کا ملک شیک بنا کر اسے پیا کریں اس کے استعمال سے نہ صرف ان کی بینائی ٹھیک ہو جائے گی بلکہ دماغ بھی کافی صحت مند ہوجائے گا۔
ہڈیوں کیلئے
انسانی جسم میں ہڈیوں کی کمزوری وٹامن کے اور کیلشیم کی کمی ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہڈی کے فریکچر کا خدشہ زیادہ بڑھ جاتا ہے جبکہ وٹامن کے پھلوں اور ہری سبزیوں میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔آم کے پھل میں وٹامن کے وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو ہماری ہڈیوں کو مضبوط کرنے میں نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے اور ان میں کیلشیم کی بھی پوری مقدار پہنچانے میں مددگار ہے۔
قوت مدافعت کیلئے
آم کو اپنی خوراک میں استعمال کرنے سے حیرت انگیز فائدوں کا سبب بنتا ہے۔آم کو اپنی خوراک میں شامل کرنے سے آپ کا مدافعتی نظام مضبوط ہونے لگتا ہے کیوں کہ آم میں بیٹا کیروٹین کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جو کہ انسانی مدافعتی نظام کو بہترین بنانے میں بے حد ضروری ہے۔ کمزور افراد کے لیے آم ایک قدرتی تحفہ ہے۔
کولیسٹرول کیلئے
آم میں بے تحاشا قدرتی اجزا پائے جاتے ہیں خاص طور پر اس میں وٹامن سی، فایبر اور پیکٹین کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ آم ایک ایسا پھل ہے جو کہ جسم میں بڑھتے ہوئے کولیسٹرول کی کمی کو پورا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خون کی کمی کیلئے
آم میں آئرن کی کافی مقدار شامل ہوتی ہے جو انیمیا کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے ایک زبردست علاج ہے۔ ہر روز ایک آم کا استعمال جسم میں سرخ خون کے سیل کی مقدار بڑھاتا ہے جو انیمیا کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ آم میں مٹھاس بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے بارے میں یہ خدشات تھے کہ آم کی مٹھاس ذیابطیس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے لیکن ایک جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آم کا مناسب استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔
دمے کیلئے
آم کے گودے میں بیٹا کیروٹین موجود ہوتا ہے جو کہ دمہ جیسی بیماری کی نشونما کو روکنے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ غذائیت بروکلی، خوبانی، کدو اور دیگر پھل اور سبزیوں میں بھی ہوتی ہے۔
قبض کیلئے
ہم اپنے ہاضمے کے سسٹم پر بہت کم توجہ دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آم زیادہ تر دوسرے پھلوں کی طرح پانی اور ریشہ سے مالا مال ہے اور یہ دونوں اجزا قبض کو روکنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے کیلئے آم ایک بہترین غذا ہے جبکہ آم بھوک کو بھی بڑھاتا ہے۔ آم میں موجود ریشے جنہیں فائبر بھی کہتے ہیں آنتوں کی صفائی اور ورم کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔



