راہل گاندھی کو گجرات ہائی کورٹ سے جھٹکا مودی سرنام کیس میں عرضی خارج، سزا برقرار رہے گی
گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ افسوسناک، لیکن یہ غیر متوقع نہیں: ابھشیک منو سنگھوی
احمد آباد ، 7جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)گجرات ہائی کورٹ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی مودی سرنام کیس میں تبصرہ کرنے پر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں سزا پر روک لگانے کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ جسٹس ہیمنت پرچھک کی عدالت نے صبح 11 بجے فیصلہ سنایا۔ اس طرح ان کی سزا برقرار رہے گی۔سورت کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے 23 مارچ کو راہل گاندھی کو تعزیرات ہند (IPC) کی دفعہ 499 اور 500 (مجرمانہ ہتک عزت) کے تحت گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے پرنیش مودی کی طرف سے دائر 2019 کے مقدمے میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے 2 سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد گاندھی کو عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ راہل گاندھی 2019 میں کیرالہ کے وایناڈ سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔
راہل گاندھی گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔ کانگریس ذرائع کے مطابق گجرات ہائی کورٹ کے حکم پر سینئر وکلاء سے بات چیت کی جا رہی ہے۔جسٹس پرچھک نے مئی میں راہل گاندھی کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد حتمی حکم جاری کریں گے۔ راہل گاندھی کے وکیل نے 29 اپریل کو گجرات ہائی کورٹ میں ایک سماعت کے دوران دلیل دی کہ قابل ضمانت اور ناقابل سماعت جرم کے لیے زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا کا مطلب ہے کہ ان کا مؤکل لوک سبھا کی نشست کھو سکتا ہے۔
سورت کی میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے 23 مارچ کو راہل گاندھی کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے پرنیش مودی کی طرف سے گجرات میں دائر 2019 کے ایک مقدمے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 499 اور 500 (مجرمانہ ہتک عزت) کے تحت مجرم ٹھہراتے ہوئے دو سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد گاندھی کو عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ راہل گاندھی 2019 میں کیرالہ کے وایناڈ سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔
گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ افسوسناک، لیکن یہ غیر متوقع نہیں: ابھشیک منو سنگھوی
نئی دہلی ، 7جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کانگریس کے سینئر لیڈر ابھشیک منو سنگھوی نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ راہل گاندھی معاملہ پر گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ مایوس کن ضرور ہے، لیکن یہ غیر متوقع نہیں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اس فیصلہ کا انتظار ہم 66 دنوں سے کر رہے تھے۔ یہ اپیل 25 اپریل کو فائل کی گئی تھی۔ یہ سوال کیا گیا تھا کہ جو عرضی دہندہ اور شکایت کرنے والا ہے،وہ خود کیسے ہتک عزتی کا شکار ہوا۔ اس کا آج تک جواب نہیں ملا۔ابھشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ ہتک عزتی قانون کا پوری طرح غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود راہل گاندھی ڈرنے والے نہیں ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان پر (راہل گاندھی پر) کتنا بھی حملہ ہو، جیل کے نام سے کتنا بھی ڈرایا جائے، مجھے نہیں لگتا کہ راہل اس سے خوفزدہ ہونے والے ہیں۔
راہل گاندھی سچائی پر بے خوف ہو کر چلنے والے مسافر ہیں۔ وہ بی جے پی کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتے رہیں گے۔ جھوٹ کا پردہ فاش ہونے کی وجہ سے ہی حکومت گھبرائی رہتی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابھشیک منو سنگھوی یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت نوٹ بندی، چین معاملہ، موجودہ معاشی حالت جیسے ایشوز پر بات نہیں کرتی اور لوگوں کا دھیان ان ایشوز سے ہٹانے کے لیے غیر ضروری چیزوں پر بات کرتی ہے۔ لیکن مجھے عدلیہ پر یقین ہے، وہ سچ کا ہی ساتھ دے گی۔‘‘ اس دوران ابھشیک منو سنگھوی نے یہ بھی واضح کیا کہ ’مودی‘ کنیت معاملے میں راہل گاندھی کو جو سزا سنائی گئی ہے، اس کے خلاف اب سپریم کورٹ کا رخ کیا جائے گا۔



