ہماچل پردیش میں پانی ہی پانی: گزشتہ 24 گھنٹے میں 15 ہلاک، بارش نے توڑا نصف صدی کا ریکارڈ
ہماچل پردیش میں گذشتہ تین دنوں سے مانسون کا بھیانک روپ دیکھنے کو مل رہا ہے، ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا
شملہ، 10جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہماچل پردیش میں گذشتہ تین دنوں سے مانسون کا بھیانک روپ دیکھنے کو مل رہا ہے، ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ حالات بے قابو ہو چکے ہیں۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے آبی ذخائرپر ہوگئے ہیں۔ ہماچل میں موسلادھار بارش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ پیر کی دوپہر تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چھ اضلاع میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ بارش کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس دوران لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے چھ قومی شاہراہوں سمیت 828 سڑکیں بند ہیں۔ اسی طرح 4686 پاور ٹرانسفارمر اور 785 واٹر اسکیمیں بند ہیں۔ منالی، سولن اور روہڑو میں بارش نے گذشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔درحقیقت ہماچل پردیش میں مسلسل تیسرے دن بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ موسلا دھار بارش کی وجہ سے ریاست میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بارش کے پیش نظر حکومت نے تمام تعلیمی اداروں میں پیر اور منگل (10 اور 11 جولائی) کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہماچل ہائی کورٹ اور تمام ضلعی عدالتوں میں بھی پیر کو چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔
موسمیاتی مرکز شملہ کے سائنسدان سریندر پال نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے میں بھی شدید بارش کا امکان ہے۔ چھ اضلاع چمبہ، کلو، شملہ، سرمور، سولن اور منڈی میں سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ جولائی کے مہینے میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران منالی، سولن اور روہڑو میں ہونے والی بارش نے گذشتہ 50 سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔شملہ ضلع میں کل 9 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ کوٹ گڑھ، ٹھیوگ اور نیوز شملہ میں 24 گھنٹے میں 4 لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔ یہتمام لینڈ سلائیڈنگ مکانات پر ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے کوگڑھ کے ٹھیوگ میں والدین، بیٹا اور پانچ افراد اور نیوز شملہ میں ایک لڑکی کی موت ہو گئی۔ کلّو کے نرمنڈ میں ایک کار حادثے میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی۔ چمبہ اور کلّو میں بھی خواتین اور مردوں کی موت ہوئی ہے۔ منڈی اور کلو میں تباہی ہوئی ہے۔ چنڈی گڑھ منالی نیشنل ہائی وے بند ہے۔ لیہہ منالی، شملہ ہاٹ کوٹی روہڑو سمیت چھ شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے۔



