دل کی بند شریانیں اور انجیوگرافی یا ہارٹ سی ٹی اسکین
سی ٹی اسکین کی مشین جسم کے مختلف حصوں میں جھانکنے کیلئے ایکسریز استعمال کرتی ہے
سی ٹی اسکین کی مشین جسم کے مختلف حصوں میں جھانکنے کیلئے ایکسریز استعمال کرتی ہے۔ یہ اسکیننگ مشینیں تابکاری کی محفوظ مقدار استعمال کر کے اندرونی اعضا کی تفصیلی تصاویر پیش کرتی ہیں جنہیں دیکھ کر ڈا کٹرا گر کوئی مسئلہ در پیش ہو تو ان کا سراغ لگا سکتا ہے۔ دل کے یا کارڈیک سی ٹی اسکین کے ذریعہ دل اور خون کی نالیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔اس ٹیسٹ کے دوران ایک مخصوص رنگ دار مادہ یا ڈائی مریض کے دوران خون میں انجیکٹ کیا جاتا ہے اور پھر ایک خاص کیمرے کی مدد سے اس ’’ڈائی‘‘ کو دیکھا جاتا ہے۔ ہارٹ سی ٹی اسکین کو کورونری سی ٹی اسکین کا نام اس وقت دیا جاتا ہے جب اس کا مقصد ان شریانوں کو دیکھنا ہو جو دل تک خون لے کر آتی ہیں۔
اسی ٹیسٹ کو کورونری کیلشیئم اسکین کا نام اس وقت دیا جاتا ہے جب یہ جانچنا مقصود ہو کہ دل میں کیلشیئم تو جمع نہیں ہو رہی ہے۔ڈاکٹر ز کسی بھی مریض کی ہارٹ سی ٹی اسکینگ کی ہدایت اس وقت کرتے ہیں جب انہیں دل کی حالت سے آگاہی مطلوب ہو۔ اس اسکیننگ کے ذریعہ ڈاکٹر ز بہت سی خرابیوں کا سراغ لگا سکتے ہیں مثلاً یہ دل میں کوئی پیدا ئشی بیماری یا پیدائشی نقائص یا شریانوں کے اندر چربیلے مادے (پلاک) کا جمع ہونا جس کی وجہ سے قلبی شریانیں بند ہو رہی ہوں اور دل کو مناسب مقدار میں خون نہ مل رہا ہو، دل کے چار ابتدائی خانوں میں نقائص یاز خم، دل کے خانوں کے اندر خون کی پھٹکیاں ہی دل میں یا دل کے اوپر رسولیاں۔
وہ لوگ جو دل کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ان کے لئے ہارٹ سی ٹی اسکین ایک عام ٹیسٹ ہے۔ اس کی مدد سے ڈاکٹر کو مریض کے دل کی ساخت اور آس پاس کی خون کی نالیوں کے معائنے کا موقع ملتا ہے اور اس کیلئے کسی قسم کی چیر پھاڑ یا جسم کے اندر کوئی نلکی وغیرہ داخل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ہے جیسا کہ انجیو گرافی یا انجیو گرام میں ہوتا ہے۔
ہارٹ سی ٹی اسکین میں خطرات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں جور نگدار مادہ یاڈائی استعمال کیا جاتا ہے اس میں آیوڈین ملا ہوتا ہے۔ یہ آیوڈین بعد میں گردوں کے ذریعہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر کسی مریض کے گردے کسی بیماری مثلا ذیا بیطس یا انفیکشن کی وجہ سے متاثر ہیں تو اسے اس ٹیسٹ کے بعد اضافی پانی یا مشروب پینا چاہئے تاکہ گردے اس ڈائی کو خارج کر دیں۔ تاہم اب کچھ نئی قسم کی ڈائیز آگئی ہیں جن میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ آیوڈین ملے مادوں سے کچھ لوگوں میں ہلکے، معتدل اور سنگین نوعیت کے رد عمل دیکھنے میں آسکتے ہیں۔معمولی ری ایکشن میں خارش اور جلد کا سرخ ہونا یا تمتمانا شامل ہے۔ معتدل قسم کے رد عمل میں جلد پر سرخ دھبے رو نما ہو سکتے ہیں۔
سنگین نوعیت کے ری ایکشن میں سانس لینے میں دشواری اور کارڈیک اریسٹ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔آیوڈین ملے مادے سے الرجی یا شدید ری ایکشن کا امکان ان لوگوں میں زیادہ ہو سکتا ہے جنہیں پہلے بھی اس سے ری ایکشن ہو چکا ہو یا چوبیس گھنٹے کے دوران انہیں اس ڈائی کی زیادہ مقدار دی جاچکی ہو۔ اس خطرے کو بڑھانے والے دیگر عوامل میں جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) درد دور کرنے والی دوائیوں (نان اسٹیر وئڈل انفلیمیٹری ڈر گھس) کا استعمال اور بعض امراض مثلا سیکل سیل انیمیا یا تھائی رائیڈ کی خرابیاں شامل ہیں۔ ہارٹ سی ٹی اسکین میں بھی دیگر ایکسریز کی طرح تابکار شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں۔
عام طور پر یہ شعاعیں بے ضرر ہوتی ہیں لیکن یہ مسئلہ خاص طور پر حاملہ خواتین یاماں بننے کی خواہش مند خواتین کیلئے بہت اہم ہے اور انہیں اس سے دور رہنا چاہئے۔ اگر چہ اس اسکیننگ میں تابکار مادہ بہت خفیف مقدار میں استعمال ہوتا ہے جو بالغ افراد کیلئے محفوظ سمجھا جاتا ہے لیکن شکم مادر میں پرورش پانے والے جنین کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔



