سرورققومی خبریں

دہلی کے سیلاب میں بڑا حادثہ: گراؤنڈ میں جمع بارش کے گہرے پانی میں ڈوب کر 3بچے ہلاک

دہلی سیلاب: افراتفری، آئی ٹی او،سپریم کورٹ لال قلعہ تک پانی جا گھسا

نئی دہلی ،14جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) شدید بارش اور سیلاب سے متاثر دہلی میں جمعہ کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ یہاں کے شمال مغربی ضلع کے مکند پور میں پانی میں ڈوبنے سے تین بچوں کی موت ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ 3 بجے کا بتایا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے نعشوں کو برآمد کرکے اسپتال بھیج دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ مکند پور میں ایک گراؤنڈ میں بارش کا پانی بھر گیا تھا۔ پانی کی گہرائی کافی تھی اور 3 بچے نہانے کے لیے اس میں کود گئے۔ان کی عمریں 12 سے 14 سال بتائی گئی ہیں۔ جیسے ہی یہ بچے پانی میں گئے تو کانسٹیبل نے بھی انہیں بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگا دی تاہم بچے دم توڑ گئے۔

تینوں بچوں کی نعشیں تھوڑی دیر بعد ہی نکالی گئیں۔ تینوں بچوں کی نعشیں نکال کر مقامی سرکاری اسپتال بھیج دی گئی ہیں۔ کیس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔بتایا گیا ہے کہ مکند پور میں ایک گراؤنڈ پانی سے بھر گیا تھا۔ بارش کے بعد یہ کافی بھرا ہوا تھا۔ اس میں تینوں بچے نہانے گئے تھے۔ تینوں بچے پانی میں کھیلتے ہوئے ڈوب گئے۔ ایک پولیس کانسٹیبل نے موقع پر پہنچ کر انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن تب تک بچوں کی موت ہو چکی تھی۔شدید بارش کی وجہ سے دہلی میں لوگوں کو چوکنا رہنے کو کہا گیا ہے۔

دہلی حکومت نے بتایا کہ تمام متعلقہ ضلع مجسٹریٹ، آئی اینڈ ایف سی محکمہ، دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ، دہلی پولیس اور دیگر محکمے سیلاب سے نمٹنے کے لیے الرٹ موڈ پر ہیں۔ ہم آہنگی مسلسل کی جا رہی ہے۔ این ڈی آر ایف کی 15 ٹیمیں دہلی میں تعینات کی گئی ہیں۔ این ڈی آر ایف نے اب تک 4346 لوگوں اور 179 مویشیوں کو بچایا ہے۔بارش کا پانی بھرنے کے خطرے کے پیش نظر انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں مقیم لوگوں کو بحفاظت باہر نکال لیا ہے۔ ان علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔ لوگوں کو سیلابی صورتحال سے آگاہ کر کے انہیں دستیاب کرایا جا رہا ہے۔ ایسی ہر جگہ پر پولیس اہلکار اور سی ڈی وی تعینات کر کے مشورہ دیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو ندی کے پانی سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

دہلی میں سیلاب سے بگڑی صورتحال، کجریوال نے فوج طلب کرلی

دہلی میں گزشتہ چار روز سے جمناندی خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔ دہلی میں سیلاب کی وجہ سے بگڑتی صورتحال کے درمیان وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے آئی ٹی او بیراج سے متعلق مسئلے کا حل نہ نکلنے پر کہا کہ ہم نے اس پر قابو پانے کے لیے فوج سے مدد مانگی ہے۔آئی ٹی او بیراج کا مسئلہ اور سیلاب کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے سلسلے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا کہ مختلف وجوہات کی وجہ سے پانی مختلف علاقوں میں داخل ہوا۔ ڈرین ریگولیٹر ٹوٹنے سے آئی ٹی او پر پانی آگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راج گھاٹ پر نالے سے پانی کے بیک فلو اور دیگر کئی مقامات پر اوور فلو ہونے سے جمنا ندی کا پانی رہائشی علاقوں میں چلا گیا۔جمنا کا پانی کئی مقامات پر اوور فلو کی وجہ سے رہائشی اور دیگر علاقوں میں داخل ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ اب دہلی کے لوگوں کو جمنا کے پانی سے راحت ملنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جلد راحت ملنی شروع ہو جائے گی، پانی آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے۔ کل جمنا کی آبی سطح 208.66 تک پہنچ گئی تھی۔

وہاں سے جمنا کا پانی 208.38 تک آگیا ہے۔ اب آہستہ آہستہ جیسے جیسے پانی نیچے آئے گا اسی حساب سے لوگوں کو راحت ملے گی۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خطرے کے بارے میں اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو خطرے سے آگاہ کرنے کا کام جاری ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ہماری ٹیمیں پوری رات آئی ٹی او بیراج پر کام کر رہی تھیں تاکہ ڈبلیو ایچ او کی عمارت کے قریب ڈرین نمبر 12 کے ریگولیٹر کو پہنچنے والے نقصان کو ٹھیک کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ انہوں نے فوج اور این ڈی آر ایف کی مدد لینے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اور کم وقت میں لوگوں کو پریشانی سے نجات دلائی جا سکے۔

دہلی سیلاب افراتفری، آئی ٹی او،سپریم کورٹ لال قلعہ تک پانی جا گھسا

دہلی میں دریائے جمنا کی آبی سطح بڑھنے کی وجہ سے کئی علاقوں میں حالات خراب ہو گئے ہیں۔ سیلابی پانی رہائشی علاقوں سے وی وی آئی پی علاقوں میں داخل ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ، وزراء کی رہائش گاہیں اور سیکرٹریٹ بھی سیلابی پانی کی زد میں آچکا ہے۔سیلابی پانی راج گھاٹ میں داخل ہوگیا ہے جو مقبرے تک پہنچ گیا ہے۔ ساتھ ہی سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button